-
Tarikh-e-Rawalpindi (Jild Awwal) | تاریخ راولپنڈی (جلد اول)
“تاریخ راولپنڈی (جلد اول)” راجا محمد عارف منہاس کی ایک مایہ ناز تاریخی تصنیف ہے، جس میں خطۂ پوٹھوہار کے مرکزی شہر راولپنڈی کی قدیم تاریخ، ثقافت، شخصیات اور تاریخی پس منظر کو نہایت تحقیق اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
یہ کتاب قاری کو راولپنڈی کے تاریخی ورثے، اس کی تمدنی روایات اور جغرافیائی اہمیت سے روشناس کراتی ہے۔ اس کی بدولت محققین اور تاریخ کے طالب علموں کو اس خطے کے بارے میں مستند معلومات ملتی ہیں۔
یہ کتاب طلبہ، محققین، اور علاقائی تاریخ اور پوٹھوہار کی ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک گراں قدر حوالہ جاتی کتاب ہے۔ -
Tasawwuf: Tareef, Tareekh, Istilahat | تصوف: تعریف، تاریخ، اصطلاحات
تصوف: تعریف، تاریخ، اصطلاحات معروف محققہ اور ماہرِ تصوف ڈاکٹر روبینہ ترین کی ایک اہم علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں تصوف کے بنیادی تصورات، تاریخی ارتقاء، معروف صوفی سلاسل اور تصوف سے متعلق اصطلاحات کی جامع وضاحت پیش کی گئی ہے۔ کتاب تصوف کے نظری اور عملی پہلوؤں کو آسان، منظم اور تحقیقی انداز میں بیان کرتی ہے۔
مصنفہ نے تصوف کی ابتدا، اسلامی روحانیت کی تشکیل، صوفیاء کرام کی خدمات، تصوف کے مختلف ادوار اور اس کے فکری اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ساتھ ہی تصوف میں مستعمل اہم اصطلاحات، مفاہیم اور نظریات کی تشریح بھی شامل کی گئی ہے، جو طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
یہ کتاب تصوف، اسلامیات، روحانیت، اسلامی فکر اور صوفی ادب کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ -
Tazkiya-e-Nafs, Islam Aur Jadeed Ilm-e-Nafsiyaat Ki Roshni Mein | تزکیہ نفس، اسلام اور جدید علم النفسیات کی روشنی میں
“تزکیہ نفس، اسلام اور جدید علم النفسیات کی روشنی میں” ڈاکٹر گوہر مشتاق کی لکھی ہوئی ایک گہرے فکری اور تحقیقی موضوع پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کتاب میں تزکیہ نفس اور قلبی تطہیر کے اسلامی تصور کو جدید علم النفسیات (ماڈرن سائیکالوجی) اور انسانی رویوں کے تناظر میں نہایت احسن طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اسلامی تعلیمات اور عصری نفسیاتی مباحث کا تقابلی اور تطبیقی جائزہ لے کر نفس کی اصلاح، ذہنی سکون اور روحانی توازن کے حصول کے لیے عملی راہنمائی فراہم کی ہے۔ روحانی ترقی اور نفسیاتی صحت سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک مفید اور رہنما کتاب ہے۔
-
The Clash of Civilizations: Twenty Years On
The Clash of Civilizations: Twenty Years On revisits the influential ideas presented by Samuel P. Huntington in his landmark work The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order. Published two decades after the original thesis, this volume examines the continuing relevance of Huntington’s arguments in light of major global developments, including geopolitical conflicts, cultural tensions, religious movements, globalization, and shifting international power structures.
The book explores whether the world has evolved according to Huntington’s predictions and evaluates the role of civilizational identities in shaping contemporary international relations. Through scholarly essays and critical analyses, it assesses the impact of cultural and religious differences on global politics, security, diplomacy, and world order in the twenty-first century.
An important contribution to the fields of political science, international relations, global studies, geopolitics, and civilizational theory, this work is valuable for students, researchers, policymakers, and readers seeking a deeper understanding of modern global affairs and the ongoing debate surrounding Huntington’s ideas.
This digital edition is available in the Tooba Book Foundation Digital Library, where readers can access a growing collection of free PDF books, academic resources, and political studies literature online.
-
The Hidden Life in Freemasonry
IT is once more my privilege to usher into the world, for the helping of the thoughtful, another volume of the series on the hidden side of things written by Bishop Charles W. Leadbeater. True Mason that he is, he is ever trying to spread the Light which he has received, so that it may chase away the darkness of Chaos. To look for the Light, to see the Light, to follow the Light, were duties familiar to all Egyptian Masons, though the darkness in that Ancient Land never approached the
density which shrouds the West today.
