ایک ایسی کتاب جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے: فکری و سیاسی سفر کا آئینہ
کیا آپ نے کبھی ایسے معاشرتی اور سیاسی تضادات کو قریب سے دیکھا ہے جو ہمارے نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ تاریخ کے جھروکوں سے لے کر آج کے جدید دور تک، ہمارے سیاسی رویوں اور معاشرتی ڈھانچے میں کیا کچھ بدل رہا ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات آپ کو متجسس کرتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک لازمی اور فکری مطالعہ ہے۔
یہ تحریریں محض چند صفحات کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے دور کی سچی عکاسی، دردِ دل اور فکری بصیرت کا ایک ایسا مرقع ہیں جو قاری کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس کے ہر ورق پر حقائق کی ایسی نقاب کشائی کی گئی ہے کہ آپ خود کو صفحات کے ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کریں گے۔ قلم کی شگفتگی اور جاندار اندازِ بیان قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔
کتاب کی مکمل فہرست (مضمون و عنوانات)
صفحہ 5 سے 7 تک (پہلا حصہ)
-
حرفِ اول — سعيد آسی (صفحہ 11)
-
“میں اپنے آپ سے باہر جانا” (صفحہ 14)
-
“نئے تجربوں” (صفحہ 17)
-
بہت سے پہیلیوں کی خوش گمانیاں (صفحہ 20)
-
کورونا وباء ان کی سیاست (صفحہ 23)
-
“دیتے ہیں دھوکہ ان بازی گروں کو” (صفحہ 26)
-
راجہ داہر کا احتساب کرو یا کا خوف (صفحہ 29)
-
کرونا پر تصدیق کی انتقاشی پن کو بایاں (صفحہ 33)
-
کرونا کا خوف اور وائرس (صفحہ 36)
-
جو نکلا بستی اُجڑ جانے (صفحہ 39)
-
مسلمانوں کے حق میں آتی تلخ (صفحہ 42)
-
خدا کی مرضی (صفحہ 45)
-
ڈھنگ کی سراج دھر آندر (صفحہ 48)
-
خوف اور اک دادوں پر چاہ کی گندگی دائیں (صفحہ 52)
-
انھل و عقل کا اہتمام (صفحہ 55)
-
خوف اور تجارت (صفحہ 58)
-
گوریوں کے دیس کا بابِ خاص پاکستانی (صفحہ 61)
-
“عرصہ اس میں عمر رفتہ کی یادیں” (صفحہ 64)
صفحہ 6 سے 10 تک (دوسرا حصہ)
-
“انجنئیر ہو” (صفحہ 68)
-
رازنگاں کی باری یا تو پتہ یہ (صفحہ 71)
-
رکھوں کی ساتھ، میں اندرداف ظاہریر (صفحہ 75)
-
آتا اللہ تعالیٰ کا نام، عیسی اور اقلیم شر (صفحہ 80)
-
“پاگر رو کائی بھی گناہوں میں پہلی آنے” (صفحہ 85)
-
آسورۂ خاک اور انقلاب ہی کارشاہ اور رحمت علی وادی (صفحہ 88)
-
اسے بہت جلدی تھی (صفحہ 92)
-
سعید آسی سے طفلِ خاطر کی چاہ دو بیانیاں (صفحہ 96)
-
ڈاکٹر شمس اور یادوں کے کھیلنے اور (صفحہ 100)
-
مین بنیادی اور بہر کی بازداری (صفحہ 105)
-
ترانے وشق کے 21 سال (صفحہ 109)
-
“صحافی کیا گیا کردار یہاں کے لیے” (صفحہ 114)
-
پی ڈی پی واقعہ آئی کی تسکین یا ان میںوں کا قصہ؟ (صفحہ 118)
-
