banner
POTHWARI BOOKS
ENGLISH BOOKS
PlayPause
previous arrow
next arrow
 
Shadow

RECENTBOOKS

  • Ashrafia Aur Awam | اشرافیہ اور عوام

    یک ایسی کتاب جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے: فکری و سیاسی سفر کا آئینہ

    کیا آپ نے کبھی ایسے معاشرتی اور سیاسی تضادات کو قریب سے دیکھا ہے جو ہمارے نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ تاریخ کے جھروکوں سے لے کر آج کے جدید دور تک، ہمارے سیاسی رویوں اور معاشرتی ڈھانچے میں کیا کچھ بدل رہا ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات آپ کو متجسس کرتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک لازمی اور فکری مطالعہ ہے۔
    یہ تحریریں محض چند صفحات کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے دور کی سچی عکاسی، دردِ دل اور فکری بصیرت کا ایک ایسا مرقع ہیں جو قاری کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس کے ہر ورق پر حقائق کی ایسی نقاب کشائی کی گئی ہے کہ آپ خود کو صفحات کے ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کریں گے۔ قلم کی شگفتگی اور جاندار اندازِ بیان قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

    ڈون لوڈ لنک

  • Aiwan-e-Sadr Mein Solah Saal | ایوانِ صدر میں سولہ سال

    یہ تعارف کتاب “ایوانِ صدر میں سولہ سال” کے دیباچے (جو نامور محقق و نقاد پروفیسر ڈاکٹر وحید قریشی کے قلم سے ۲ جون ۱۹۸۸ء کو لکھا گیا) پر مبنی ہے۔ اس دیباچے میں کتاب کے موضوع، مصنف کے اسلوب اور اس کی تاریخی اہمیت کو انتہائی جامع انداز میں اجاگر کیا گیا ہے:

    ۱. مصنف اور کتاب کا پس منظر

    • مصنف: یہ یادداشتیں جناب ایم۔ ب۔ خالد کی ہیں، جنہوں نے ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء کو ایوانِ صدر میں ملازمت اختیار کی اور ۱۹۶۸ء تک وہیں رہے۔
    • سنہ اشاعت: یہ اہم کتاب جولائی ۱۹۸۸ء میں ویژنری پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لاہور سے شائع ہوئی۔
    • حاصل کردہ مقام: ایوانِ صدر کے اندر طویل عرصے تک مقیم رہنے اور اعلیٰ شخصیات کے قریب ہونے کی وجہ سے مصنف کو پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور تاریک دور کو قریب سے دیکھنے کے مواقع حاصل ہوئے۔
      ڈون لوڈ لنک

    ۲. کتاب کی تاریخی اہمیت اور نوعیت

    • تاریخی دستاویز: یہ سولہ برس ہماری تاریخ کا ایک تاریک ترین باب ہیں، اور چونکہ اس دور میں حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ ریکارڈ عام سامنے لانا ممکن نہیں تھا، اس لیے ایم۔ ب۔ خالد کی یہ یادداشتیں سرکاری دستاویزات پر ایک “بصیفرانہ” پردے کی طرح ٹنگی رہی ہیں۔
    • معاصر شہادتیں: تاریخ کو صرف حاکموں کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے اندرونی حالات، شخصیات کے رویوں اور چشم دید واقعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کتاب مورخین کو تاریخ کے نقوش اور پس پردہ حقائق جانچنے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

    ۳. مصنف کا منفرد اسلوب اور تجزیہ

    • بے باک اور سچا بیان: مصنف نے واقعات کو چھپانے یا مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے انتہائی سچائی اور بے باکی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
    • کردار نگاری: کتاب میں صرف بڑے کرداروں ہی کو نہیں بلکہ چھوٹے کرداروں اور ایوانِ صدر کے معمولات (جیسے رشوت ستانی، لوٹ کھسوٹ، اور سیاسی جوڑ توڑ) کو بھی نڈر ہو کر بے نقاب کیا گیا ہے۔
    • زبان و بیان: ایم۔ ب۔ خالد کا اسلوبِ بیان طنزیہ، ظریفانہ اور گہرے مشاہدے کا آئینہ دار ہے، جس میں حکمرانوں کی منافقت اور اقتدار کی کشمکش کو جاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    ۴. نمایاں تاریخی واقعات و شخصیات کا احاطہ

