“تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں)” کاشف فرید کیانی کی ایک معرکہ آرائ اور تحقیقی کتاب ہے جو خطہ ڈومیلی (تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم) اور وہاں کی تاریخی حیثیت، ثقافت اور قبائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس کتاب میں ڈومیلی کے قدیم پس منظر، تجارتی منڈیوں، تاریخی مقامات اور خصوصاً بگیال گکھڑ قبیلے کی تاریخ، شجرہ نسب اور خدمات کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ علاقائی تاریخ، انساب اور پوٹھوار کے ورثے میں دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ ایک نہایت گراں قدر دستاویز ہے۔
تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں) | Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)
“Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)” is a comprehensive research work by Kashif Farid Kiyani that explores the history, culture, and heritage of Domeli (Tehsil Sohawa, District Jhelum) and its surrounding regions. The book details the historical background, trade routes, local architecture, and specifically the history and genealogical records of the Bugyal Gakhraan tribe. It serves as an essential reference for researchers and readers interested in regional history, anthropology, and the Pothwari heritage of Pakistan.
دستیاب معلومات کے مطابق کاشف فرید کیانی وہ پہلے قلم کار ہیں جنہوں نے ڈومیلی کی تاریخ کو اس منفرد اور باضابطہ انداز میں قلمبند کرنے کی پہل کی ہے۔ کاشف فرید کیانی بنیادی طور پر قصبہ ڈومیلی کے رہائشی ہیں اور فی الوقت ملازمت کے سلسلے میں روات میں مقیم ہیں۔
اس لائقِ تحسین اور تاریخی کاوش پر مصنف یقیناً خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اور علاقے کے عوام کو ان کی اس علمی و تاریخی خدمت کا پرجوش خیرمقدم کرنا چاہیے۔
اس کتاب کی تدوین و ترتیب کے لیے مؤلف نے کس قدر کٹھن اور صبر آزما مراحل طے کیے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں؛ لیکن ان کی مسلسل محنت اور جستجو کے نتیجے میں بالآخر ایک شاندار تصنیف سامنے آئی۔ یہ کتاب نہ صرف نئی نسل کو اپنے آبا و اجداد کی تاریخ سے روشناس کراتی ہے بلکہ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے آئندہ کے محققین کے لیے ایک روشن راہنما بھی ثابت ہوگی۔
“تاریخِ ڈومیلی” میں مصنف نے جہاں اپنے گکھڑ اسلاف اور معززین کا تذکرہ کیا ہے، وہاں ڈومیلی کے مختلف قبیلوں، جلیل القدر شخصیات اور علاقائی خد و خال کو نہایت خوبصورتی سے رقم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معتبر تاریخی حوالہ جات کی مدد سے اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو روشن اور زندہ کر دیا ہے۔
اس تصنیف کا مطالعہ کرتے ہوئے قارئین کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ماضی کے دلاویز سفر پر گامزن ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ولادت سے ساڑھے تین سو سال قبل سکندرِ اعظم اپنے نامور گھوڑے “بیوسی فالس” پر سوار اسی خطے کی گھاٹیوں میں تحرک پذیر ہے۔
قدیم دور میں روم، ایران، ہندوستان اور خراسان کی عظیم سلطنتوں کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہِ تجارت یہی تھی۔ اس تاریخی راستے پر فاتحین کی فوجیں، فوجی چوکیاں، سفارتی وفود اور تجارتی قافلوں کے لیے قائم کردہ سرائے موجود تھیں۔
اس کتاب کے صفحات پر ڈومیلی کی پہاڑیوں، میدانوں اور شاداب وادیوں میں مختلف ادیان کے روحانی پیشوا اپنے اپنے مخصوص انداز میں عبادت و ریاضت میں مگن نظر آتے ہیں۔ اسی تاریخی سر زمین پر غزنوی، غوری، سوری اور احمد شاہ ابدالی جیسے عظیم سپہ سالاروں کے لشکر گزرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
قارئین کو مغلیہ دور کے شاندار دبدبے، بادشاہوں کی معرکہ آرائیوں، شاہی مہمان خانوں میں قیام اور ان گھنے جنگلات میں شکار کے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی خطے سے عرب، عجم، ہند اور فارس کے تجارتی قافلے گزرتے تھے جو نمک، لوہا اور دیگر معدنیات کے بدلے قیمتی زعفران کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔
کتاب میں گکھڑ سرداروں کے باہمی معرکے اور بیرونی تصادم کی داستانیں بھی شامل ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس علاقے میں مختلف مذہبی و قومی پس منظر رکھنے والے لوگ مثالی امن و آشتی سے رہتے تھے۔ 1947ء کے پرآشوب اور نازک حالات میں بھی ڈومیلی کے ہندوؤں اور سکھوں کے قافلے بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے مکمل حفاظت کے ساتھ بھارت روانہ ہوئے۔
کاشف فرید کیانی کی اس قابلِ قدر کاوش کو سراہتے ہوئے اور اسے تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل مانتے ہوئے، اب اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مرزا محمد اعظم بیگ کی “تاریخِ جہلم” (1880ء) اور انجم سلطان شہباز کی “تاریخِ جہلم” (2017ء) کی طرز پر ڈومیلی کی تاریخ پر بھی ایک جامع اور کامل کتاب تیار کی جائے۔
ایک ایسی مفصل تصنیف جس میں تمام اقوام، ادیان، جغرافیائی سرحدوں، ثقافتی ورثے، زراعت، حیوانیات، قدیم سکوں، تاریخی ہتھیاروں، مذہبی مقامات (مساجد، مندر، گوردوارے)، تعلیمی و طبی اداروں، سرکاری عمارات اور کنوؤں کے مفصل احوال شامل ہوں۔ امید ہے کہ کوئی صاحبِ تحقیق اس اہم دینی و تاریخی فریضے کو انجام دینے کے لیے آگے آئے گا۔
| BOOK NAME | تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں) | Tarikh-e-Domeli (Ma'a Shakh Bugyal Gakhraan) |
|---|---|
| BOOK AUTHOR | |
| LIBRARY SECTION | |
| TOPIC | تاریخِ ڈومیلی اور گکھڑ قبائل کی تاریخ | History of Domeli & Gakhraan Tribes |
| SUBJECT | علاقائی تاریخ، ثقافت اور قبیلہ بگیال گکھڑ | Regional History, Culture & Bugyal Gakhars |
| RESOURCE TYPE | تحقیقی و تاریخی کتاب | Historical & Research Book |
Customer Reviews
There are no reviews yet.









Be the first to review “تاریخِ ڈومیلی (معہ شاخ بگیال گکھڑاں) | Tarikh-e-Domeli (Ma’a Shakh Bugyal Gakhraan)”