ASAAN TARJUMA QURAAN , URDU MUTARJIM: MAULANA MUHAMMAD FAROOQ KHA’N

آسان ترجمہ قرآن

اردو مترجم : مولانا  محمدفاروق خاں

(برائے تحقیق ومطالعہ طلبائے قرآنیات)

ASAAN TARJUMA QURAAN

URDU MUTARJIM: MAULANA MUHAMMAD FAROOQ KHA’N

(FOR RESEARCH PURPOSES OF STUDENTS OF QURANIC STUDIES)

مزید کتبِ قرآنیات کے لیئے کلک کیجیئے

آسان ترجمہ قرآن

اردو مترجم : مولانا  محمدفاروق خاں

(برائے تحقیق ومطالعہ طلبائے قرآنیات)

ASAAN TARJUMA QURAAN

URDU MUTARJIM: MAULANA MUHAMMAD FAROOQ KHA’N

(FOR RESEARCH PURPOSES OF STUDENTS OF QURANIC STUDIES)

مزید کتبِ قرآنیات کے لیئے کلک کیجیئے

ملاحظہ کیجیئے مختصر احوالِ مترجم

مولانا محمد فاروق خاں مرحوم

ہندی زبان کے اسکالر، مترجم قرآن اور داعی اسلام

محمد عارف اقبال

ایڈیٹر، اردو بک ریویو، نئی دہلی۔۲

آمد 17جولائی 1932 – رخصت28جون 2023

معروف مترجم قرآن (اردو، ہندی) ہندی زبان کے اسکالر، دانشور، ادیب اور شاعر (اردو، ہندی) علامہ محمد فاروق خاں 28 جون 2023 (مطابق 9 ذی الحجہ، 1444 ہجری) کو لکھنؤ میں مختصر علالت کے سبب انتقال کر گئے۔ وہ 28 جون کی صبح ہی عیدالاضحی کے موقع پر مرکز جماعت اسلامی ہند، نئی دہلی سے اپنے بیٹے طارق انور ندوی اور ان کی فیملی کے ساتھ عید منانے لکھنؤ پہنچے تھے۔ پس ماندگان میں ان کے اکلوتے بیٹے طارق انور ندوی، دو پوتے اور چھ پوتیاں ہیں۔ نماز جنازہ دوسرے دن نماز عید کے بعد لکھنؤ کے راجہ جی پورم کی مسجد میں ہوئی اور تدفین اسی دن مرحوم کے آبائی وطن سلطان پور میں ہوئی۔ ان کی عمر تقریباً 90 سال تھی۔

مولانا محمد فاروق خاں کی پیدائش 17 جولائی 1932 کو سلطان پور (یوپی) کے ایک موضع مصورن میں ہوئی۔ ماں کا سایہ بچپن ہی میں اٹھ گیا تھا۔ انہوں نے ہندی زبان میں ایم اے کے بعد صاحب علم دینی علما کی صحبت میں عربی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ ان میں اصلاحی علما بھی تھے اور قاسمی بھی۔ وہ باضابطہ کسی دینی درس گاہ سے فارغ نہیں تھے لیکن ان کو اعزازی عالمیت اور فضیلت کی اسناد حاصل تھیں۔ علامہ محمد فاروق خاں نے اپنی زندگی کا نصب العین ’دعوت الی اللہ بنایا تھا۔ میری قربت مرحوم سے تقریباً 35 برسوں کی تھی۔ 37 سال قبل ان سے پہلی ملاقات پٹنہ کے شکر ڈیہہ کی مسجد میں ہوئی تھی جہاں طلبا تنظیم کا پانچ روزہ تربیتی کیمپ منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں علامہ فاروق خاں صاحب نے کئی سیشن میں قرآن اور اس کے اسلوب اور دعوتی پہلو پر بڑے علمی لیکچرز دیے تھے۔ اس کے دو سال بعد ہی میں دہلی آگیا اور پھر ان سے ملاقات اور استفادہ کا تسلسل برقرار رہا۔ آخری چند برسوں میں ملاقات کا سلسلہ کم ہوگیا تھا کیونکہ وہ پرانی دہلی (1353 بازار چتلی قبر) سے ابوالفضل انکلیو منتقل ہوگئے تھے۔ وہ صحیح معنی میں دعوتی کام کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کا تعلق جماعت اسلامی ہند سے 1956 سے قبل ہی ہوا تھا۔ جماعت اسلامی میں ان کی صوفی منش شخصیت منفرد تھی جن کے عملی طور پر کھلے ذہن کے ساتھ غیر مسلموں سے روابط تھے۔ جماعت اسلامی ہند میں اگرچہ چند اور شخصیات تھیں جن کو ’دعوت اسلامی‘ کا حقیقی ادراک تھا۔ ان میں مولانا سید حامد علی بھی شامل تھے۔ لیکن علامہ فاروق خاں کی شخصیت قائدانہ اٹھان سے زیادہ داعیانہ تھی۔ وہ مدعو قوم سے اپنی مخصوص بصیرت اور حکمت کے ذریعے تعلقات استوار کرتے تھے۔ ان کی دعوت پر درجنوں غیرمسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ لیکن کچھ اسکالر قسم کے حضرات کا علامہ فاروق خاں سے مسلسل رابطہ ہونے کے باوجود اسلام کے نور سے ان کا قلب منور نہ ہوسکا۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے ایک قریبی دوست جیون داس جی ہفتے میں ایک بار ضرور علامہ سے ملاقات کرتے اور گھنٹوں دونوں میں فکری گفتگو ہوا کرتی۔ انہوں نے ہندوستان کے تقریباً ہر مذہب کے ’سرداروں‘ سے ملاقات کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہندی زبان کی چاشنی کے ساتھ نہ صرف اپنی پُرکشش تقریر کے ذریعے ان کو متاثر کیا بلکہ ہندی زبان میں غیر مسلموں کے لیے بےشمار کتابیں لکھیں۔ ان کی ایک کتاب ’ہندو دھرم کی چند جدید شخصیتیں‘ بہت مشہور ہوئیں۔ وہ جین مندر بھی گئے اور پونے میں آچاریہ رجنیش کے آشرم میں رجنیش سے بھی ملاقات کی۔ مجھے یاد ہے کہ نئی دہلی کے آصف علی روڈ پر ایک کمپنی KAPSON کے نام سے قائم تھی جس کے مالک پال صاحب ہوا کرتے تھے۔ وہ ہر ہفتہ علامہ فاروق خاں صاحب کے ’پروچن‘ (وعظ) کا انعقاد کرتے تھے جس میں ہر دھرم کے لوگ شرکت کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہاں (مولانا) وحیدالدین خاں (مرحوم) بھی تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ خاکسار کو بھی علامہ کے ساتھ پال صاحب کی مجلس میں جانے کا موقع ملا تھا۔ وہاں میں نے تمام لوگوں کی آنکھوں میں (بیشتر غیر مسلم) علامہ کے لیے ادب، احترام اور عقیدت کے جذبات محسوس کیے۔ علامہ فاروق خاں اپنے ’پروچن‘ میں ایک اللہ اور آخرت پر خاص درس دیتے تھے۔ اسی طرح وہ مختلف باباوں کے آشرموں میں بھی جاتے تھے تاکہ ان کو سمجھ سکیں اور اپنی بات کھلے دل سے ان کے سامنے رکھ سکیں۔ وہ اپنے اس ’دعوتی مشن‘ میں نہ صرف ہمیشہ بے باک رہے بلکہ اپنی حد تک صد فی صد کامیاب بھی تھے۔ اور ہدایت تو اللہ رب العزت کی طرف سے ہی ملتی ہے۔