میں علامہ صاحب کیلئے دعا گو ہوں (صفحہ 122)
-
پینل لکپ کا تعارف پلے آٹ اور مہور کی باریں (صفحہ 127)
-
“ایسے گاؤں آئین کرن واہاں نہیں” (صفحہ 138)
-
عوامی حقیقت کے زخم سے گہری دکھییں (صفحہ 141)
-
سیاست اور موسم کا تلخ جمال (صفحہ 144)
-
نا خلفوں اور رنگم کی انسانیت (صفحہ 148)
-
“میری پھینٹسی کا لڈو! کیوں ماما” (صفحہ 151)
-
جشن سے پنجابی لاہور پر فائز (صفحہ 154)
-
ریاست آئین اور عوام کی حرکت (صفحہ 157)
-
نانک کو جہاں (صفحہ 161)
صفحہ 7 سے 10 تک (تیسرا حصہ)
-
اصلاح چاہ حوالہ، کتابچہ انٹروڈ (صفحہ 164)
-
ہماری جمہوریت کا “مفلوج لنگ کات” (صفحہ 168)
-
بیٹ انتخابات کے اسلامی (صفحہ 171)
-
سیکرٹ لایت۔ کہیں آپ کہیں دھو (صفحہ 173)
-
ضرور ہے بے قراری سرزائکی (صفحہ 179)
-
غربی کے بعد (صفحہ 183)
-
چوہدری اِنعام امت کی تڑپ (صفحہ 188)
-
“ارام کسی اور کے سر پر آنے تو اچھا” (صفحہ 189)
-
پہلا دن (صفحہ 192)
-
لیو لیڈر کیلئے کر مگر (صفحہ 196)
-
پرانے کے حضور اور دانیانی کا سفر (صفحہ 199)
-
“یہ ہدایت میری ہرگز رو دکھائی جائے” (صفحہ 202)
-
“میرا یہی گھوڑا” (صفحہ 206)
-
شکستِ پاکستان کے انتخابی نتائج اور روتے خواب (صفحہ 209)
-
امریکہ کی عوام کے لیے احمد اسلام (صفحہ 213)
-
ہسوں کرو گرے (صفحہ 217)
-
تاجروں نے گمراہ کرنے کے نقش (صفحہ 221)
-
مہنگائی کے توڑ کا کارپوریشن (صفحہ 224)
-
اللہ حافظ قانون اور اچھا انصاف (صفحہ 228)
-
سیاسی قاضین کو روزگار کے ساتھ ناگار (صفحہ 231)
-
پالنے رو کی ہماری تو ثقافت (صفحہ 235)
-
“پرانے قیامت میں آگئی” (صفحہ 238)
-
“افلاک سے تمنا ہے ناتوں کا انتخاب آخر” (صفحہ 242)
صفحہ 8 سے 10 تک (چوتھا حصہ)
-
“اتنے زرار والا کرو پر گزرے” (صفحہ 246)
-
آ گیا آپ کی مرضی ہے (صفحہ 250)
-
یہی آگیا اور ہے جناب! (صفحہ 253)
-
“مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ” (صفحہ 256)
-
فرمپ اندرونی گلہ گزار اور ہماری خوشیاں (صفحہ 260)
-
دوسروں کیلئے دئے گئے کافروں سے اپنی آزمائش (صفحہ 264)
-
فاضل عدلیہ کا مگر کام سلسلہ (صفحہ 268)
-
“….. بھول کس سے ہوتی ہے” (صفحہ 271)
-
آگے آپ خود سمجھدار ہیں (صفحہ 275)
-
پانی جو آئی کا ہو روزہ، سبق (صفحہ 278)
-
بہری ضرورت۔ آئین و قانون کی حکمرانی یا جنگل کا معاشرہ؟ (صفحہ 282)
-
لاشوں پر حکومت (صفحہ 286)
-
سیاسی حکمرانوں کی سزائیں؟ (صفحہ 289)
-
پاکستان کا سیاسی نقشہ اور پولیٹیکل کرائسز (صفحہ 292)
-
بنی اسرائیل – معیشت دین داری اور ہماری آزمائش (صفحہ 293)
-
قومی اہمیت اور کوئی نجی شامل (صفحہ 299)
-
“یقین اٹھا کہ منزل کھو رہی ہے” (صفحہ 302)
-
“اے چاند میاں نہ تنگ کر” (صفحہ 306)
-
“باص کو پار کرو نا پابند کرو” (صفحہ 310)
-
