banner
POTHWARI BOOKS
ENGLISH BOOKS
PlayPause
previous arrow
next arrow
 
Shadow

RECENTBOOKS

  • Hindustani Muashra Ahd-e-Wusta Mein | ہندوستانی معاشرہ عہدِ وسطیٰ میں

    ہندوستانی معاشرہ عہدِ وسطیٰ میں معروف مؤرخ، محقق اور سماجی مفکر کنور محمد اشرف کی ایک اہم تاریخی و سماجی تصنیف ہے، جس میں عہدِ وسطیٰ کے ہندوستانی معاشرے کی ساخت، سماجی طبقات، معاشی نظام، مذہبی رجحانات، ثقافتی روایات اور سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    مصنف نے تاریخی ماخذ، سرکاری دستاویزات، سفرناموں اور معاصر روایات کی روشنی میں ہندوستان کے مسلم اور غیر مسلم معاشرے کے باہمی تعلقات، طبقاتی تقسیم، جاگیرداری نظام، شہری زندگی، دیہی معیشت اور تہذیبی ارتقاء کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے۔ کتاب عہدِ وسطیٰ کے ہندوستان کی سماجی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ کتاب تاریخِ ہند، سماجی علوم، تہذیبی مطالعات، اسلامی تاریخ اور جنوبی ایشیائی معاشرت کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Diyar-e-Habib Mein Chand Roz | دیارِ حبیب میں چند روز

    دیارِ حبیب میں چند روز حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ کی ایک روح پرور سفری و روحانی تصنیف ہے، جس میں حرمین شریفین، حج و عمرہ کے مشاہدات، عشقِ رسول ﷺ، روحانی کیفیات اور اسلامی مقدسات سے وابستہ احساسات کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات، عبادات کے اثرات اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کی روحانی فضا کا تذکرہ کیا ہے، جو قاری کے دل میں عقیدت و محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔

    یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، عشقِ نبوی ﷺ اور اصلاحِ باطن کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ سلسلۂ نقشبندیہ اویسیہ کے معروف شیخ، مفسر اور روحانی راہنما تھے، جن کی تصانیف اور دروس نے ہزاروں افراد کی فکری و روحانی تربیت میں کردار ادا کیا۔

    حج، عمرہ، اسلامی سفرناموں، روحانی ادب اور سیرتِ نبوی ﷺ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب نہایت مفید اور ایمان افروز مطالعہ ہے۔

  • Gulistan-e-Alfaz-o-Ma’ani | گلستانِ الفاظ و معانی

    گلستانِ الفاظ و معانی معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم کی ایک منفرد علمی و لسانی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں الفاظ کی اصل، ان کے سفر، مختلف زبانوں میں ان کی منتقلی، معنوی تبدیلیوں اور تہذیبی اثرات کو نہایت دلچسپ اور تحقیقی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    مصنف نے واضح کیا ہے کہ جس طرح انسان مختلف علاقوں اور تہذیبوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی طرح الفاظ بھی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہو کر نئے رنگ اور معانی اختیار کرتے ہیں۔ کتاب زبان، ثقافت اور تاریخ کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اردو، عربی اور فارسی الفاظ کے ارتقاء پر مفید معلومات پیش کرتی ہے۔

    ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم ہیں اور عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے ان کی خدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی اور زبان کے ارتقاء میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم

    Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم اردو زبان، الفاظ کی تاریخ، ان کے معنوی ارتقاء اور لسانی پس منظر پر ایک منفرد اور اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد حسن قادری ہیں، جبکہ اسے معروف ماہرِ لسانیات اور لغت نگار ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب و مدون کیا۔ کتاب 2022 میں شائع ہوئی اور اردو زبان و ادب کے حلقوں میں خاص توجہ حاصل کی۔

    اس کتاب میں اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں سے اردو میں آنے والے الفاظ کی اصل، ان کے استعمال، تاریخی سفر اور معنوی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے الفاظ کی دنیا کو نہایت دلچسپ، تحقیقی اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری زبان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر رؤف پاریکھ، جو اردو کے ممتاز لغت نگار اور ماہرِ لسانیات ہیں، نے اس مسودے کو مرتب کرکے شائع کروایا۔ ان کے مطابق کتاب کا مسودہ محفوظ تھا جسے بعد ازاں الفاظ کا طلسم کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کیا گیا۔