This book will be welcomed by all Freemasons who feel the beauty of their ancient Rite, and desire to add knowledge to their zeal. The inner History of Masonry is left aside for the present, and the apprentice is led by a trustworthy guide through the labyrinth which protects the central Shrine from careless and idle inquirers. Places that were obscure become illuminated; dark allusions are changed to crystal clarity; walls which seem solid melt away; confidence replaces doubt; glimpses of the goal
are caught through rifts in the clouds; and the earth-born mists vanish before the rays
of the rising sun. Instead of fragments of half-understood traditions, confused and uninterpreted, we find in our hands a splendid science and a reservoir of power which we can use for the uplifting of the world. We no longer ask: “What is the Great Work? We see “that it is nothing less than a concerted effort to carry out the duty that is laid upon us, as those who possess the Light, to spread that Light abroad through the World, and actually to become fellow-labourers with T.G.A.O.T.U. in
His great Plan for the evolution of our Brn”.
The detailed explanations of the ceremonies are profoundly interesting and illuminative, and I commend them very heartily to all true Freemasons. Our V .·.·. I ·.·. Brother has added a heavy debt of gratitude by this book to the many we already owe him. Let us be honest debtors.
Adyar
ANNIE BESANT
December 25, 1925 -
The Power of Your Subconscious Mind | ذہن کی پوشیدہ طاقت
ذھن کی پوشیدہ طاقت” (The Power of Your Subconscious Mind) ڈاکٹر جوزف مرفی کی ایک বিশ্ব-معروف اور شہہ آفاق تصنیف ہے، جس میں لاشعوری ذہن (Subconscious Mind) کی حیرت انگیز صلاحیتوں، انسانی سوچ کے اثرات اور ذہنی وسوسوں پر قابو پا کر کامیابی حاصل کرنے کے اصولوں کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ کتاب قارئین کو سکھاتی ہے کہ کس طرح مثبت سوچ، خود اعتمادی اور ذہنی تخیل کے ذریعے ذاتی زندگی، صحت، تعلقات اور مالی معاملات میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ یہ ذہنی تربیت اور خود شناسی کے موضوع پر ایک بہترین رہنما کتاب ہے۔
یہ کتاب طلبہ، محققین، اور ذاتی ترقی (Personal Development) اور نفسیات سے دلچسپی رکھنے والے عام و خاص قارئین کے لیے ایک بہترین اور مفید حوالہ جاتی کتاب ہے۔ -
Why God Won’t Go Away: Brain Science and the Biology of Belief
“Why God Won’t Go Away” is a groundbreaking exploration of the science of religion and spirituality, written by leading neuroscientists. The book investigates how human brain function and neurological processes are intimately tied to mystical experiences, religious rituals, and the universal human inclination toward belief in a higher power.
Blending cutting-edge brain science with philosophical inquiry, it offers readers a fascinating look into how neural mechanics shape our deepest spiritual perceptions. This book is an essential read for researchers, students, and anyone curious about the intersection of neuroscience, human consciousness, and spirituality.
-
آئینہ تصوف سید سلیمان منصور پوری Aaina e Tasawwuf
آئینہ تصوف سید سلیمان منصور پوری
Aaina e Tasawwuf By Qazi Mohammad Suleman Salman Mansoor Puri
-
کتاب کا نام: آئینۂ تصوف
-
مصنف: قاضی سلیمان منصور پوری (جو کہ مشہورِ زمانہ سیرتِ طیبہ کی کتاب “رحمۃ للعالمین” کے مصنف بھی ہیں)
-
مسلک و مشرب: مصنف مسلماً اہلِ حدیث اور مشرباً اہلِ حدیث صوفی بزرگ تھے۔ وہ علمِ تصوف میں خاص شغف رکھتے تھے نقشبندیہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے اورن جج ہونے کے باوجود ایک صوفیِ منش بزرگ کی زندگی گزارتے تھے۔
“عرضِ حال” کے اہم نکات (تصویر کے مطابق)
-
اصل کتاب: یہ رسالہ یا کتاب اصل میں حُجّۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف میں سے “کشف الدُّلین فی غرور الخلق أجمعین” کا اردو ترجمہ ہے۔
-
ترجمے کا پس منظر: یہ اردو ترجمہ قاضی مصور پوری مرحوم نے سفر کے دوران کیا تھا۔ ان کی یہ عادت تھی کہ جب بھی وہ کسی سفر میں ہوتے تو ریل گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کسی عربی کتاب کا ترجمہ ساتھ ساتھ لکھتے جاتے تھے۔ انہوں نے اس طرح کئی کتب کے ترجمے کیے۔
-
مسودے کی اشاعت: یہ ترجمہ اتفاق سے مولوی حکیم عبد الرحمن صاحب بستی افغاناں والے کے پاس پہنچا (جو علامہ مرحوم کے گہرے دوست تھے)۔ حکیم صاحب کی درخواست اور اصرار پر یہ مسودہ اس نیت سے دیا گیا تاکہ اسے شائع کر کے عامۃ الناس کے لیے نافع بنایا جا سکے۔
-
سنِ اشاعت / حوالہ: اس “عرضِ حال” کے آخر میں درج ہے کہ خاکِ حجنّت درخادم ایڈیٹر اخبارِ مسلمان نے اس پر روشنی ڈالی ہے، اور اس نایاب علمی و روحانی اثاثے کو طبع کیا گیا ہے۔
-
-
پشتون قبائل | Pashtun Qabail
“Pashtun Qabail” is a valuable historical and anthropological research book focusing on the Pashtun tribes, their lineage, cultural traditions, and socio-political structures. The work provides a detailed breakdown of various Pashtun clans, their geographical settlements, historical origins, and ancestral genealogies. It serves as an essential reference for researchers, historians, and students of tribal history and South/Central Asian anthropology.