    دیباچے کے مطابق کتاب میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی کئی اہم شخصیات اور پوشیدہ حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں شامل ہیں:
    • قائدِ اعظم کی وفات کے بعد کے حالات اور ایوانِ صدر کی اندرونی ڈرامائی فضا۔
    • خواجہ ناظم الدین، غلام محمد، سکندر مرزا، اور جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت کے وہ پوشیدہ واقعات جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتے۔
    • ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بعض ان کہی اور دلچسپ تفصیلات۔

    ۵. اختتامیہ (مورخین کے لیے ایک تحفہ)

    ڈاکٹر وحید قریشی دیباچے کے آخر میں رقم کرتے ہیں کہ ایم۔ ب۔ خالد نے مورخین کو آئینہ دکھایا ہے اور اگرچہ وہ خود پیشہ ور مورخ نہیں تھے، لیکن انہوں نے تاریخ کے اس فراموش شدہ باب کو قلمبند کر کے تاریخی سرمائے میں ایک گراں قدر اور اہم اضافہ کیا ہے۔
    ڈون  لوڈ لنک
  • Parveen Shakir: Fikr-o-Fan | پروین شاکر: فکروفن

    “پروین شاکر: فکروفن” ڈاکٹر فرحت یاسمین کی تصنیف کردہ ایک اہم تنقیدی کتاب ہے جسے ۲۰۱۳ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب میں معروف اور مایہ ناز اردو شاعرہ پروین شاکر کی شاعری، فکری رجحانات، نسوانی جذبات اور ان کے فنی کمالات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

  • Mian Muhammad Bakhsh | میاں محمد بخش

    “میاں محمد بخش: شخصیت اور فن” غلام حسین اظہر کی تصنیف کردہ ایک اہم تنقیدی اور سوانحی کتاب ہے جسے کتب مینار، لاہور نے شائع کیا ہے. اس کتاب میں عظیم صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش (رح) کی حیات، شخصیت اور ان کے لازوال کلاسیکی شاہکار “سیف الملوک” سمیت ان کی شاعری کے فکری و فنی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے.

  • Ahmad Siddiq Majnoon Shakhsiyat Aur Fan (احمد صدیق مجنوں شخصیت اور فن) | احمد صدیق مجنوں شخصیت اور فن

    کتاب: احمد صدیق مجنوںؔ: شخصیت اور فن
    مصنفہ: ڈاکٹر بشریٰ رحمن
    ناشر: صدیق الرحمن (صدر: الھدیٰ ویلفیئر ایسوسی ایشن، گورکھپور)

    تعارفِ کتاب

    “احمد صدیق مجنوںؔ: شخصیت اور فن” معروف نقاد، ادیب اور محقق احمد صدیق مجنوں گورکھپوری کی حیات، ادبی خدمات اور فکری جہات پر ڈاکٹر بشریٰ رحمن کا ایک وقیع اور جامع تحقیقی مقالہ ہے۔ شوکت تھانوی نے مجنوں گورکھپوری کو “ڈیڑھ چھٹانک کا آدمی اور اردو ادب کا انسائیکلوپیڈیا” قرار دیا تھا، جو ان کے علمی قد کاٹھ کا واضح ثبوت ہے۔
    مصنفہ نے “حرفِ آغاز” میں مجنوں صاحب کی ابتدائی تعلیم، ادبی پس منظر، اور ان کی علمی و تدریسی زندگی کے مختلف مراحل کا احاطہ کیا ہے:
    • ابتدائی دور اور تعلیم: آپ کا جنم پلیدہ (بستی) میں ہوا اور مٹھیریا میں پلے بڑھے۔ ۱۲ برس کی عمر میں گورکھپور آئے جہاں دادا اور دادی کی محبت و تربیت نے ان میں عربی، فارسی اور اردو کا اعلیٰ ذوق پیدا کیا۔
    • تدریسی و ادبی خدمات: ۱۹۳۵ء میں اسلامیہ انٹر کالج اور بعد ازاں سینٹ اینڈریوز پوسٹ گریجویٹ کالج میں تدریسی فرائض انجام دیے جہاں طلبہ کے ساتھ ان کا شفقت اور وقار کا رشتہ قابلِ دید تھا۔ بعد میں ۱۹۵۸ء میں شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر کراچی یونیورسٹی (پاکستان) سے وابستہ رہے، جہاں انہیں اعزازی پروفیسر شپ سے بھی نوازا گیا۔
    • تحقیقی مواد اور معاونین: کتاب کی تیاری میں فیّاض صاحب، مسیح الزماں شبنم گورکھپوری، حفیظ انیس الرحمن، میجر صدیق الرحمن اور مجنوں صاحب کے بھانجے احمد سعید صاحب نے اہم خاندانی و تحریری مواد فراہم کیا، جبکہ کتاب کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے قلم سے لکھا گیا۔یہ کتاب مجنوں گورکھپوری کے ان مٹ نقوش، ان کی تنقیدی بصیرت اور داستانِ حیات کو جاننے کے لیے محققین اور شائقینِ ادب کے لیے ایک بیش قیمت دستاویز ہے۔
  • ظہورِ ہدایت / چراغِ ہدایت | Zuhur-e Hidayat / Chiragh-e Hidayat