    یہ کتاب اردو زبان، لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی، ادبیات اور زبان کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ

    مولوی احمد دین پنجاب کے بہت اچھے انشاء پردازوں میں سے تھے۔ان کی مشہور کتاب سر گزشت الفاظ پر پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی نے ان کو انعام دیا تھا،اور علامہ نے اس پر ایک تقریب نامہ بھی لکھا تھا۔ احمد دین کولفظی تحقیقات سے خاص دلچسپی تھی۔ انھوں نے اس کتاب کی داغ بیل 1901ء میں ڈالی تھی جب کہ مطالعۂ الفاظ کے عنوان سے ان کا ایک مقالہ دو قسطوں میں مخزن میں شائع ہوا تھا، یہ مقالہ بعد میں قدرے ترمیم کے ساتھ سرگذشتِ الفاظ میں شامل کیا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ 1901ء میں جو کام انھوں نے شروع کیا تھا، وہ بائیس برس کے بعد سر گذشتِ الفاظ کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ احمد دین نے دیباچے میں بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب میں پادری ٹرنچ کی کتاب مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کیا ہے۔ دراصل احمد دین کی کتاب کا پورا ڈھانچا وہی ہے جو ٹرنچ کی کتاب کا ہے۔ سرگذشتِ الفاظ کے تمام مطالب، ٹرنچ ہی کی صدائے بازگشت ہیں۔مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کہیں لفظی ترجمے کی صورت میں کیا گیا ہے، اور کہیں ٹرنچ کے خیالات کو قدرے مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دونو ں کتابوں کے ابواب کی تقسیم اور مطالب کی ترتیب یکساں ہے۔ یہاں تک کہ ابواب کے عنوانات بھی یکساں ہیں۔ ٹرنچ کی کتاب کے تمام نظریاتی مباحث سرگذشتِ الفاظ میں موجود ہیں۔ یہ ایک فائدے مند کتاب ہے جہاں لفظوں کے روٹس سے بہتر واقفیت ہوجاتی ہے۔

    Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ اردو زبان، لسانیات اور علمِ الفاظ پر ایک دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے، جسے احمد دین بی اے نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں مختلف اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے الفاظ کی اصل، ارتقاء، معنوی تبدیلیوں اور تاریخی پس منظر کو آسان اور دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    مصنف نے الفاظ کی تاریخ، ان کے سفر، مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے باہمی اثرات، اور زبان کی تشکیل میں الفاظ کے کردار کو تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کس طرح مختلف ادوار سے گزر کر اپنی موجودہ شکل اور معنی تک پہنچے۔

    سرگزشتِ الفاظ زبان و ادب کے طلبہ، محققین، اساتذہ اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، اردو لغت اور زبان کی تاریخ کے مطالعے میں اہم معاون ثابت ہوتی ہے۔

  • Kulliyat-e-Meer | کلیاتِ میر

    Kulliyat-e-Meer | کلیاتِ میر اردو کے عظیم شاعر میر تقی میرؔ کے مکمل یا منتخب شعری سرمایہ کا ایک اہم اور مستند مجموعہ ہے، جسے معروف محقق اور مرتب ظل عباس عباسی نے علمی و تحقیقی انداز میں مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلیں، قصائد، مثنویاں، رباعیات اور دیگر شعری اصناف کو یکجا کیا گیا ہے، جو اردو ادب کے کلاسیکی ورثے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

    میر تقی میرؔ کو اردو شاعری کی تاریخ میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، درد، انسانی جذبات، تصوف، فلسفۂ حیات اور معاشرتی مشاہدات کی گہری عکاسی ملتی ہے۔ کلیاتِ میر نہ صرف میرؔ کے فنی کمالات کو نمایاں کرتی ہے بلکہ اردو غزل کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

    ظل عباس عباسی کی تدوین اور تحقیق اس مجموعے کو طلبہ، محققین اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے مزید مفید بناتی ہے۔ یہ کتاب اردو شاعری، میر شناسی، کلاسیکی ادب اور ادبی تحقیق کے شائقین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