چھوٹی بڑی ایک سو سے زائد کتابوں کے مصنف و مؤلف علامہ محمد فاروق خاں کو ابتدا سے جماعت اسلامی ہند نے تصنیفی شعبہ ہندی کی ذمہ داری دی تھی جسے وہ تاحیات نبھاتے رہے۔ ان کے قلم سے دیومالائی مذہب سے متعلق متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ تاہم ان کی بیشتر کتابیں دیومالائی مذہب اور اسلام کے تقابلی مطالعے پر مبنی ہیں جن میں توحید، رسالت اور آخرت کا پہلو ابھرا ہوا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے قرآن مجید کا ہندی ترجمہ کیا جبکہ وہ رامپور میں تھے۔ اس زمانے میں جماعت کا مرکز رامپور ہی میں تھا۔ اس وقت اس ترجمہ کو عملی طور پر مولانا صدرالدین اصلاحی نے دیکھنے کے بعد اس ترجمے کی صحت کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اردو ترجمہ (مع حواشی) بھی شائع ہوا۔ ہندی ترجمے کی اس وقت بےحد پذیرائی ہوئی تھی۔ ہندی زبان سے مرحوم کو گہرا تعلق تھا۔ ہندی میں ان کا شعری مجموعہ ’چھتج کے پار‘ بھی شائع ہوا۔ اردو میں ان کا شعری مجموعہ ’حرف و صدا‘ بہت بعد میں شائع ہوا۔ شاعری میں ان کا تخلص فراز سلطانپوری تھا۔ بلاشبہ مرحوم نے ہندی میں اسلام کے بنیادی لٹریچر میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہندی زبان کے لٹریچر کو خالصتاً ہندی زبان کی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کرتے تھے تاکہ ہندی داں غیر مسلم حضرات کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو، تاہم بعد میں انہوں نے بعض ریاستوں میں اردو زبان کے زوال کو محسوس کرتے ہوئے چند دینی و اخلاقی کتابیں مسلمانوں کی رعایت سے بھی لکھیں۔

علامہ فاروق خاں کی چند اردو کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔ کلام نبوت (سات جلدوں میں)، مطالعہ حدیث، قرآن کے تدریسی مسائل، کائنات میں اللہ کی نشانیاں، فطری نظام معیشت، عرفان حقیقت، رِگ وید، ایک تجزیاتی مطالعہ، رمضان تبدیلی اور انقلاب کا مہینہ، دعوتِ دین اور اس کے کارکن، دعائیہ چہل حدیث، خدا کا تصور ہندو دھرم کی کتابوں میں، خواتین اسلام کی علمی خدمات، حقیقی تصوف، حکمت نبویؐ، احادیث کی روشنی میں، تربیت کے فکری اور عملی پہلو، تزکیہ نفس اور ہم، آخرت کے سائے میں۔

