-
پاکستان میں فوجی حکومتیں،مصنف مرتضی انجم
Pakistan Mein Fuji Hukumaten By Murtza Anjum
Pakistan Mein Fuji Hukumaten By Mutza Anjum
پاکستان میں فوجی حکومتیں :مرتضی انجم
پاکستان میں مارشل لاء کی تاریخ
You visit this website and buy books in PDF and Kindle at a very low price compared to Amazon and other bookshops. Let it be clear that this website is free for books. You buy books from this website and support our mission. Financial support. The purpose of this website is to unite libraries around the world and create a digital catalog of the books in them and make the rare manuscripts scanned and made available in PDF and Kindle format for the service of scholars.
Go ahead and support us in this mission.OTher Libarary Links
Knoozedil Blog
-
پشتون قبائل | Pashtun Qabail
“Pashtun Qabail” is a valuable historical and anthropological research book focusing on the Pashtun tribes, their lineage, cultural traditions, and socio-political structures. The work provides a detailed breakdown of various Pashtun clans, their geographical settlements, historical origins, and ancestral genealogies. It serves as an essential reference for researchers, historians, and students of tribal history and South/Central Asian anthropology.
-
پھر مارشل لاء آ گیا:پروفیسر غفور احمد
Phir Martial Law aa gia by Prof. Ghafoor Ahmad
پھر مارشل لاء آ گیا:پروفیسر غفور احمد
Phir Martial Law aa gia by Prof. Ghafoor Ahmad
-
تاریخ اماکن لاہور, مصنف ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی,Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
-
تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں) | Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)
“Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)” is a comprehensive research work by Kashif Farid Kiyani that explores the history, culture, and heritage of Domeli (Tehsil Sohawa, District Jhelum) and its surrounding regions. The book details the historical background, trade routes, local architecture, and specifically the history and genealogical records of the Bugyal Gakhraan tribe. It serves as an essential reference for researchers and readers interested in regional history, anthropology, and the Pothwari heritage of Pakistan.
دستیاب معلومات کے مطابق کاشف فرید کیانی وہ پہلے قلم کار ہیں جنہوں نے ڈومیلی کی تاریخ کو اس منفرد اور باضابطہ انداز میں قلمبند کرنے کی پہل کی ہے۔ کاشف فرید کیانی بنیادی طور پر قصبہ ڈومیلی کے رہائشی ہیں اور فی الوقت ملازمت کے سلسلے میں روات میں مقیم ہیں۔
اس لائقِ تحسین اور تاریخی کاوش پر مصنف یقیناً خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اور علاقے کے عوام کو ان کی اس علمی و تاریخی خدمت کا پرجوش خیرمقدم کرنا چاہیے۔
اس کتاب کی تدوین و ترتیب کے لیے مؤلف نے کس قدر کٹھن اور صبر آزما مراحل طے کیے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں؛ لیکن ان کی مسلسل محنت اور جستجو کے نتیجے میں بالآخر ایک شاندار تصنیف سامنے آئی۔ یہ کتاب نہ صرف نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی تاریخ سے روشناس کراتی ہے بلکہ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے آئندہ کے محققین کے لیے ایک روشن راہنما بھی ثابت ہوگی۔
“تاریخِ ڈومیلی” میں مصنف نے جہاں اپنے گکھڑ اسلاف اور معززین کا تذکرہ کیا ہے، وہاں ڈومیلی کے مختلف قبیلوں، جلیل القدر شخصیات اور علاقائی خد و خال کو نہایت خوبصورتی سے رقم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معتبر تاریخی حوالہ جات کی مدد سے اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو روشن اور زندہ کر دیا ہے۔
