ایوان صدر میں سولہ سال
ایوانِ صدر کے تاریک اور اقتدار کے وہ راز جو کبھی منظرِ عام پر نہ آئے

ایوانِ صدر کے تاریک corridors اور اقتدار کے وہ راز جو کبھی منظرِ عام پر نہ آئے!

جب آپ ایوانِ صدر کی بلند و بالا عمارت اور اس کی چمکتی ہوئی ظاہری فضا کو دیکھتے ہیں، تو ذہن میں صرف ریاست کے بڑے فیصلوں اور پروقار تقریبات کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے، انہی شاندار درودیوار کے اندر اقتدار کی اصل جنگ کس سفاکیت اور عیاری کے ساتھ لڑی جاتی ہے؟ جناب ایم۔ ب۔ خالد کی کتاب “ایوانِ صدر میں سولہ سال” (جو ویژنری پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوئی) جب آپ کے ہاتھوں میں آتی ہے، تو یہ صرف چند سالوں کی تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی روح کا ایسا پوسٹ مارٹم ہے جسے پڑھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

اقتدار کے ایوانوں کا اندرونی منظر نامہ

بطور ایک قاری، جب میں نے اس کتاب کے صفحات الٹے تو یوں لگا جیسے میں خود وقت کے پہیے کو پیچھے دھکیل کر ۱۹۵۲ء سے ۱۹۶۸ء کے اس دور میں داخل ہو گیا ہوں جہاں ہر شخص اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہا تھا۔ مصنف نے غلام محمد، سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان جیسے طاقتور کرداروں کے وہ روپ دکھائے ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ چھپائے جاتے۔ کتاب میں یہ انکشافات قاری کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں کہ کس طرح ایک وزیرِ اعظم کی برطرفی پر ایوان کے اندر تاش کے پتوں کی طرح کھیل کھیلا گیا، کیسے سازشوں کے تانے بانے بنے گئے، اور کس طرح اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا۔

وہ سنسنی خیز لمحہ جو آپ کو جھنجھوڑ دے گا

کتاب کا سب سے سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا باب وہ ہے جب نصف شب کو سکندر مرزا کے آخری ایام اور جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ کی سازشوں کے پردے فاش ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں، اس رات کا جب ایوب خان نے سکندر مرزا کے پاس جا کر پوچھا تھا: “Ayub, Will I be alive tomorrow?” (ایوب، کیا میں کل زندہ بچوں گا؟)… اور ایوب خان کا مسکرا کر کمر میں ہاتھ ڈالنا اور خاموشی سے نکل جانا! یہ وہ مناظر ہیں جنہیں صرف ایک چشم دید گواہ ہی اتنی باریکی اور بے باکی سے بیان کر سکتا ہے۔

کیا آپ اصل سچائی جاننے کے لیے تیار ہیں؟

یہ کتاب صرف ماضی کی یادداشتیں نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جو آج کے حالات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں کرپشن، رشوت ستانی، اور سیاسی لوٹ کھسوٹ کی وہ داستانیں درج ہیں جو آپ کی آنکھیں کھول دیں گی۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی زوال کی اصل بنیادیں کہاں رکھی گئیں، اور ایوانِ صدر کے اندر وہ کون سے خفیہ فیصلے تھے جنہوں نے ملک کا نقشہ بدل کر رکھ دیا—تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک لازمی مطالعہ ہے۔

📖 کتاب ڈاؤن لوڈ کریں اور خود فیصلہ کریں! تاریخ کے ان چھپے ہوئے اور سنسنی خیز رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے آج ہی اس کتاب کا مکمل پی ڈی ایف (PDF) ڈاؤن لوڈ کریں۔ اس کے ہر ورق پر چھپا سچ آپ کو اندر تک جھنجھوڑ دے گا اور آپ کتاب کو آخری صفحے تک پڑھے بغیر نہیں رہ سکیں گے!

👉 [یہاں سے کتاب ڈاؤن لوڈ کریں – طوبٰٰی بک فاؤنڈیشن آفیشل لنک]
نوٹ اگر آپ کو یہ کتاب چاہئے تو اسکی کاپی مل سکتی ہے