ہندی میں چند کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔

دھرم کیا ہے کیا نہیں ہے، پرلوک کی چھایا میں، پرلوک واد اور بھارتیہ دھرم گرنتھ، مکتی کی دھارنا اور اسلام، بھکتی کی دھارنا اور اسلام، سپھلتا اور مکتی کا ایک ہی راستہ، سفلتا کے مَولِک سوتر، حدیث سوربھ (پانچ جلدوں میں)، اسلام درپن، پوتر قرآن (عربی متن کے ساتھ)، ستیہ کیا ہے، اسلام کیا ہے، اسلام درشن، ایک ایشور کی دھارنا، قرآن سب کے لیے وغیرہ۔

علامہ فاروق خاں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے شعلہ بیان مقرر تھے۔ وہ فکر انگیز باتیں بھی بڑے سادہ انداز میں کہہ دیتے تھے۔ ان کی باتیں دانشوروں کے ساتھ عام آدمی کے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ اپنے ’دعوتی مشن‘ کے لیے انہوں نے ملک کے تقریباً ہر گوشے کا سفر کیا تھا۔ ان کے چاہنے والے ہزاروں کی تعداد میں ملک و بیرون ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ علامہ کے انتقال سے تقریباً دو ماہ قبل ہفت روزہ دعوت (4 تا 10 جون 2023) میں رضوان احمد اصلاحی صاحب نے ان سے ایک انٹرویو لیا تھا۔ آخر میں جب علامہ سے مرکز جماعت کی نئی امارت کے حوالے سے نصیحت کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے کچھ یوں فرمایا۔

’’بھارت میں بہت ساری جماعتیں ہیں البتہ جماعت اسلامی کا امتیاز دعوت الی اللہ ہے، آپ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں غیر مسلموں کے لیے بھی سوچیں، کہیں جائیں تو صرف رفقا ہی سے مل کر واپس نہ جائیں بلکہ وہاں غیر مسلموں سے بھی ملاقاتیں کریں، کوئی بات مانے یا نہ مانے ہمارا پیغام سب کے لیے ہے۔ دودھ سب کے لیے مفید ہے چاہے کوئی پیے یا نہ پیے۔‘‘

علامہ محمد فاروق خاں کی شخصیت اور افکار و خیالات کو سمجھنے کے لیے 48 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ 2017 میں القلم پبلیکیشنز، بارہمولہ، کشمیر نے شائع کیا تھا۔ ابوالاعلیٰ سبحانی نے علامہ سے انٹرویو لیا تھا۔ ’مطالعات، مشاہدات اور تجربات‘ کے نام سے اس کتابچہ کا مطالعہ بھی علامہ کو سمجھنے میں بےحد معاون ہوسکتا ہے۔ فاروق خاں صاحب کے مطالعہ کا میدان بڑا ہی وسیع تھا۔ شاعری، افسانہ، مذہب، فلسفہ اور روحانیت ان کے پسندیدہ موضوعات تھے لیکن ہر اس کتاب کے مطالعہ کی عادت تھی جس میں کچھ اہم مواد ملنے کی توقع ہو۔ فاروق خاں صاحب جماعت اسلامی ہند کے لیے دعوتی لٹریچر تیار کرنے کے ساتھ ’اردو بک ریویو‘ کے لیے لکھنا پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اردو بک ریویو‘ کے لیے انہوں نے ابتدا سے مختلف موضوعات پر کتابوں پر تبصرے کیے۔ ان کے درجنوں تبصرے ’اردو بک ریویو‘ کی 28 جلدوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ان سے ’اردو بک ریویو‘ نے 2008 میں ایک مختصر انٹرویو لیا تھا۔ یہ انٹرویو ان کے مختصر تعارف کے ساتھ اپریل، مئی، جون 2008 کے شمارے میں شائع ہوا۔ ان سے جب ایک سوال کیا گیا کہ’ ’اس وقت کون سی کتاب آپ کے زیر مطالعہ ہے؟‘‘ تو علامہ کا جواب تھا’’اردو میں نفسیاتی تنقید، مرتب غلام نبی مومن‘‘۔

علامہ فاروق خاں صاحب کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ’جلالی قسم کے‘ صوفی بزرگ تھے۔ لیکن جمالیاتی حس ان کی سرشت میں تھی۔ وہ قدرتی و فطری مناظر سے خوب محظوظ ہوتے تھے۔ ایک بار 14 کی چاند رات کو اچانک اپنے کمرے سے باہر نکلے اور مجھے پکار کر کہا کہ دیکھیے چاند کتنا خوبصورت ہے۔ اسے دیکھ کر خدائی مظہر کو محسوس کیجیے۔ اس زمانے میں مَیں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے کمرے سے اوپر والے کوارٹر میں مقیم تھا اور اشاعت اسلام ٹرسٹ (رجسٹرڈ) کے تحت مرکزی مکتبہ اسلامی میں مجھ پر پروڈکشن مینجر کی ذمہ داری تھی۔ اس ادارے میں تقریباً دس برس میں نے اپنی ذمہ داری بہ حسن و خوبی ادا کی۔ جس بات کو وہ درست سمجھتے تھے اس پر سمجھوتے کے عادی نہ تھے۔ بعض اوقات بحث و تکرار کے دوران کسی بزرگ عالم سے بھی ان کی بحث ہوتی اور وہ بزرگ اپنی بات کی صداقت پر اڑے رہتے تو علامہ کو جلال آجاتا۔ اس کا مشاہدہ میرے علاوہ شاید ان کے قریب رہنے والے چند افراد نے بھی ضرور کیا ہوگا۔ لیکن ان کا ’جلال‘ ہمیشہ ان کی دل کی نمائندگی کرتا اور ’جلال‘ پر ’جمال‘ اکثر غالب رہتا تھا۔ اپنے دل میں کبھی بھی کسی کے لیے منفی خیال کو جگہ نہیں دیتے، شفاف ذہن کے حامل انسان تھے۔ اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے حسنات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اعلیٰ درجات مرحمت فرمائے۔ آمین!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاض احمدچودھری