اس تصنیف کا مطالعہ کرتے ہوئے قارئین کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ماضی کے دلاویز سفر پر گامزن ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ولادت سے ساڑھے تین سو سال قبل سکندرِ اعظم اپنے نامور گھوڑے “بیوسی فالس” پر سوار اسی خطے کی گھاٹیوں میں تحرک پذیر ہے۔
قدیم دور میں روم، ایران، ہندوستان اور خراسان کی عظیم سلطنتوں کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہِ تجارت یہی تھی۔ اس تاریخی راستے پر فاتحین کی فوجیں، فوجی چوکیاں، سفارتی وفود اور تجارتی قافلوں کے لیے قائم کردہ سرائے موجود تھیں۔
اس کتاب کے صفحات پر ڈومیلی کی پہاڑیوں، میدانوں اور شاداب وادیوں میں مختلف ادیان کے روحانی پیشوا اپنے اپنے مخصوص انداز میں عبادت و ریاضت میں مگن نظر آتے ہیں۔ اسی تاریخی سر زمین پر غزنوی، غوری، سوری اور احمد شاہ ابدالی جیسے عظیم سپہ سالاروں کے لشکر گزرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
قارئین کو مغلیہ دور کے شاندار دبدبے، بادشاہوں کی معرکہ آرائیوں، شاہی مہمان خانوں میں قیام اور ان گھنے جنگلات میں شکار کے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی خطے سے عرب، عجم، ہند اور فارس کے تجارتی قافلے گزرتے تھے جو نمک، لوہا اور دیگر معدنیات کے بدلے قیمتی زعفران کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔
کتاب میں گکھڑ سرداروں کے باہمی معرکے اور بیرونی تصادم کی داستانیں بھی شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس علاقے میں مختلف مذہبی و قومی پس منظر رکھنے والے لوگ مثالی امن و آشتی سے رہتے تھے۔ 1947ء کے پرآشوب اور نازک حالات میں بھی ڈومیلی کے ہندوؤں اور سکھوں کے قافلے بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے مکمل حفاظت کے ساتھ بھارت روانہ ہوئے۔
کاشف فرید کیانی کی اس قابلِ قدر کاوش کو سراہتے ہوئے اور اسے تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل مانتے ہوئے، اب اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مرزا محمد اعظم بیگ کی “تاریخِ جہلم” (1880ء) اور انجم سلطان شہباز کی “تاریخِ جہلم” (2017ء) کی طرز پر ڈومیلی کی تاریخ پر بھی ایک جامع اور کامل کتاب تیار کی جائے۔
ایک ایسی مفصل تصنیف جس میں تمام اقوام، ادیان، جغرافیائی سرحدوں، ثقافتی ورثے، زراعت، حیوانیات، قدیم سکوں، تاریخی ہتھیاروں، مذہبی مقامات (مساجد، مندر، گوردوارے)، تعلیمی و طبی اداروں، سرکاری عمارات اور کنوؤں کے مفصل احوال شامل ہوں۔ امید ہے کہ کوئی صاحبِ تحقیق اس اہم دینی و تاریخی فریضے کو انجام دینے کے لیے آگے آئے گا۔
-
حجرِ اسود: کعبہ کے تبرک پتھر کی جامع مکمل تاریخ پر ایک نایاب دستاویز | Hajar-e-Aswad: A Rare Document on the Comprehensive Complete History of the Blessed Stone of the Kaaba
حجرِ اسود — سید علی شبیر | Hajar-e-Aswad — Syed Ali Shabbir”حجرِ اسود: کعبہ کے تبرک پتھر کی جامع مکمل تاریخ پر ایک نایاب دستاویز” سید علی شبیر کی ایک انتہائی اہم اور تحقیقی کتاب ہے جو “اپنا ادارہ” کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ اس کتاب میں خانہ کعبہ کے مقدس تبرک ‘حجرِ اسود’ کی تاریخی حیثیت، اس کی تنصیب، احادیث و روایات، شرعی احکام اور تاریخِ اسلام میں اس سے وابستہ اہم واقعات کا تفصیلی و جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ، شعائرِ اسلام اور مقدس آثار سے دلچسپی رکھنے والے محققین اور قارئین کے لیے یہ ایک نہایت گراں قدر مرجع و دستاویز ہے۔
-
حق دی پہچان | Haq di Pehchan
“حق دی پہچان” ایک ایسا پیغام ہے جو انسان کو سچائی، انصاف اور صحیح راستے کی پہچان کرواتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں اصل کامیابی حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور سچ بولنے میں ہے۔





