    “ظہورِ ہدایت” (معروف بہ چراغِ ہدایت) پیر ظہور شاہ صاحب قادری بخاری سجا دہ نشین جلال پور جٹاں اور حاجی میاں چراغ دین جنیکے والا کی مشترکہ یا نسبتاً منسوب تصنیف و تالیف ہے، جو پیاری پیاری طرزوں پر نعتیہ کلام اور دینی و روحانی اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب نعت و منقبت اور صوفیانہ لٹریچر کا ایک دلکش مجموعہ ہے۔

  • Jadeediyat Ya Maghribi Gumrahion Ki Tarikh Ka Khaka | جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ

    کتاب: جدیدیت

    مصنف: محمد حسن عسکری

    ناشر: ادارہ فروغ اسلام، لاہور

    اشاعت: بارِ اول (اکتوبر ۱۹۹۷ء)

    تعداد: ۱۱۰۰

    تعارفِ کتاب

    “جدیدیت” اردو ادب کے نامور نقاد، مفکر اور ادیب محمد حسن عسکری کی ایک معرکہ آرا اور فکری تصنیف ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے مغرب کے فکری و فلسفیانہ ارتقا اور بالخصوص جدیدیت (Modernity) کے بنیادی محرکات، اثرات اور تاریخی سفر کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔

    حسن عسکری نے یورپی فکر اور تہذیب کے ادوار—یونانی اور رومی دور سے لے کر نشاۃ ثانیہ، عقل پرستی، انقلابِ فرانس اور بیسویں صدی تک—کا گہرائی سے مطالعہ کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مغربی دنیا کس طرح روایتی مابعد الطبیعیاتی اقدار سے دور ہو کر جدید گمراہیوں اور ذہنی انحطاط کا شکار ہوئی۔ مشرقی اور اسلامی فکر کے تناظر میں جدید مغربی تصورات کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی اور اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

    فہرستِ مضامین

    • نئی اور پرانی گمراہیاں

    • یورپ کے ذہنی انحطاط کی تاریخ

    • یونانی دور

    • رومی دور

    • ازمنۂ وسطیٰ: عیسوی دور

    • نشاۃ ثانیہ: جدیدیت کا آغاز

    • عقلیت پرستی کا دور

    • انقلابِ فرانس

    • انیسویں صدی

    • بیسویں صدی

    • مغربی تصورات

    “جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ” اردو کے مایہ ناز ناقد، مفکر اور ادیب محمد حسن عسکری کی ایک فکری اور تنقیدی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں جدیدیت، مغربی فلسفے اور فکری رجحانات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، جو قارئین کو مغرب کے فکری ارتقا اور اس کے اثرات کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

  • Attached

    Attached: The New Science of Adult Attachment and How It Can Help You Find (and Keep) Love by Amir Levine examines the topic of adult attachment. From compelling anecdotes and empirical documentation, it identifies distinct types of attachment and suggests ways to negotiate more effective relationships. Truly must-read for anybody interested in the workings of love and their relationships.

  • Never Split the Difference

    Chris Voss’ Never Split the Difference is one of the best  books on negotiation for those, willing to learn from the best, as the author used to work as an FBI hostage negotiator. Read and learn proven techniques and psychological strategies how to turn the tables for your benefit in all imaginable negotiations. A valuable guide to read for anyone who wants to step up their communication and persuasion skills.