مترجم قرآن ، مفسر ، کلام نبوت اور دیگر بہت سی کتابوں کے مصنف مولانا محمد فاروق خاں انتقال فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

مولانا فاروق خاں جماعت اسلامی ہند کے ان اکابر علوم اسلامیہ کے مصنفین میں سے تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی علوم اسلامیہ کی تصنیف، تالیف،ترویج،تبلیغ دین اور تحریک اسلامی کے لیے وقف کردی تھی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 90 برس تھی ۔ ان کا وطن ھندوستان کی ریاست اترپردیش کا ضلع سلطان پور تھا ۔وہ اپنی پیدائش کے تیئس سال بعد 1956 میں جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوئے تھے۔ اس وقت سے لیکر زندگی کی آخری سانس تک وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے کے مصداق انھوں نے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ نچوڑ نچوڑ کر اس سے علوم اسلامیہ کی ترویج اورتحریک کی آبیاری کی ۔

مولانا کا ابتدائی میدان قرآنیات تھا ان کا اوّلین تعارف ‘شیدائے قرآن’ کا ہے۔ انھوں نے متعدد پہلوؤں سے قرآن مجید کی خدمت کی ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے پہلے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابو اللیث ندوی اصلاحی کے حکم پرقرآن مجید کا ہندی ترجمہ کیا ۔یہ کام انھوں نے ھندوستان کے مشہور عالم دین مولانا امانت اللہ اصلاحی اور مولانا صدر الدین اصلاحی کی نگرانی میں انجام دیا۔ یہ ترجمہ مولانا ابو سلیم عبد الحی کے مکتبہ الحسنات سے برابر شائع ہورہا ہے اور ہندی کے مقبول ترجموں میں سے ہے۔ انھوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے اردو ترجمہ قرآن جس کو مولانا نے ترجمانی کانام دیاتھا,کا ہندی ترجمہ کیا۔ مولانا فاروق خان نے اردو زبان میں خود بھی اپنا ترجمہ قرآن کیا ہے جس کے کئی اڈیشن منظرعام پر آچکے ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے اردو زبان میں تفسیر بھی لکھی ہے جس کی کمپوزنگ ہوچکی ہے اور جلد شائع ہونے والی ہے۔

قرآنی موضوعات پر ان کی بہت سی کتابیں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز اور دیگر مکتبوں سے طبع ہوئی ہیں جن میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں : شاہ عبد القادر کی قرآن فہمی۔ انتخاب قرآن۔قرآن کے تدریسی مسائل ،قرآن کا صوتی اعجاز ، قرآن مجید کے ادبی محاسن ، ایمائے قرآن وغیرہ ۔ مولانا کا پرانی دہلی میں دو مقامات،جامع مسجد دہلی، مرکز جماعت اسلامی (چتلی قبر) میں درس قرآن کا برسوں معمول رہا ہے۔انھوں نے درس میں پورے قرآن کو پانچ مرتبہ ختم کیا ہے۔ ان کے دروس میں شرکت کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ان کے درس قرآن کی اپنی شان ہوتی تھی ۔ قرآنی معارف و نکات اور ایمانی و روحانی اسرار و رموز کے ساتھ آواز کا زیر و بم سامعین کو مسلسل اپنی گرفت میں رکھتا تھا ۔

مولانا فاروق خاں کا علوم اسلامیہ میں دوسر میدان احادیث اور مطالعہ حدیث تھا ۔تشریحاتِ احادیث پر مشتمل ان کی کتاب’کلامِ نبوت’برصغیر کے تمام علمی حلقوں دیوبندی بریلوی اھلحدیث وغیرہ میں یکساں مقبول ہے ۔لاکھوں انسانوں نے اس سے فیض اٹھایا ہے۔اس کے علاوہ بھی ان کے متعدد احادیث کے مجموعے ، آثارِ صحابہ اور مسنون دعاؤں کے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع ہوئے ہیں۔ مثلاً مطالعہ حدیث ، دعائیہ چہل حدیث ، آثار صحابہ ، انتخاب احادیث قدسیہ ، حکمت نبوی احادیث کی روشنی میں ، آں حضور کی دعائیں،علم حدیث ۔ ایک تعارف’کے نام سے ایک کتاب ہے جس میں حدیث کی اہمیت و مقام ، اصطلاحات حدیث اور محدثین کی سوانح بیان کی گئی ہے ۔

مولانا عرصہ تک جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تصنیف وتالیف میں ہندی شعبہ کے انچارج رہے۔ انھوں نے خود بھی بہت سی کتابوں کا ہندی زبان میں ترجمہ کیا اور ان کی سربراہی میں دوسروں کے ذریعے بھی ترجمے کا خاصا کام ہوا۔ ان کے تربیت یافتگان میں مشہور داعی ، مصنف اور عالم مولانا نسیم غازی بھی ہیں ۔مولانا کا ہندو مت کا مطالعہ بہت وسیع تھا ۔ انھوں نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں اس موضوع پر متعدد علمی اور تحقیقی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ اردو میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں : خدا کا تصور ہندو دھرم کی کتابوں میں ، ہندو دھرم کی کچھ قدیم شخصیتیں ، چند ہندوستانی مذاہب ، رگ وید ایک تجزیاتی مطالعہ ،اسلام کی اہمیت ہندو دھرم کے پس منظر میں ۔