-
تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں) | Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)
“Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)” is a comprehensive research work by Kashif Farid Kiyani that explores the history, culture, and heritage of Domeli (Tehsil Sohawa, District Jhelum) and its surrounding regions. The book details the historical background, trade routes, local architecture, and specifically the history and genealogical records of the Bugyal Gakhraan tribe. It serves as an essential reference for researchers and readers interested in regional history, anthropology, and the Pothwari heritage of Pakistan.
دستیاب معلومات کے مطابق کاشف فرید کیانی وہ پہلے قلم کار ہیں جنہوں نے ڈومیلی کی تاریخ کو اس منفرد اور باضابطہ انداز میں قلمبند کرنے کی پہل کی ہے۔ کاشف فرید کیانی بنیادی طور پر قصبہ ڈومیلی کے رہائشی ہیں اور فی الوقت ملازمت کے سلسلے میں روات میں مقیم ہیں۔
اس لائقِ تحسین اور تاریخی کاوش پر مصنف یقیناً خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اور علاقے کے عوام کو ان کی اس علمی و تاریخی خدمت کا پرجوش خیرمقدم کرنا چاہیے۔
اس کتاب کی تدوین و ترتیب کے لیے مؤلف نے کس قدر کٹھن اور صبر آزما مراحل طے کیے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں؛ لیکن ان کی مسلسل محنت اور جستجو کے نتیجے میں بالآخر ایک شاندار تصنیف سامنے آئی۔ یہ کتاب نہ صرف نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی تاریخ سے روشناس کراتی ہے بلکہ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے آئندہ کے محققین کے لیے ایک روشن راہنما بھی ثابت ہوگی۔
“تاریخِ ڈومیلی” میں مصنف نے جہاں اپنے گکھڑ اسلاف اور معززین کا تذکرہ کیا ہے، وہاں ڈومیلی کے مختلف قبیلوں، جلیل القدر شخصیات اور علاقائی خد و خال کو نہایت خوبصورتی سے رقم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معتبر تاریخی حوالہ جات کی مدد سے اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو روشن اور زندہ کر دیا ہے۔
اس تصنیف کا مطالعہ کرتے ہوئے قارئین کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ماضی کے دلاویز سفر پر گامزن ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ولادت سے ساڑھے تین سو سال قبل سکندرِ اعظم اپنے نامور گھوڑے “بیوسی فالس” پر سوار اسی خطے کی گھاٹیوں میں تحرک پذیر ہے۔
قدیم دور میں روم، ایران، ہندوستان اور خراسان کی عظیم سلطنتوں کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہِ تجارت یہی تھی۔ اس تاریخی راستے پر فاتحین کی فوجیں، فوجی چوکیاں، سفارتی وفود اور تجارتی قافلوں کے لیے قائم کردہ سرائے موجود تھیں۔
اس کتاب کے صفحات پر ڈومیلی کی پہاڑیوں، میدانوں اور شاداب وادیوں میں مختلف ادیان کے روحانی پیشوا اپنے اپنے مخصوص انداز میں عبادت و ریاضت میں مگن نظر آتے ہیں۔ اسی تاریخی سر زمین پر غزنوی، غوری، سوری اور احمد شاہ ابدالی جیسے عظیم سپہ سالاروں کے لشکر گزرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
قارئین کو مغلیہ دور کے شاندار دبدبے، بادشاہوں کی معرکہ آرائیوں، شاہی مہمان خانوں میں قیام اور ان گھنے جنگلات میں شکار کے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی خطے سے عرب، عجم، ہند اور فارس کے تجارتی قافلے گزرتے تھے جو نمک، لوہا اور دیگر معدنیات کے بدلے قیمتی زعفران کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔
کتاب میں گکھڑ سرداروں کے باہمی معرکے اور بیرونی تصادم کی داستانیں بھی شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس علاقے میں مختلف مذہبی و قومی پس منظر رکھنے والے لوگ مثالی امن و آشتی سے رہتے تھے۔ 1947ء کے پرآشوب اور نازک حالات میں بھی ڈومیلی کے ہندوؤں اور سکھوں کے قافلے بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے مکمل حفاظت کے ساتھ بھارت روانہ ہوئے۔