  • Self Determining Haiti

    Banks, military authority and national independence meet in James Weldon Johnson’s account of the American occupation of Haiti. This pamphlet brings together four articles published in The Nation in 1920, based on his investigation, alongside official documents. Johnson challenges the stated reasons for intervention and traces the diplomatic pressure, control of customs revenue and constitutional changes through which he argues Haiti lost command of its own affairs.

    Alongside that political argument are observations of Port-au-Prince: its cathedral, cafes, markets, residential streets and educated social circles. Johnson names Haitian writers and describes public discussion and country women walking toward town markets. These scenes support his defense of Haitian society against dismissive outside judgments.

  • Self-knowledge

    Self-knowledge for  Spiritual Awakening is truly a dazzling journey of self-discovery as the foundation for genuine transformation within oneself and the world. It will give you a majestic understanding of the psyche’s multi-dimensional aspects, surpassing the boundaries of contemporary scientific comprehension

  • Let Go Now: Embracing Detachment PDF

    “Let Go Now: Embracing Detachment” کیرین کیسی کی ایک مشہور خود-بہتری اور روحانی رہنمائی پر مبنی کتاب ہے، جو قارئین کو ذاتی حدود (Boundaries) مقرر کرنے، وابستگیوں کو چھوڑنے اور اپنی زندگی کو اپنے قابو میں رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ کتاب ذہنی سکون، داخلی توازن اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے ایک بہترین عملی گائیڈ ہے۔

  • Chehel Majlis|چہل مجلس

    ’چہل مجلس‘ تصوف کے متلاشیوں، محققین اور اہلِ دل کے لیے ایک چشمۂ فیض ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے کو فکری بھٹکاؤ اور باطنی فریب سے نکال کر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور تنزیہہ کے سامنے سرنگوں کرتی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی میں پاکیزگیِ لقمہ، صدقِ مقال اور اتباعِ مصطفوی ﷺ کی راہ پر گامزن رہنے کا سبق دیتی ہے۔

    تعارفِ کتاب: ’چہل مجلس‘

    (ملفوظات و معارف: عارفِ باللہ حضرت شیخ احمد علاءالدولہ سمنانی قدس سرہ)
    تصوف و طریقت کی تاریخ میں ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کو ایک خاص فکری، علمی اور روحانی امتیاز حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عالمِ اسلام کو ایک طرف فتنۂ تاتار کے المیے کا سامنا تھا اور دوسری جانب تصوف میں نظری و فکری مباحث، بالخصوص وحدت الوجود اور احکامِ شریعت کی تعبیرات پر گہرے علمی مناظرے عروج پر تھے۔ اسی دور ساز عہد کی ایک عبقری، ہمہ جہت اور تاریخ ساز شخصیت کا نام حضرت شیخ احمد بن محمد بیابانک علاءالدولہ سمنانی (۶۵۹ھ – ۷۳۶ھ) ہے۔
    شیخ علاءالدولہ سمنانی رحمة اللہ علیہ نہ صرف کبرویہ ذہبیہ طریقت کے جلیل القدر مرشد، مصلح اور صاحبِ حال عارف تھے، بلکہ تصوفِ معتدل، پابندیِ سنت اور اتباعِ شریعت کے عظیم علمبردار بھی تھے۔ انہوں نے درباری جاہ و جلال، امارت اور مناصب کو ٹھکرا کر خانقاہی خلوت، فقر، مجاہدہ اور تزکیۂ نفس کی راہ چنی اور سمنان کے مضافات میں صوفی آباد (خداداد) کو روحانی و علمی انقلاب کا مرکز بنایا۔

    کتاب کا پس منظر اور نوعیت

    ’چہل مجلس‘ دراصل حضرت شیخ علاءالدولہ سمنانی کے ارشادات، مجالس کے احوال، باطنی مکاشفات اور علمی ارشادات کا وہ نادر و گرانقدر مجموعہ ہے جسے ان کے مریدِ خاص اور معتمد رفیق اقبال بن سابق سیستانی نے چالیس مجالس کے عنوان سے بڑی باریک بینی، عقیدت اور امانت داری کے ساتھ قلم بند کیا۔
    فارسی تصوف کے ملفوظاتی ادب میں اس کتاب کو وہی تاریخی اور استنادی مقام حاصل ہے جو برصغیر میں حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات ’فوائد الفواد‘ کو ملا۔ یہ کتاب محض روایتی اور خیالی حکایات کا دفتر نہیں، بلکہ یہ ایک کامل مرشد کے شب و روز کی عینی شہادت، سالکینِ راہِ حق کی عملی تربیت کا منشور اور اس دور کی علمی، دینی اور فکری تحریکوں کا جیتا جاگتا دستاویزی ثبوت ہے۔