مولانا فاروق خان متصوفانہ اور روحانی شخصیت کے مالک تھے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی والوں کا تصوف و روحانیت سے کیا واسطہ؟ لیکن مولانا فاروق خان کی تصوف و روحانیت سے وابستگی جماعت کے درمیان مسلّم تھی اور باہر کے لوگ بھی اس کا اعتراف کرتے تھے ۔ ان کی تقریریں ہوں یا نجی مجلسیں سب روحانیت اور تربیت و تزکیہ کی باتوں سے معمور ہوتی تھیں ۔بھارت میں ہندو مت کی مذہبی شخصیات بھی مولانا کی گفتگو سے بہت متاثر ہوتی تھیں۔

مولانا کی تصانیف سو سے متجاوز ہیں ، جن میں سے بیش تر مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہوئی ہیں ۔ چند مزید کتابوں کے نام یہ ہیں : تزکیہ نفس اور اخلاق ، تزکیہ نفس اور ہم ، تکریم نفس اور اسلام ، تربیت کے فکری و عملی پہلو ، خدا کیا اور کہاں؟ ، خدا کی پْر اسرار ہستی کا تصور ، کلم سواء ، آخرت کے سایے میں ، آئین اسلام ، اسماء حسنی ، امت مسلمہ کا منصب و مقام ، توحید اور مسائل حیات ، علوم نبوت ، عرفانِ حقیقت ، کائنات آئین حقیقت ، کائنات میں اللہ کی نشانیاں ، فطری نظام معیشت ، ہندوستان میں اسلام کی اشاعت ، حقیقت نبوت ، حقیقی تصوف ، دعوت اسلام اور اس کے اصول و آداب ، دعوت دین اور اس کے کارکن ، دعوت دین کے مضمرات ، خواتین اسلام کی علمی خدمات ، وغیرہ ۔

مولانا شاعر بھی تھے ۔ وہ فراز سلطان پوری تخلّص رکھتے تھے ۔ ان کا کلام بہت پہلے ‘حرف و صدا’ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔ کچھ عرصہ قبل اضافہ شدہ اڈیشن ‘کلیاتِ فراز’ کے نام سے طبع ہوا ہے ۔ عرصہ پہلے ایک غزل سنی تھی اس کا ایک شعر اب تک حافظہ میں محفوظ ہے :

یہ کس نے کہا مت خطا کیجیے

جب خطا کیجیے رو لیا کیجیے

مولانا فاروق خاں ہندوستان کے مشہور ادارہ تحقیق و تصنیف ِاسلامی دودھ نگر علی گڑھ کے بانیوں میں سے تھے۔ادارہ کا ایک معروف رسالہ تحقیقات اسلامی ابھی تک باقاعدگی سے شائع ہو رہاہے۔ 1981 میں ادارہ کی تشکیلِ نو کے وقت مولانا صدر الدین اصلاحی کو صدر اور مولانا سید جلال الدین عمری کو سکریٹری منتخب کیا گیا ـ مولانا فاروق خاں اس کی مجلس منتظمہ کے رکن تھے ۔ 1984 میں جب مولانا صدر الدین اصلاحی نے صدارت سے معذرت کردی تو مولانا فاروق خاں کو صدر بنایا گیا ۔ برسوں کے بعد جب مولانا جلال الدین عمری نئی دہلی سے منتقل ہوئے تو مولانا نے ادارہ کی صدارت ان کے حوالے کردی ۔ مولانا عہدوں اور مناصب سے بڑے بے نیاز رہتے تھے ۔ وہ آخر تک ادارہ کی مجلس منتظمہ کی نشستوں میں پابندی سے شرکت کرتے تھے۔

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

اللہ تعالیٰ مولانا کی علمی اصلاحی، دینی ،تبلیغی خدمات کو قبول فرمائے ، ان لغزشوں سے درگزر کرے ، انہیں اعلیٰ علین میں مقام عطا کرے۔ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور عالم اسلام اورخصوصا برصغیر کے مسلمانوں کو ان کے نعم البدل سے نوازے، آمین، یا رب العالمین!

