• Ahmad Siddiq Majnoon Shakhsiyat Aur Fan (احمد صدیق مجنوں شخصیت اور فن) | احمد صدیق مجنوں شخصیت اور فن

    کتاب: احمد صدیق مجنوںؔ: شخصیت اور فن
    مصنفہ: ڈاکٹر بشریٰ رحمن
    ناشر: صدیق الرحمن (صدر: الھدیٰ ویلفیئر ایسوسی ایشن، گورکھپور)

    تعارفِ کتاب

    “احمد صدیق مجنوںؔ: شخصیت اور فن” معروف نقاد، ادیب اور محقق احمد صدیق مجنوں گورکھپوری کی حیات، ادبی خدمات اور فکری جہات پر ڈاکٹر بشریٰ رحمن کا ایک وقیع اور جامع تحقیقی مقالہ ہے۔ شوکت تھانوی نے مجنوں گورکھپوری کو “ڈیڑھ چھٹانک کا آدمی اور اردو ادب کا انسائیکلوپیڈیا” قرار دیا تھا، جو ان کے علمی قد کاٹھ کا واضح ثبوت ہے۔
    مصنفہ نے “حرفِ آغاز” میں مجنوں صاحب کی ابتدائی تعلیم، ادبی پس منظر، اور ان کی علمی و تدریسی زندگی کے مختلف مراحل کا احاطہ کیا ہے:
    • ابتدائی دور اور تعلیم: آپ کا جنم پلیدہ (بستی) میں ہوا اور مٹھیریا میں پلے بڑھے۔ ۱۲ برس کی عمر میں گورکھپور آئے جہاں دادا اور دادی کی محبت و تربیت نے ان میں عربی، فارسی اور اردو کا اعلیٰ ذوق پیدا کیا۔
    • تدریسی و ادبی خدمات: ۱۹۳۵ء میں اسلامیہ انٹر کالج اور بعد ازاں سینٹ اینڈریوز پوسٹ گریجویٹ کالج میں تدریسی فرائض انجام دیے جہاں طلبہ کے ساتھ ان کا شفقت اور وقار کا رشتہ قابلِ دید تھا۔ بعد میں ۱۹۵۸ء میں شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر کراچی یونیورسٹی (پاکستان) سے وابستہ رہے، جہاں انہیں اعزازی پروفیسر شپ سے بھی نوازا گیا۔
    • تحقیقی مواد اور معاونین: کتاب کی تیاری میں فیّاض صاحب، مسیح الزماں شبنم گورکھپوری، حفیظ انیس الرحمن، میجر صدیق الرحمن اور مجنوں صاحب کے بھانجے احمد سعید صاحب نے اہم خاندانی و تحریری مواد فراہم کیا، جبکہ کتاب کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے قلم سے لکھا گیا۔یہ کتاب مجنوں گورکھپوری کے ان مٹ نقوش، ان کی تنقیدی بصیرت اور داستانِ حیات کو جاننے کے لیے محققین اور شائقینِ ادب کے لیے ایک بیش قیمت دستاویز ہے۔