کاشف فرید کیانی کی اس قابلِ قدر کاوش کو سراہتے ہوئے اور اسے تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل مانتے ہوئے، اب اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مرزا محمد اعظم بیگ کی “تاریخِ جہلم” (1880ء) اور انجم سلطان شہباز کی “تاریخِ جہلم” (2017ء) کی طرز پر ڈومیلی کی تاریخ پر بھی ایک جامع اور کامل کتاب تیار کی جائے۔
ایک ایسی مفصل تصنیف جس میں تمام اقوام، ادیان، جغرافیائی سرحدوں، ثقافتی ورثے، زراعت، حیوانیات، قدیم سکوں، تاریخی ہتھیاروں، مذہبی مقامات (مساجد، مندر، گوردوارے)، تعلیمی و طبی اداروں، سرکاری عمارات اور کنوؤں کے مفصل احوال شامل ہوں۔ امید ہے کہ کوئی صاحبِ تحقیق اس اہم دینی و تاریخی فریضے کو انجام دینے کے لیے آگے آئے گا۔
-
حجرِ اسود: کعبہ کے تبرک پتھر کی جامع مکمل تاریخ پر ایک نایاب دستاویز | Hajar-e-Aswad: A Rare Document on the Comprehensive Complete History of the Blessed Stone of the Kaaba
حجرِ اسود — سید علی شبیر | Hajar-e-Aswad — Syed Ali Shabbir”حجرِ اسود: کعبہ کے تبرک پتھر کی جامع مکمل تاریخ پر ایک نایاب دستاویز” سید علی شبیر کی ایک انتہائی اہم اور تحقیقی کتاب ہے جو “اپنا ادارہ” کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ اس کتاب میں خانہ کعبہ کے مقدس تبرک ‘حجرِ اسود’ کی تاریخی حیثیت، اس کی تنصیب، احادیث و روایات، شرعی احکام اور تاریخِ اسلام میں اس سے وابستہ اہم واقعات کا تفصیلی و جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ، شعائرِ اسلام اور مقدس آثار سے دلچسپی رکھنے والے محققین اور قارئین کے لیے یہ ایک نہایت گراں قدر مرجع و دستاویز ہے۔
-
رودادِ سفرِ حجاز (داستانِ جذب و شوق) | Rodad-e-Safar-e-Hijaz (Dastan-e-Jazb-o-Shouq)
“رودادِ سفرِ حجاز (داستانِ جذب و شوق)” نامور ماہرِ تعلیم، ادیب اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد ناصر کی ایک دل کش اور روح پرور سفرنامہ کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے مقدس سرزمین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة کے سفر کی روداد، مشاہدات، قلبی کیفیات اور عشق و محبتِ رسول کے جذبات کو نہایت خوبصورت اور بلیغ انداز میں قلمبند کیا ہے۔ سفرِ حج و عمرہ کے دوران پیش آنے والے روحانی تجربات اور مقدس مقامات کی زیارت کا یہ احوال قارئین کے قلب و نظر کو گرما دینے والا ہے۔
-
محاضراتِ شریعت | Muhazirat-e-Shariah
“Muhazirat-e-Shariah” is a profoundly significant and authoritative work by the renowned Islamic scholar, jurist, and thinker Dr. Mahmood Ahmad Ghazi. This book comprises comprehensive lectures on Islamic Shariah, its objectives (Maqasid), history, codification, and the evolutionary development of schools of Islamic jurisprudence (Fiqh). The author elucidates the fundamental principles of Islamic law and contemporary legal-intellectual requirements in an eloquent and scholarly manner. It serves as an essential foundational reference for students and researchers of Islamic law and jurisprudence.
-
مسافرِ حرم | Musafir-e-Haram
“Musafir-e-Haram” is a spiritually uplifting and evocative Hajj and Umrah travelogue written by Colonel Ghulam Sarwar. The book chronicles the author’s sacred journey to Makkah and Madinah, capturing profound personal reflections, spiritual observations, and vivid descriptions of the holy sites. It serves as an inspiring read for pilgrims and lovers of Islamic devotional travelogues.





