خدا رحمت کنند ایں

عاشقان پاک طینت را

٭٭٭

شیدائے قرآن مولانا محمد فاروق خاں ؒ

تحریر: مولانا سراج الدین ندوی

آج (۹/ذی الحج مطابق 28/جون 2023)بعد مغرب سوشل میڈیا کے ذریعہ خبر ملی کہ مترجم قرآن مولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب نہیں رہے۔میں نے نماز جمعہ کے بعد حاضرین کو یہ خبر دی،مولانا کے کے لیے دعائے مغفرت کی۔اس وقت ہماری مسجد میں بعد فجر مولانا کی تالیف کردہ حدیث کی کتاب کلام نبوت کا حصہ دوم پڑھا جارہا ہے۔میں نے وہ کتاب اٹھاکر دکھائی اور کہا کہ مولانا فاروق خاں ؒ صاحب نے اس کو سات جلدوں میں مرتب کیا ہے۔مولانا کی وفات کی خبر تحریکی حلقوں میں غم و اندوہ کی لہردوڑا گئی۔مولانا اگرچہ بہت ضعیف ہوچکے تھے،ان کی عمر نوے سال تھی،لیکن ایسا نہیں تھا کہ وہ چل ہی بسیں،آج ہی تو وہ اپنے پاؤں پر چل کر دہلی سے لکھنو پہنچے تھے۔یعنی پانچ سو کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا۔رات بھر ٹرین میں رہے تھے۔بخیریت اپنے بیٹے کے یہاں صبح پہنچے چکے تھے۔پھرایسا کیا ہوا کہ پھر فرش سے عرش تک کا راستہ لمحوں میں طے کرلیا،مگر یہ راستہ ہی ایسا ہے جو چند ثانیوں میں طے ہوجاتا ہے۔بقول شاعر

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ

دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

انسان نہیں جانتا کہ وہ جہاں جا رہا ہے موت اس کا انتظا رکررہی ہے۔گزشتہ دنوں ٹائٹنک جہاز کلا ملبہ دیکھنے کی خواہش رکھنے والے دنیا کے تین ارب پتی افراد تین ہزار میٹر گہرے سمند رمیں موت سے ہم آغوش ہوگئے۔مولانا فاروق خاں ؒ صاحب جو ساری عمر قرآن میں غوطہ زن رہے،انھیں کیا معلوم تھا کہ لکھنو کی شام ان کی زندگی کی شام بن جائے گی۔سائنسی تحقیقات کے زور پر انسان نے بہت سے راز ہائے سربستہ  پرسے پردہ ہٹادیا ہے،مگر ابھی کچھ راز ایسے ہیں جن کا انکشاف شاید کبھی نہ ہوسکے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ:

    وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا۔وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(لقمان 34) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ علم والااور باخبر ہے۔

مولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب سے میری پہلی ملاقات ڈاسنہ ضلع غازی آباد میں اجتماع جماعت اسلامی ہند علاقہ میرٹھ میں ہوئی تھی۔یہ 1973کی بات ہے۔عصر کے بعد وقفہ تھا۔میں نے جناب مولانا کوثر یزدانی ندوی ؒ سے کہا کہ چلئے کہیں چائے پیتے ہیں۔مولانا میرے عہد طفولیت میں کانتی کی توسیع کے لیے میرے گاؤں آچکے تھے،اس لیے میری ان سے اچھی شناسائی تھی۔مولانا بولے چلئے،انھوں نے اپنے ساتھ ایک رفیق کو اور لے لیا،میں انھیں جانتا نہیں تھا،وہ لمبے قد کے تھے،انھوں نے چوڑے پائینچوں والا پائجامہ اور ڈھیلا ڈھالا کرتا پہن رکھا تھا،پاجامے کا ایک پائینچا اونچا اور ایک نیچا تھا،عجیب دہقانی سے لگ رہے تھے،مجھے حیرت تھی کہ مولاناکوثر یزدانی ندوی صاحب نے کس دہقانی آدمی کو اپنے ساتھ لے لیا۔خیر ہم نے چائے پی۔اس کے بعد میں نے مولانا سے ان صاحب کا تعارف چاہا،مولانا کوثر یزدانی صاحب نے کہا:۔”ارے آپ انھیں نہیں جانتے،یہ مترجم قرآن مولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب ہیں۔“

اس کے بعدمولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب سے مسلسل ملاقاتیں رہیں۔ سال میں دو چارملاقاتیں ضرور ہوجاتی تھیں،اس لیے کہ میرا دہلی بکثرت جانا ہوتا تھا،مولانا سے ملاقات کے وقت میں اس بات کا ضرور خیال رکھتا کہ ان کا زیادہ وقت نہ لوں،کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ ایک مصنف کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے جب کہ وہ مطالعہ یا تحریر میں منہمک ہو،اس لیے کہ ذہن میں بہت سے خیالات و نکات گردش کرتے رہتے ہیں،جو ملاقاتی کے آنے سے ڈسٹرب ہوجاتے ہیں،بعض مرتبہ تو میں اسی احتیاط کی بنا پر ان سے بغیر ملاقات کیے واپس چلا آتا تھا۔

مولانا سے میرے مراسم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا نے میری کئی کتابوں پر مقدمے لکھے۔ان کا مطالعہ وسیع تھا،نظر گہری تھی،کسی کتاب پر ان کا مقدمہ اس کتاب کو سند اعتبار بخشتا تھا۔مولانا تصنیفی بورڈ کے بھی رکن تھے،جس کی سفارش پر مرکزی مکتبہ سے کتابیں شائع ہوتی تھیں،چنانچہ انھوں نے میری کئی کتابوں کے لیے سفارش بھی کی۔میں نے اپنے ایک دوست کی فرمائش پر جب روزہ و رمضان لکھی تو اس کا مسودہ مولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب کے پاس گیا۔مولانا نے مجھ سے کہا کہ آپ نے بہت اچھے انداز سے روزے کے فضائل،مسائل اور مقاصد پر روشنی دالی ہے،میری خواہش ہے کہ باقی ارکان دین پر بھی اسی انداز سے کتابیں تحریر فرمائیں۔آپ ہی کے مشورے پر میں نے عبادات نامی کتاب تصنیف کی،جسے علمی حلقوں میں خاصٰ پذیرائی حاصل ہوئی۔

