• Chehel Majlis|چہل مجلس

    ’چہل مجلس‘ تصوف کے متلاشیوں، محققین اور اہلِ دل کے لیے ایک چشمۂ فیض ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے کو فکری بھٹکاؤ اور باطنی فریب سے نکال کر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور تنزیہہ کے سامنے سرنگوں کرتی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی میں پاکیزگیِ لقمہ، صدقِ مقال اور اتباعِ مصطفوی ﷺ کی راہ پر گامزن رہنے کا سبق دیتی ہے۔

    تعارفِ کتاب: ’چہل مجلس‘

    (ملفوظات و معارف: عارفِ باللہ حضرت شیخ احمد علاءالدولہ سمنانی قدس سرہ)
    تصوف و طریقت کی تاریخ میں ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کو ایک خاص فکری، علمی اور روحانی امتیاز حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عالمِ اسلام کو ایک طرف فتنۂ تاتار کے المیے کا سامنا تھا اور دوسری جانب تصوف میں نظری و فکری مباحث، بالخصوص وحدت الوجود اور احکامِ شریعت کی تعبیرات پر گہرے علمی مناظرے عروج پر تھے۔ اسی دور ساز عہد کی ایک عبقری، ہمہ جہت اور تاریخ ساز شخصیت کا نام حضرت شیخ احمد بن محمد بیابانک علاءالدولہ سمنانی (۶۵۹ھ – ۷۳۶ھ) ہے۔
    شیخ علاءالدولہ سمنانی رحمة اللہ علیہ نہ صرف کبرویہ ذہبیہ طریقت کے جلیل القدر مرشد، مصلح اور صاحبِ حال عارف تھے، بلکہ تصوفِ معتدل، پابندیِ سنت اور اتباعِ شریعت کے عظیم علمبردار بھی تھے۔ انہوں نے درباری جاہ و جلال، امارت اور مناصب کو ٹھکرا کر خانقاہی خلوت، فقر، مجاہدہ اور تزکیۂ نفس کی راہ چنی اور سمنان کے مضافات میں صوفی آباد (خداداد) کو روحانی و علمی انقلاب کا مرکز بنایا۔

    کتاب کا پس منظر اور نوعیت

    ’چہل مجلس‘ دراصل حضرت شیخ علاءالدولہ سمنانی کے ارشادات، مجالس کے احوال، باطنی مکاشفات اور علمی ارشادات کا وہ نادر و گرانقدر مجموعہ ہے جسے ان کے مریدِ خاص اور معتمد رفیق اقبال بن سابق سیستانی نے چالیس مجالس کے عنوان سے بڑی باریک بینی، عقیدت اور امانت داری کے ساتھ قلم بند کیا۔
    فارسی تصوف کے ملفوظاتی ادب میں اس کتاب کو وہی تاریخی اور استنادی مقام حاصل ہے جو برصغیر میں حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات ’فوائد الفواد‘ کو ملا۔ یہ کتاب محض روایتی اور خیالی حکایات کا دفتر نہیں، بلکہ یہ ایک کامل مرشد کے شب و روز کی عینی شہادت، سالکینِ راہِ حق کی عملی تربیت کا منشور اور اس دور کی علمی، دینی اور فکری تحریکوں کا جیتا جاگتا دستاویزی ثبوت ہے۔

    کتاب کے بنیادی مباحث و امتیازات

    ۱. شریعت و طریقت کی ہم آہنگی:
    کتاب کا سب سے بنیادی اور روشن پہلو احکامِ شرعیہ کی پاسداری اور اتباعِ سنت پر اصرار ہے۔ شیخ سمنانی واضح فرماتے ہیں کہ شریعت سے انحراف کر کے کوئی بھی شخص تصوف کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان کے نزدیک ہر وہ کیفیت، وجد یا مکاشفہ جو کتاب و سنت کے پیمانے پر پورا نہ اترے، وہ قابلِ التفات نہیں ہے۔
    ۲. توحیدِ وجودی اور توحیدِ شہودی کا علمی جائزہ:
    ’چہل مجلس‘ اور اس کے تعارفی مکاتیب میں شیخ محیی الدین ابنِ عربی کے نظریۂ وحدت الوجود پر شیخ علاءالدولہ سمنانی اور شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشانی کے درمیان چلنے والے معرکتہ الآراء مناظرے اور فکری خط و کتابت کا عمیق بیان ملتا ہے۔ شیخ سمنانی نے وجودی نظریے کی غلو آمیز تعبیرات کا کھل کر رد کیا اور مقامِ تنزیہہ کو برقرار رکھتے ہوئے ’وحدت الشہود‘ کی وہ مضبوط بنیاد رکھی جس کی تجدید آگے چل کر امامِ ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ نے فرمائی۔
    ۳. سلوک کے عملی مدارج کی تحقیق:
    اس کتاب میں علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین کے مراتب، لطائفِ سبعہ (باطنی لطائف)، اور دل کے طواف و حجِ باطنی کے باریک اسرار کو جس دلنشین اور قرآنی استدلال کے ساتھ واضح کیا گیا ہے، وہ سالکینِ طریقت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
    ۴. سماجی خدمت اور عمل پر زور:
    شیخ سمنانی نے بیکاری، سستی اور کاہلی کے زہد کو شیطانی فریب قرار دیا ہے۔ ’چہل مجلس‘ میں زمین کی آباد کاری، کنوؤں اور نہروں (کاریز) کی کھدائی، محنت مزدوری اور خلقِ خدا کی نفع رسانی کو عین عبادت اور روحانی ترقی کا زینہ ثابت کیا گیا ہے۔
    ۵. اکابرین کے ساتھ روابط و علمی مباحث:
    اس تصنیف میں شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرایینی، خواجہ یوسف ہمدانی، شیخ ابو الحسن خرقانی، شیخ ابو سعید ابو الخیر اور دیگر اکابرینِ امت کے افکار، احوال اور ان سے وابستہ باطنی تجربات کو نہایت وقیع انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔

    حاصلِ کلام

    ’چہل مجلس‘ تصوف کے متلاشیوں، محققین اور اہلِ دل کے لیے ایک چشمۂ فیض ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والے کو فکری بھٹکاؤ اور باطنی فریب سے نکال کر ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور تنزیہہ کے سامنے سرنگوں کرتی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی میں پاکیزگیِ لقمہ، صدقِ مقال اور اتباعِ مصطفوی ﷺ کی راہ پر گامزن رہنے کا سبق دیتی ہے۔

    اس کا سلیس، محققانہ اور اصل متون سے مزین اردو ترجمہ یقیناً معارفِ تصوف کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گراں قدر علمی تحفہ اور تاریخی دستاویزی سرمایہ ہے۔
    تصوف پر مزید کتب ڈون لوڈ کرنے کے لئے لفظ تصوف پر کلک کریں