banner
POTHWARI BOOKS
ENGLISH BOOKS
PlayPause
previous arrow
next arrow
 
Shadow

RECENTBOOKS

  • Title: Azmat-e-Rafta | عظمتِ رفتہ

    Azmat-e-Rafta | عظمتِ رفتہ برصغیر کے معروف مورخ ضیاء الدین احمد برنی کی تاریخی فکر اور مشاہدات پر مبنی ایک اہم تصنیف ہے، جس میں ماضی کی عظیم تہذیبوں، حکمرانوں، علمی روایات اور اسلامی معاشرت کے درخشاں ادوار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد تاریخ کے روشن ابواب کو اجاگر کرنا اور ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے اقوام کے عروج و زوال میں کردار ادا کیا۔

    مصنف نے تاریخی واقعات، سیاسی تبدیلیوں، علمی ترقیات اور معاشرتی اقدار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ قوموں کی عظمت محض مادی قوت سے نہیں بلکہ علم، عدل، اخلاق اور مضبوط اجتماعی کردار سے وابستہ ہوتی ہے۔ کتاب میں اسلامی تہذیب کے سنہری ادوار اور ان کی نمایاں خصوصیات کو بھی مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    عظمتِ رفتہ تاریخ، اسلامی تہذیب، سیاسیات، تمدنی مطالعات اور فکری ادب میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ تصنیف ماضی کے تجربات کی روشنی میں حال اور مستقبل کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

  • Aur Okhay Log | اور اوکھے لوگ

    Aur Okhay Log | اور اوکھے لوگ اردو کے ممتاز ادیب، ناول نگار اور خاکہ نگار ممتاز مفتی کی ایک اہم ادبی تصنیف ہے، جس میں مصنف نے اپنی ملاقاتوں، مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں مختلف غیر معمولی اور یادگار شخصیات کے خاکے پیش کیے ہیں۔ یہ کتاب محض شخصی خاکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور ادبی دنیا کے دلچسپ پہلوؤں کی عکاس بھی ہے۔

    ممتاز مفتی اپنے منفرد اسلوب، بے باک اظہار اور گہرے مشاہدے کے لیے مشہور ہیں۔ اس کتاب میں شامل خاکے قاری کو ان شخصیات کے ظاہر و باطن، عادات و اطوار اور فکری جہات سے روشناس کراتے ہیں۔ مصنف نے کردار نگاری اور واقعات نگاری کو نہایت دلکش انداز میں یکجا کیا ہے، جس سے ہر خاکہ ایک مکمل ادبی تجربہ بن جاتا ہے۔

    اور اوکھے لوگ اردو ادب، خاکہ نگاری، یادداشتوں اور ادبی شخصیات کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے، جو نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ انسانی کرداروں کو سمجھنے کا ایک منفرد زاویہ بھی عطا کرتی ہے۔

  • Sau Bade Aadmi | سو بڑے آدمی

    سو بڑے آدمی معروف مصنف سیموئل نیسنسن کی ایک معلوماتی اور تاریخی تصنیف ہے، جس میں انسانی تاریخ کی ایک سو ممتاز اور بااثر شخصیات کے سوانحی خاکے پیش کیے گئے ہیں۔ کتاب میں مذہبی، سیاسی، عسکری، ادبی، سائنسی اور سماجی میدانوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے حالاتِ زندگی اور ان کے نمایاں کارناموں کو مختصر مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    اس کتاب میں انبیائے کرامؑ، مصلحین، فاتحین، سائنس دانوں، مفکرین، ادیبوں اور عالمی رہنماؤں کا تذکرہ شامل ہے۔ مصنف نے ہر شخصیت کے تاریخی اثرات اور خدمات کو آسان اسلوب میں پیش کیا ہے، جس سے قاری کو عالمی تاریخ اور تہذیب کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

    اردو ترجمہ عبدالمجید سالک نے کیا، جس کی بدولت یہ کتاب اردو قارئین کے لیے بھی یکساں طور پر مفید اور دلچسپ بن گئی۔ تاریخ، سوانح، عالمی شخصیات اور عمومی معلومات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک اہم حوالہ جاتی کتاب ہے۔

  • Kutub Khana | کتب خانہ

    Library History, Book Culture & Literary Research | تاریخِ کتب خانہ، کتابی ثقافت اور ادبی تحقیق