جب تک مرکز و مکتبہ چتلی قبر میں رہا،تو مولانا کی رہائش بھی وہیں رہی،بلکہ مولانا تو وہاں سے جب منتقل ہوئے جب کہ چتلی قبر کی عمارت کو توڑنے کا سلسلہ شروع ہوا،مولانا کو پرانی دہلی سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ ابوالفضل آنا ہی نہیں چاہتے تھے،یہاں آکر بھی وہ مہینہ میں ایک بار پرانی دہلی ضرور جاتے تھے،وہاں ان کے بہت سے عقیدت مند تھے، انھوں نے برسوں جامع مسجد دہلی اور چتلی قبر دفتر جماعت اسلامی میں درس قرآن دیا تھا۔درس قرآن کی بات سے یاد آیا کہ مولانا کا درس سونے والوں کو جگا دیتا تھا،ان کی آواز کا زیر بم،کسی ایٹم بم سے کم نہیں تھا۔وہ قرآن کے ایسے رموز بیان کرتے تھے کہ سننے والے فرط حیرت سے مولانا کا منہ تکتے رہ جاتے تھے۔قرآن کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے:””قرآن کا معجزہ ہے کہ یہ کتاب عوام کے لیے بھی ہے، خواص کے لیے بھی اور خواص الخواص کے لیے بھی۔ آدمی جتنا گہرا ہوگا کتاب اتنی گہری ہوتی جائے گی اور آدمی جتنا بلند ہوگا کتاب اتنی بلند ہوتی جائے گی اور آدمی جتنا سادہ ہوگا کتاب اتنی ان کے لیے سادہ ہوتی جائے گی۔“

ان کی دل چسپی کا سب سے ترجیحی میدان قرآن تھا،جماعت اسلامی کے لیے قرآن پاک کا سب سے پہلے ہندی ترجمہ انھوں نے اس وقت کیا جب مرکز جماعت رام پورمیں تھا،اس کے بعد ایک اور ترجمہ کیا،پھر مولانا مودودی ؒ کے اردو ترجمہ کا ہندی ترجمہ کیا،انھوں نے ہندی میں قرآن کی تفسیر بھی لکھی،ان کے پاس قرآن مجید کے نادر اور،قدیم نسخے بھی تھے،اور تراجم قرآن بھی بڑی تعداد میں تھے،ان کی ذاتی لائبریری کا بڑا حصہ قرآنیات پر مشتمل تھا۔ہر وقت قرآن میں غورو فکر کرنا ان کا مشغلہ تھا،وہ کم گو تھے،زیادہ تر خاموش رہتے تھے،بے نیازی ان کی صفت تھی،چلتے پھرتے بھی ایسا لگتا جیسے کہ کچھ سوچ رہے ہوں،شاید قرآن کی کسی آیت کی پرتیں کھول رہے ہوں۔

ان کا دوسرا میدان ہندو مذہبی کتابیں اورہندوؤں کی مقدس شخصیات  سے وابستہ تھا۔اس موضوع پر انھوں نے کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں۔وہ ہندی ساہتیہ ٹرسٹ،مدھر سندیش سنگم سے بھی وابستہ تھے،وہ ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑ ھ کی صدر رہ چکے تھے۔ہندی میں وہ اپنے زمانے کے ایم اے تھے۔برادران وطن میں دعوتی کام اور ان سے انسانی تعلقات کے قیام پر وہ ہمیشہ توجہ دلاتے رہتے تھے،خود بھی بڑے بڑے آچاریوں اورشنکرآچاریوں سے بھینٹ کرتے رہتے تھے،ان کے درمیان اسلام کا پیغام پہنچا تے تھے،ان کی گفتگو سے ہندو مذہبی شخصیات بہت متاثر ہوتی تھیں۔

مولانا محمد فاروق خاں ؒ صاحب شاعر بھی تھے،فرازؔ ان کا تخلص تھا،ایک مجموعہ ’حرف و صدا‘ کے نام سے اور دوسرا ’کلیات فراز‘ کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں۔میرا احساس ہے کہ شاعری ان کی خانگی زندگی کی تلخیوں کا نتیجہ تھی۔میرے اس ا حساس کا ثبوت خود ان کا یہ شعر ہے:

کچھ زمانے سے کچھ اپنے سے گلہ تھا جس میں

شاعری اپنی وہ الہام ہوئی جاتی ہے

ان کی شادی مولانا وحید الدین خاں ؒ صاحب کی صاحب زادی سے ہوئی تھی،وہ جامعہ ملیہ میں پروفیسر تھیں،کہتے ہیں (واللہ اعلم)کہ مولانا وحید الدین خان صاحب نے زبردستی اپنی بیٹی کو طلاق دلوائی تھی،جس کا مولانا کو تاعمر قلق رہا،انھوں نے دوسری شادی نہیں کی،ظاہر ہے ہر انسان کو ایک شریک حیات کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر مولانا کی اولاد مولانا سے دور رہتی تھی،مولانا اپنا زیادہ تروقت اکیلے بسر کرتے تھے۔جب کمزور ہوئے توپرانی دہلی میں ان کا ایک عقیدت مند ان کی خدمت کرتا تھا۔ابوالفضل مرکز جماعت میں ملازمین ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔مولانا خادموں کو ضرورت بھر ہی تکلیف دیتے تھے،ان کا یہ مزاج نہیں تھا کہ ہر وقت کوئی خادم ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہے،بلکہ وہ تنہائی کو اپنے لیے زیادہ بہتر خیال کرتے تھے،اس لیے کہ غورو فکر اور تصنیف و تالیف کا کام تنہائی ہی میں ہوسکتا ہے۔