جنگری کی ہوس اور حرکت (صفحہ 313)
-
پوائنٹ سکورنگ کی ظالم سیاست (صفحہ 317)
-
مسلم دنیا اور عالم اسلام کی بقا کا سوال (صفحہ 320)
-
گردشِ کا خالق اور مہم اور مضطرب (صفحہ 324)
صفحہ 9 سے 10 تک (آخری حصہ)
-
دعویٰ خالق اور امتحان امن قتل کا کم زیادہ (صفحہ 328)
-
بسم اللہ مکہ جناب! (صفحہ 331)
-
بادشاہ کی پکار اور ہمارا احساس زیان؟ (صفحہ 333)
-
پاکستان کا سفر، کیوں بے حال (صفحہ 339)
-
قائدِ اعظم کی اہم بصیرت اور ہماری عاقبت اندیشیاں (صفحہ 342)
-
تعمیر 05 کا جذبہ اور تاریخ کے تقاضے (صفحہ 346)
-
“اے خدا! ہم تیری غیرت کو کیا ہو” (صفحہ 349)
-
“مستقل ٹاسک” کی استعرافی (صفحہ 353)
-
“تیری کیا اوقات ہے جو در سے میں چھپا رہا ہے” (صفحہ 356)
-
“ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی” (صفحہ 360)
-
باضا اٹھا کر کان کو کرنے کی کوشش (صفحہ 363)
-
افغان ایشین کمشن کا مسترد کرنا، اور ہماری کامیابی (صفحہ 366)
-
مشرف کوں کا مفصل فیصلہ، آئین کی پاسداری کا سوالی (صفحہ 370)
-
گزرتے سال کا آخری بیا بیہ (صفحہ 374)
-
سوالِ بڑے مہم کا حصول پر رہی کا ہے (صفحہ 377)
-
“حافظ سرگرماں ہے دئے کیا کیجئے” (صفحہ 381)
-
عوام اور افریقہ کے لیے لنگ لانگ کان کا پیکیج ڈیل (صفحہ 385)
-
“بات بدل گئی ہے مذہب کے کہیں پار تک پہنچی” (صفحہ 389)
-
عیدین جسمانی کا سفاکانہ کھیل (صفحہ 392)
-
یومِ اقبال اور کردار پر بیداری (صفحہ 395)
-
کردار پر وفاداری والی سرشاری (صفحہ 398)
-
دانشورای کی اصل تحریک اور احمر انسانوں کی کتلاء، (صفحہ 401)
-
لاک ڈاؤن میں آنکھ کی شرم گاہ اختتام کریں (صفحہ 404)
-
“یہ مجھ ہے بیگانہ کیا سمجھنے لگا” (صفحہ 407)
-
قرب سد راہ پالی (صفحہ 411)
-
تقلیبِ پس پردہ کو سپلا زاسٹ (صفحہ 414)
-
جامد بیاں تحریر (صفحہ 421)
-
اللہ پہلے یا سرٹی (صفحہ 426)
-
بحث تخلیقی اور راز داری کی قباست (صفحہ 429)
💡 مفت ڈاؤن لوڈ اور خریداری کی سہولت: اس شاندار اور فکر انگیز کتاب کو ابھی مکمل پڑھنے کے لیے آپ اسے طوبیٰ فاؤنڈیشن (Tuba Foundation) کی ویب سائٹ سے باآسانی مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر آپ اس کتاب کی ہارڈ کاپی (فوٹو کاپی یا کتابی شکل) اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو آپ ہم سےابھی سکتے ہیں۔
Tags:
Ashrafia Aur Awam Elite vs Public Pakistani Politics Qalam Foundation International Lahore Saeed Asi Social Inequality أردو سياسة اشرافیہ اور عوام الأدب السياسي الباكستاني النخب والشعب پاکستانی سیاست پاکستانی کتب سعید آسی سماجی ناانصافی سماجیات اور سیاست سیاسیات طبقاتی نظام قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور كتب سياسية واجتماعية
Comments (0)