    کتب خانہ معروف صحافی، براڈکاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی کی ایک منفرد اور یادگار تصنیف ہے، جو دراصل بی بی سی اردو کے مشہور ریڈیو پروگرام “کتب خانہ” پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں موجود نایاب کتب خانوں، ذاتی ذخائرِ کتب اور علمی مراکز کا دلچسپ اور معلوماتی تعارف پیش کیا گیا ہے۔

    مصنف نے کتابوں سے محبت کرنے والوں، محققین، کتب فروشوں اور علمی شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا کو قارئین کے سامنے رکھا ہے جو نادر مخطوطات، قدیم کتابوں اور علمی ورثے سے مالا مال ہے۔ کتاب کے چوبیس ابواب میں مختلف مقامات پر موجود نایاب کتابی ذخائر اور ان کی تاریخ کو دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    کتب خانہ صرف کتب خانوں کا تعارف نہیں بلکہ برصغیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا ایک زندہ دستاویز بھی ہے۔ کتابوں، لائبریریوں، مخطوطات، اردو ادب اور ثقافتی ورثے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک نہایت قیمتی اور دلچسپ مطالعہ ہے۔

  • Hindustani Muashra Ahd-e-Wusta Mein | ہندوستانی معاشرہ عہدِ وسطیٰ میں

    ہندوستانی معاشرہ عہدِ وسطیٰ میں معروف مؤرخ، محقق اور سماجی مفکر کنور محمد اشرف کی ایک اہم تاریخی و سماجی تصنیف ہے، جس میں عہدِ وسطیٰ کے ہندوستانی معاشرے کی ساخت، سماجی طبقات، معاشی نظام، مذہبی رجحانات، ثقافتی روایات اور سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    مصنف نے تاریخی ماخذ، سرکاری دستاویزات، سفرناموں اور معاصر روایات کی روشنی میں ہندوستان کے مسلم اور غیر مسلم معاشرے کے باہمی تعلقات، طبقاتی تقسیم، جاگیرداری نظام، شہری زندگی، دیہی معیشت اور تہذیبی ارتقاء کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے۔ کتاب عہدِ وسطیٰ کے ہندوستان کی سماجی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ کتاب تاریخِ ہند، سماجی علوم، تہذیبی مطالعات، اسلامی تاریخ اور جنوبی ایشیائی معاشرت کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Diyar-e-Habib Mein Chand Roz | دیارِ حبیب میں چند روز

    دیارِ حبیب میں چند روز حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ کی ایک روح پرور سفری و روحانی تصنیف ہے، جس میں حرمین شریفین، حج و عمرہ کے مشاہدات، عشقِ رسول ﷺ، روحانی کیفیات اور اسلامی مقدسات سے وابستہ احساسات کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات، عبادات کے اثرات اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کی روحانی فضا کا تذکرہ کیا ہے، جو قاری کے دل میں عقیدت و محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔

    یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، عشقِ نبوی ﷺ اور اصلاحِ باطن کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ سلسلۂ نقشبندیہ اویسیہ کے معروف شیخ، مفسر اور روحانی راہنما تھے، جن کی تصانیف اور دروس نے ہزاروں افراد کی فکری و روحانی تربیت میں کردار ادا کیا۔

    حج، عمرہ، اسلامی سفرناموں، روحانی ادب اور سیرتِ نبوی ﷺ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب نہایت مفید اور ایمان افروز مطالعہ ہے۔

  • Gulistan-e-Alfaz-o-Ma’ani | گلستانِ الفاظ و معانی

    گلستانِ الفاظ و معانی معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم کی ایک منفرد علمی و لسانی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں الفاظ کی اصل، ان کے سفر، مختلف زبانوں میں ان کی منتقلی، معنوی تبدیلیوں اور تہذیبی اثرات کو نہایت دلچسپ اور تحقیقی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    مصنف نے واضح کیا ہے کہ جس طرح انسان مختلف علاقوں اور تہذیبوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی طرح الفاظ بھی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہو کر نئے رنگ اور معانی اختیار کرتے ہیں۔ کتاب زبان، ثقافت اور تاریخ کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اردو، عربی اور فارسی الفاظ کے ارتقاء پر مفید معلومات پیش کرتی ہے۔

    ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم ہیں اور عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے ان کی خدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی اور زبان کے ارتقاء میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم

    Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم اردو زبان، الفاظ کی تاریخ، ان کے معنوی ارتقاء اور لسانی پس منظر پر ایک منفرد اور اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد حسن قادری ہیں، جبکہ اسے معروف ماہرِ لسانیات اور لغت نگار ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب و مدون کیا۔ کتاب 2022 میں شائع ہوئی اور اردو زبان و ادب کے حلقوں میں خاص توجہ حاصل کی۔

    اس کتاب میں اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں سے اردو میں آنے والے الفاظ کی اصل، ان کے استعمال، تاریخی سفر اور معنوی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے الفاظ کی دنیا کو نہایت دلچسپ، تحقیقی اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری زبان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر رؤف پاریکھ، جو اردو کے ممتاز لغت نگار اور ماہرِ لسانیات ہیں، نے اس مسودے کو مرتب کرکے شائع کروایا۔ ان کے مطابق کتاب کا مسودہ محفوظ تھا جسے بعد ازاں الفاظ کا طلسم کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کیا گیا۔

    یہ کتاب اردو زبان، لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی، ادبیات اور زبان کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ

    مولوی احمد دین پنجاب کے بہت اچھے انشاء پردازوں میں سے تھے۔ان کی مشہور کتاب سر گزشت الفاظ پر پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی نے ان کو انعام دیا تھا،اور علامہ نے اس پر ایک تقریب نامہ بھی لکھا تھا۔ احمد دین کولفظی تحقیقات سے خاص دلچسپی تھی۔ انھوں نے اس کتاب کی داغ بیل 1901ء میں ڈالی تھی جب کہ مطالعۂ الفاظ کے عنوان سے ان کا ایک مقالہ دو قسطوں میں مخزن میں شائع ہوا تھا، یہ مقالہ بعد میں قدرے ترمیم کے ساتھ سرگذشتِ الفاظ میں شامل کیا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ 1901ء میں جو کام انھوں نے شروع کیا تھا، وہ بائیس برس کے بعد سر گذشتِ الفاظ کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ احمد دین نے دیباچے میں بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب میں پادری ٹرنچ کی کتاب مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کیا ہے۔ دراصل احمد دین کی کتاب کا پورا ڈھانچا وہی ہے جو ٹرنچ کی کتاب کا ہے۔ سرگذشتِ الفاظ کے تمام مطالب، ٹرنچ ہی کی صدائے بازگشت ہیں۔مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کہیں لفظی ترجمے کی صورت میں کیا گیا ہے، اور کہیں ٹرنچ کے خیالات کو قدرے مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دونو ں کتابوں کے ابواب کی تقسیم اور مطالب کی ترتیب یکساں ہے۔ یہاں تک کہ ابواب کے عنوانات بھی یکساں ہیں۔ ٹرنچ کی کتاب کے تمام نظریاتی مباحث سرگذشتِ الفاظ میں موجود ہیں۔ یہ ایک فائدے مند کتاب ہے جہاں لفظوں کے روٹس سے بہتر واقفیت ہوجاتی ہے۔

    Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ اردو زبان، لسانیات اور علمِ الفاظ پر ایک دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے، جسے احمد دین بی اے نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں مختلف اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے الفاظ کی اصل، ارتقاء، معنوی تبدیلیوں اور تاریخی پس منظر کو آسان اور دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    مصنف نے الفاظ کی تاریخ، ان کے سفر، مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے باہمی اثرات، اور زبان کی تشکیل میں الفاظ کے کردار کو تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کس طرح مختلف ادوار سے گزر کر اپنی موجودہ شکل اور معنی تک پہنچے۔

    سرگزشتِ الفاظ زبان و ادب کے طلبہ، محققین، اساتذہ اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، اردو لغت اور زبان کی تاریخ کے مطالعے میں اہم معاون ثابت ہوتی ہے۔

Pothwari Books

Englsih Books

PHD THESIS Books

HISTORY Books

ISLAMIC Books

Quranyaat Books

Tasawuff Books

Biography Books

Quran exegesis (Urdu Tafsir)

URDU TAFASEER

MOTIVATIONAL BOOKS

AL-NADWA LIBRARY BOOKS

History of Pothohar BOOKS

Sirat-Un-Nabi BOOKS