مولانا کی شاعری پر میرا تبصرہ کرنا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔میں ان کے مجموعہ کلام ’حرف و صدا‘ مطبوعہ 1991کے صفحہ 15سے پروفیسر ملک زادہ منظور کا اقتباس نقل کرتا ہوں،پروفیسر صاحب کا تعلق نہ جماعت اسلامی سے تھا اور نہ ادارہ ادب اسلامی سے،وہ خالص غزل کے شاعر تھے۔اس لیے ان کی گواہی ادبی دنیا کے لیے جس قدر معتبریت کا درجہ رکھتی ہے،شاید اس قدر ہم فکر افراد کی نہ رکھتی ہو۔ملک زادہ منظور لکھتے ہیں:

    ”غزل اگر اپنی روایتی بنیادوں پر قائم رہتے ہوئے عصری تقاضوں کو پورا کرے اور ان تمام اعلیٰ و ارفع قدروں کو آئینہ دکھلائے جو ماضی نے ہمارے سپرد کی ہیں تو میرے لیے وہ اک اچھی غزل ہے۔میں نے محمد فاروق خاں ؒ فراز سلطان پوری کا کلام جستہ جستہ پڑھا ہے اور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ان کے کلام کے اندر روایت کے صنم کدوں کا نور،عصر حاضر کی تمازت،اور اخلاق و معارف کے ساتھ ساتھ بصائر و تاملات کے بھی بہت سے پہلو نکلتے ہیں اور وہ زندگی اور ادب کی ان قدروں کے شارح اور وصاف ہیں جنھیں انسانیت نے ہر دور میں عزیز رکھا ہے۔وہ فن کی قدیم اور مستحکم بنیادوں پر غزل سرا ہوتے ہیں اور ان کی آواز صدیوں کا سینہ چیرتی ہوئی جب ہمارے کانوں تک پہنچتی ہے تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہماری اچھی ادبی روایتوں اور ہمارے عہد کی ملی جلی بازگشت ہے اور اسی لیے یہ بات بڑے اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ فاروق خاں ؒ فرازؔقصہ قدیم و جدیدسے بالا تر ہوکر ہمارے عہد کے ایک خوش فکر شاعر ہیں جو فن کے تمام لوازمات اوار لتزامات سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ انھیں سلیقے سے برتنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔۔۔۔۔“(حرف و صدا صفحہ 15)

 مولانا بذلہ سنج انسان تھے،ان کی تقریر اور دروس میں بھی یہ بذلہ سنجی دیکھنے کو ملتی تھی،کبھی کبھی لوگ خوب ہنستے تھے،لیکن اگلے ہی پل وہ محفل میں سنجیدگی پیدا کردیتے تھے،ان کے پاس بیٹھیے تو وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا،ایک کے بعد ایک قصے سناتے،بزرگوں کے واقعات پیش کرتے،قرآن و حدیث کی کوئی انوکھی بات بتاتے،کبھی اپنے اشعار بھی سنا کر محظوظ کرتے،اسی کے ساتھ مہان نوازی بھی کرتے،ان کے پاس جو الیکٹرک کیتلی تھی اس میں پانی ہر وقت گرم رہتاتھا،اپنے ہاتھ سے دم چائے بنا کر پلاتے تھے۔

مولانا کسی عہدے کے خواہش مند کبھی نہیں رہے۔ادارہ تحقیق و تصنیف کی صدارت سے بھی از خود الگ ہوگئے تھے۔ان کے ذوق کا جو میدان تھا میرا خیال ہے کہ عہدے اور مناصب کے ذوق کی تسکین کے لیے سد راہ تھے۔مناصب سے دور رہنے کا نتیجہ تھا کہ مولانا سو سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ان کی زیادہ تر کتابیں مرکزی مکتبہ اسلامی سے شائع ہوئی ہیں۔

ہر شخص کو ایک دن جانا ہی ہے،لیکن بعض لوگوں کا رخصت ہونا قلب و جگر پر گراں گزرتا ہے،ان ہی میں سے ایک مولانا فاروق خاں ؒ صاحب کا بھی جانا ہمارے لیے تکلیف کا باعث ہے۔مولانا سے میرے تعلقات کم و بیش پچاس سال پر محیط ہیں،میں نے ان کی کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے اور براہ راست ان کے دروس و خطابات سے بھی،جماعت کے اہم پروگراموں میں مولانا ہی کا درس ہوتا تھا۔وہ ہماری دنیا سے رخصت ہوگئے،لیکن مجھے امید ہے کہ حدیث ”ورَجُلان تَحَابَّا فی اللَّہِ، اجْتَمَعَا عَلَیْہِ، وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ(متفق علیہ)کے مطابق ان شاء اللہ ہم ان سے جنت میں ملیں گے۔اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے۔جنت میں ان کے درجات کو بلند فرمائے۔آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Customer Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “ASAAN TARJUMA QURAAN , URDU MUTARJIM: MAULANA MUHAMMAD FAROOQ KHA’N”

Your email address will not be published. Required fields are marked *