| BOOK NAME | |
|---|---|
| BOOK AUTHOR | |
| LIBRARY SECTION |
Mashaheer Ulama-e-Sarhad | مشاہیر علمائے سرحد
📥 یہ کتاب 4 بار ڈاؤنلوڈ ہوئی
Share Before Download
اس کتاب کو دوستوں تک پہنچائیں
شیئر ہو رہی ہے...
15 سیکنڈ بعد ڈاؤنلوڈ بٹن آئے گا
✅ شکریہ! اب ڈاؤنلوڈ کریں
Related products
-
-
Nuqoosh-e-Seerat
“Nuqoosh-e-Seerat” is a collection of essays and articles that delve into various aspects of the Prophet’s life, character, teachings, and his impact on society. It is highly regarded for its insightful analysis, historical accuracy, and ability to convey the profound lessons and inspiration derived from the life of Prophet Muhammad (S.A.W).
The book covers a wide range of topics related to the Prophet’s life, including his birth, upbringing, interactions with his companions, battles, spiritual experiences, and his role as a leader and reformer. It is often considered a valuable resource for those seeking to deepen their understanding of the Seerah and draw lessons from the Prophet’s actions and teachings.
If you have the opportunity to read “Nuqoosh-e-Seerat” by Hakeem Muhammad Saeed, you will likely find it to be a rich source of knowledge and inspiration about the life of the Holy Prophet Muhammad (S.A.W).
-
Tazkirah Qariyan-e-Hind (Jild Awwal) | تذکرہ قاریانِ ہند (جلد اول)
قاریانِ ہند کے حالات، جن کو میں نے سولہ سال کی عمر سے ہوش سنبھالنے کے بعد جمع کیا تھا، وہ اب طبع ہو رہے ہیں۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔حصۂ اول میں تجوید کی اہمیت، قراءتِ عشرہ کے اختلافات، اور تجوید و قراءت پر عالمِ اسلام میں شائع ہونے والی کتابوں کا مختصر ذکر ہے، تاکہ تسلسل و تواتر کی اہمیت واضح ہو جائے اور ہند میں جب سے مسلمان آئے ہیں، ان کی مساعیِ جمیلہ ادوار کی شکل میں مختصراً منظرِ عام پر آ جائیں۔
دوسرے حصے میں قراء کے انفرادی حالات کا ذکر ہے، جو مسلمانوں کی آمد سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک ہند کے مختلف حصوں میں کام کرتے رہے۔
تیسرے حصے میں موجودہ قراء کے حالات ہیں، جن سے میں خود مل چکا ہوں، نیز ان کی کارگزاریوں کو بچشمِ خود دیکھ چکا ہوں۔ یہ تینوں حصے یکے بعد دیگرے شائع ہوں گے، مگر رقم اور طباعت کی مشکلات کے باعث تینوں ایک ساتھ شائع نہ ہو سکے۔
میں صدر انجمنِ اسلامیہ حیدرآباد کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پہلے حصے کی طباعت کی ذمہ داری لے کر میری معاونت فرمائی ہے۔ میں ان کے لیے دست بدعا ہوں کہ جس خلوص سے انہوں نے دستگیری کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور قارئینِ کرام بھی، جو اس سے مستفیض ہوں، صدر انجمنِ اسلامیہ کے جملہ اراکین کے لیے دعا فرمائیں۔
میں خصوصیت کے ساتھ جناب حبیب حسین باالفقیر صاحب، الحاج نیاز حسین صاحب کلکٹر وظیفہ یاب، اور جناب پروفیسر سید محمد صاحب کا ممنون ہوں کہ ان کی حوصلہ افزائی و معاونت سے یہ کام سرانجام پا سکا۔ دیگر احباب نے بھی اس میں سرگرم حصہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ما را کہ نہ آرائشِ برگے نہ نوائی است
سرمایہ اگر ہست، ہمیں دستِ دعائی است(بیدل)
مرزا بسم اللہ بیگ
-
THE MOTHERS OF BELIEVERS
MOTHERS OF BELIEVERS
(UMMAHATUL MOMININ / UMMAHA TUL MOMINEEN )
BY : ZAFAR ALI QURESHI
-
FREEDOM,S DAUGHTER EDITED BY SONIA GANDHI, LETTERS BETWEEN INDIRA GANDHI AND JAWAHARLAL NEHRU 1922-1939
FREEDOM,S DAUGHTER EDITED BY SONIA GANDHI
-
The Great Pashtoon By Shaukat Tareen
The Great Pashtoon By Shaukat Tareen
Publisher:Roz-ud-in Ghaznavi Publisher & Book Sillers
Swiss,Plaza Jinnah Road Quetta Cantt -
-
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
11 مئی 1994ء کے سورج کے طلوع ہونے سے اس تاریک براعظم(افریقہ) کا آخری تار یک گوشہ بھی روشن ہو گیا اور رنگ ونسل کی وہ دیوار برلن جو جبر و استحصال کی مضبوط چٹانوں سے تعمیر کی گئی تھی بالآخر مسمار ہو گئی ۔ کل کے باغی حریت پسند اور ضمیر کے قیدی نیلسن منڈیلہ نے جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم آلود ہو گئیں ۔ حلف برداری کی تقریب کا یہ تاریخ ساز منظر دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت پر بیٹوریا کی یونین بلڈنگ میں موجود تھے۔ اس تاریخ ساز واقعے کے بعد جنوبی افریقہ میں 300 سال بعد غیر نسلی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں افریقن نیشنل کانگرس کی کامیابی نے اس ملک سے اس سفید فام تسلط کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے سیاہ فام اکثریت کو طویل جد و جہد کرنا پڑی۔ بے پناہ مظالم اور آمریت کا سامنا کرنا پڑا۔75 سالہ نیلسن منڈیلہ جب جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے تھے اس وقت گلیوں اور بازاروں میں لوگ جشن منا رہے تھے ، ناچ رہے تھے اور گا رہے تھے ۔ آج وہ آزاد تھے اور وہ خوش کیوں نہ ہوں کہ آزادی کے یہ ترانے انہیں نیلسن منڈیلہ ہی نے سکھائے تھے۔ نیلسن منڈیلہ کا صدر کے عہدے پر فائز ہونا دنیا کی سیاسی تاریخکا ایک بڑا واقعہ تھا۔ نیلسن منڈیلہ 18 جولائی 1918 ء کو متاتا کے قریب ہمبو قبیلے کے سردار خاندان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے طالب علمی ہی کے زمانے میں سیاست میں قدم رکھا۔اس کتاب میں آپ کی کامیابی کی مختصر روداد بیان کی گئی ہے۔









Be the first to review “Mashaheer Ulama-e-Sarhad | مشاہیر علمائے سرحد”