    کتاب کے بنیادی مباحث و امتیازات

    ۱. شریعت و طریقت کی ہم آہنگی:
    کتاب کا سب سے بنیادی اور روشن پہلو احکامِ شرعیہ کی پاسداری اور اتباعِ سنت پر اصرار ہے۔ شیخ سمنانی واضح فرماتے ہیں کہ شریعت سے انحراف کر کے کوئی بھی شخص تصوف کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان کے نزدیک ہر وہ کیفیت، وجد یا مکاشفہ جو کتاب و سنت کے پیمانے پر پورا نہ اترے، وہ قابلِ التفات نہیں ہے۔
    ۲. توحیدِ وجودی اور توحیدِ شہودی کا علمی جائزہ:
    ’چہل مجلس‘ اور اس کے تعارفی مکاتیب میں شیخ محیی الدین ابنِ عربی کے نظریۂ وحدت الوجود پر شیخ علاءالدولہ سمنانی اور شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشانی کے درمیان چلنے والے معرکتہ الآراء مناظرے اور فکری خط و کتابت کا عمیق بیان ملتا ہے۔ شیخ سمنانی نے وجودی نظریے کی غلو آمیز تعبیرات کا کھل کر رد کیا اور مقامِ تنزیہہ کو برقرار رکھتے ہوئے ’وحدت الشہود‘ کی وہ مضبوط بنیاد رکھی جس کی تجدید آگے چل کر امامِ ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ نے فرمائی۔
    ۳. سلوک کے عملی مدارج کی تحقیق:
    اس کتاب میں علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین کے مراتب، لطائفِ سبعہ (باطنی لطائف)، اور دل کے طواف و حجِ باطنی کے باریک اسرار کو جس دلنشین اور قرآنی استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے، وہ سالکینِ طریقت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
    ۴. سماجی خدمت اور عمل پر زور:
    شیخ سمنانی نے بیکاری، سستی اور کاہلی کے زہد کو شیطانی فریب قرار دیا ہے۔ ’چہل مجلس‘ میں زمین کی آباد کاری، کنوؤں اور نہروں (کاریز) کی کھدائی، محنت مزدوری اور خلقِ خدا کی نفع رسانی کو عین عبادت اور روحانی ترقی کا زینہ ثابت کیا گیا ہے۔
    ۵. اکابرین کے ساتھ روابط و علمی مباحث:
    اس تصنیف میں شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرایینی، خواجہ یوسف ہمدانی، شیخ ابو الحسن خرقانی، شیخ ابو سعید ابو الخیر اور دیگر اکابرینِ امت کے افکار، احوال اور ان سے وابستہ باطنی تجربات کو نہایت وقیع انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔

    حاصلِ کلام

    ’چہل مجلس‘ تصوف کے متلاشیوں، محققین اور اہلِ دل کے لیے ایک چشمۂ فیض ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے کو فکری بھٹکاؤ اور باطنی فریب سے نکال کر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور تنزیہہ کے سامنے سرنگوں کرتی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی میں پاکیزگیِ لقمہ، صدقِ مقال اور اتباعِ مصطفوی ﷺ کی راہ پر گامزن رہنے کا سبق دیتی ہے۔

    اس کا سلیس، محققانہ اور اصل متون سے مزین اردو ترجمہ یقیناً معارفِ تصوف کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گراں قدر علمی تحفہ اور تاریخی دستاویزی سرمایہ ہے۔
    تصوف پر مزید کتب ڈون لوڈ کرنے کے لئے لفظ تصوف پر کلک کریں

Pothwari Books

Englsih Books

PHD THESIS Books

HISTORY Books

ISLAMIC Books

Quranyaat Books

Tasawuff Books

Biography Books

Quran exegesis (Urdu Tafsir)

URDU TAFASEER

MOTIVATIONAL BOOKS

AL-NADWA LIBRARY BOOKS

History of Pothohar BOOKS

Sirat-Un-Nabi BOOKS