  • Deewan-e-Meer | دیوانِ میر

    Deewan-e-Meer | دیوانِ میر اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر میر تقی میرؔ کے منتخب کلام کا ایک اہم اور معیاری انتخاب ہے، جسے معروف شاعر، ادیب اور محقق افضال احمد سید نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلوں، اشعار اور منتخب تخلیقات کو جدید قاری کی ضرورت اور ادبی ذوق کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔

    میر تقی میرؔ کو اردو غزل کا خداۓ سخن کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، انسانی جذبات، زندگی کی ناپائیداری، تصوف اور داخلی کیفیات کی نہایت مؤثر ترجمانی ملتی ہے۔ افضال احمد سید نے اس انتخاب میں میرؔ کے ان اشعار کو شامل کیا ہے جو اردو شاعری کی فنی، فکری اور جمالیاتی روایت کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔

    یہ کتاب اردو شاعری، کلاسیکی ادب، غزل گوئی، تنقیدی مطالعے اور میر شناسی میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔

  • Dastan-e-Ajam: Tabsarah Shahnameh-e-Firdousi | داستانِ عجم: تبصرۂ شاہنامۂ فردوسی

    Dastan-e-Ajam: Tabsarah Shahnameh-e-Firdousi | داستانِ عجم: تبصرۂ شاہنامۂ فردوسی معروف ادیب اور محقق نواب نصیر حسین خیال کی ایک اہم ادبی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں فارسی ادب کے عظیم رزمیہ شاہکار شاہنامۂ فردوسی کا تنقیدی، ادبی اور تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    کتاب میں فردوسی کی شاعرانہ عظمت، شاہنامہ کی ادبی اہمیت، ایرانی تہذیب و تمدن، قدیم فارسی روایات اور اس رزمیہ داستان کے تاریخی و ثقافتی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے شاہنامہ کے مختلف کرداروں، واقعات اور اس کے فکری پہلوؤں کو آسان اور تحقیقی انداز میں بیان کیا ہے، جس سے قاری کو فارسی ادب کی اس لازوال تخلیق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

    یہ کتاب فارسی ادب، کلاسیکی شاعری، ادبی تنقید، ایرانی تاریخ، تہذیبی مطالعات اور شاہنامہ شناسی میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور ادب دوست قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Mazhab Aur Batini Taleem | مذہب اور باطنی تعلیم

    Mazhab Aur Batini Taleem | مذہب اور باطنی تعلیم اردو زبان کی ایک اہم علمی، فکری اور فلسفی تصنیف ہے، جسے ممتاز دانشور، ماہرِ تعلیم اور محقق مرزا محمد سعید دہلوی نے تحریر کیا۔ یہ کتاب مذہب، روحانیت، باطنی تربیت، اخلاقی ارتقاء اور انسانی شعور کے مختلف پہلوؤں پر گہرا اور تحقیقی مطالعہ پیش کرتی ہے۔

    مصنف نے مذہب کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے انسانی شخصیت کی تعمیر، روحانی بالیدگی، اخلاقی اقدار اور باطنی تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب میں مذہبی افکار، روحانی تجربات، تصوف، فلسفۂ اخلاق اور انسانی تربیت کے موضوعات کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ اردو فکری ادب کی نمایاں کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

    اس کتاب کو برصغیر کے علمی حلقوں میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی اور اسے اپنے دور کی اہم فکری تصانیف میں شمار کیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ کتاب مختلف جامعات میں نصابی حوالہ کے طور پر بھی زیرِ مطالعہ رہی۔

    یہ کتاب مذہب، فلسفہ، تصوف، اخلاقیات، نفسیات اور فکری مطالعات میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت اہم ماخذ ہے۔

Pothwari Books

Englsih Books

PHD THESIS Books

HISTORY Books

ISLAMIC Books

Quranyaat Books

Tasawuff Books

Biography Books

Quran exegesis (Urdu Tafsir)

URDU TAFASEER

MOTIVATIONAL BOOKS

AL-NADWA LIBRARY BOOKS

History of Pothohar BOOKS

Sirat-Un-Nabi BOOKS