“Aiwan-e-Sadr Mein Solah Saal” is an informative historical and political work published in July 1988 by Visionary Publications, Lahore. The book sheds light on key political events, governance, and experiences within the President’s House (Aiwan-e-Sadr) spanning a crucial sixteen-year period.
Aiwan-e-Sadr Mein Solah Saal | ایوانِ صدر میں سولہ سال
Author : Toobaa Book Foundation
یہ تعارف کتاب “ایوانِ صدر میں سولہ سال” کے دیباچے (جو نامور محقق و نقاد پروفیسر ڈاکٹر وحید قریشی کے قلم سے ۲ جون ۱۹۸۸ء کو لکھا گیا) پر مبنی ہے۔ اس دیباچے میں کتاب کے موضوع، مصنف کے اسلوب اور اس کی تاریخی اہمیت کو انتہائی جامع انداز میں اجاگر کیا گیا ہے:
۱. مصنف اور کتاب کا پس منظر
-
مصنف: یہ یادداشتیں جناب ایم۔ ب۔ خالد کی ہیں، جنہوں نے ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء کو ایوانِ صدر میں ملازمت اختیار کی اور ۱۹۶۸ء تک وہیں رہے۔
-
سنہ اشاعت: یہ اہم کتاب جولائی ۱۹۸۸ء میں ویژنری پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور سے شائع ہوئی۔
-
حاصل کردہ مقام: ایوانِ صدر کے اندر طویل عرصے تک مقیم رہنے اور اعلیٰ شخصیات کے قریب ہونے کی وجہ سے مصنف کو پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور تاریک دور کو قریب سے دیکھنے کے مواقع حاصل ہوئے۔
ڈون لوڈ لنک
۲. کتاب کی تاریخی اہمیت اور نوعیت
-
تاریخی دستاویز: یہ سولہ برس ہماری تاریخ کا ایک تاریک ترین باب ہیں، اور چونکہ اس دور میں حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ ریکارڈ عام سامنے لانا ممکن نہیں تھا، اس لیے ایم۔ ب۔ خالد کی یہ یادداشتیں سرکاری دستاویزات پر ایک “بصیفرانہ” پردے کی طرح ٹنگی رہی ہیں۔
-
معاصر شہادتیں: تاریخ کو صرف حاکموں کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے اندرونی حالات، شخصیات کے رویوں اور چشم دید واقعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کتاب مورخین کو تاریخ کے نقوش اور پس پردہ حقائق جانچنے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
۳. مصنف کا منفرد اسلوب اور تجزیہ
-
بے باک اور سچا بیان: مصنف نے واقعات کو چھپانے یا مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے انتہائی سچائی اور بے باکی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
-
کردار نگاری: کتاب میں صرف بڑے کرداروں ہی کو نہیں بلکہ چھوٹے کرداروں اور ایوانِ صدر کے معمولات (جیسے رشوت ستانی، لوٹ کھسوٹ، اور سیاسی جوڑ توڑ) کو بھی نڈر ہو کر بے نقاب کیا گیا ہے۔
-
زبان و بیان: ایم۔ ب۔ خالد کا اسلوبِ بیان طنزیہ، ظریفانہ اور گہرے مشاہدے کا آئینہ دار ہے، جس میں حکمرانوں کی منافقت اور اقتدار کی کشمکش کو جاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
۴. نمایاں تاریخی واقعات و شخصیات کا احاطہ
دیباچے کے مطابق کتاب میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی کئی اہم شخصیات اور پوشیدہ حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں شامل ہیں:
-
قائدِ اعظم کی وفات کے بعد کے حالات اور ایوانِ صدر کی اندرونی ڈرامائی فضا۔
-
خواجہ ناظم الدین، غلام محمد، سکندر مرزا، اور جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت کے وہ پوشیدہ واقعات جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتے۔
-
۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بعض ان کہی اور دلچسپ تفصیلات۔
۵. اختتامیہ (مورخین کے لیے ایک تحفہ)
ڈاکٹر وحید قریشی دیباچے کے آخر میں رقم کرتے ہیں کہ ایم۔ ب۔ خالد نے مورخین کو آئینہ دکھایا ہے اور اگرچہ وہ خود پیشہ ور مورخ نہیں تھے، لیکن انہوں نے تاریخ کے اس فراموش شدہ باب کو قلمبند کر کے تاریخی سرمائے میں ایک گراں قدر اور اہم اضافہ کیا ہے۔
ڈون لوڈ لنک
ڈون لوڈ لنک
| BOOK NAME | |
|---|---|
| BOOK AUTHOR | |
| LIBRARY SECTION | Pakistani Political History & Memoirs | پاکستانی سیاسی تاریخ اور سوانح |
| TOPIC | |
| SUBJECT | |
| RESOURCE TYPE | Political & Historical Book | سیاسی اور تاریخی کتاب |
Customer Reviews
There are no reviews yet.










Be the first to review “Aiwan-e-Sadr Mein Solah Saal | ایوانِ صدر میں سولہ سال”