Tazkirah Ulama-e-Bihar (Jild Doem) | تذکرہ علمائے بہار (جلد دوم)
Share Before Download
اس کتاب کو دوستوں تک پہنچائیں
شیئر ہو رہی ہے...
15 سیکنڈ بعد ڈاؤنلوڈ بٹن آئے گا
✅ شکریہ! اب ڈاؤنلوڈ کریں
Related products
-
Maulana Husain Ahmad Madani ka Mashoor Maqadma Karachi مولانا حسین احمد مدنیؒ کا مشہور مقدمہ کراچی
Maulana Husain Ahmad Madani ka Mashoor Maqadma Karachi
مولانا حسین احمد مدنیؒ کا مشہور مقدمہ کراچیمولانا حسین احمد مدنی ؒ برصغیر مشہور سیاسی رہنماؤں میں سے ہیں آپ محدث ومفسر صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے انگریز حکومت کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں آپ کے خلاف مشہور مقدمہ جسے عموما مقدمہ کراچی کہتے ہیں قائم ہوا جس میں مولانا محمد علی جوہر ؒ بھی آپ کے ساتھ تھے یہ کتاب اسی مقدمہ کی روداد پر مشتمل ہے۔
مولانا حسین احمد کون تھے؟Download
-
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
11 مئی 1994ء کے سورج کے طلوع ہونے سے اس تاریک براعظم(افریقہ) کا آخری تار یک گوشہ بھی روشن ہو گیا اور رنگ ونسل کی وہ دیوار برلن جو جبر و استحصال کی مضبوط چٹانوں سے تعمیر کی گئی تھی بالآخر مسمار ہو گئی ۔ کل کے باغی حریت پسند اور ضمیر کے قیدی نیلسن منڈیلہ نے جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم آلود ہو گئیں ۔ حلف برداری کی تقریب کا یہ تاریخ ساز منظر دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت پر بیٹوریا کی یونین بلڈنگ میں موجود تھے۔ اس تاریخ ساز واقعے کے بعد جنوبی افریقہ میں 300 سال بعد غیر نسلی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں افریقن نیشنل کانگرس کی کامیابی نے اس ملک سے اس سفید فام تسلط کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے سیاہ فام اکثریت کو طویل جد و جہد کرنا پڑی۔ بے پناہ مظالم اور آمریت کا سامنا کرنا پڑا۔75 سالہ نیلسن منڈیلہ جب جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے تھے اس وقت گلیوں اور بازاروں میں لوگ جشن منا رہے تھے ، ناچ رہے تھے اور گا رہے تھے ۔ آج وہ آزاد تھے اور وہ خوش کیوں نہ ہوں کہ آزادی کے یہ ترانے انہیں نیلسن منڈیلہ ہی نے سکھائے تھے۔ نیلسن منڈیلہ کا صدر کے عہدے پر فائز ہونا دنیا کی سیاسی تاریخکا ایک بڑا واقعہ تھا۔ نیلسن منڈیلہ 18 جولائی 1918 ء کو متاتا کے قریب ہمبو قبیلے کے سردار خاندان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے طالب علمی ہی کے زمانے میں سیاست میں قدم رکھا۔اس کتاب میں آپ کی کامیابی کی مختصر روداد بیان کی گئی ہے۔
-
-
تاریخ اماکن لاہور, مصنف ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی,Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
-
Tazkirah Qariyan-e-Hind (Jild Doem) | تذکرہ قاریانِ ہند (جلد دوم)
پیش لفظ: جلد دوم تذکرہ قاریانِ ہند
تذکرہ قاریانِ ہند کی جلد اول بھی زیرِ طبع ہی تھی کہ جلد دوم کی طباعت کا انتظام بھی ہو گیا۔ چونکہ اس جلد میں قاریوں کے انفرادی حالات درج ہیں، اس لیے اس کا حجم جلد اول سے زیادہ ہو گیا۔ تاریخِ وفات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں نے قراء کی ترتیب دی ہے۔ ابتداء میں ایک تفصیلی فہرست کا اضافہ کیا گیا ہے۔
میں اپنے ان احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت تک ہر ہر قدم پر میری مدد کی ہے۔ خصوصاً قابلِ ذکر احباب یہ ہیں:
(1) جناب قاری عبد الرحمن سعید صاحب بی اے، جو ایک اچھے ادیب اور اہلِ قلم ہیں۔ ان کے قیمتی مشورے بہت سودمند ثابت ہوئے۔
(2) خواجہ محمد احمد صاحب ایم اے، ایل ایل بی، وظیفہ یاب ناظم آثارِ قدیمہ، جو بعض سفروں میں ساتھ رہے اور اپنے وسیع معلومات اور قدیم کتابوں کے حوالے فراہم کرتے رہے۔
(3) خواجہ حمید احمد صاحب بی اے، ڈپٹی سیکرٹری (وظیفہ یاب)، جن کے مشورے اور ملی مسائل کارآمد ثابت ہوئے۔میں ان سب احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کی صحت و ترقی کا متمنی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جلد سوم، جس میں قرائے حال کا تذکرہ ہے، زیرِ طبع ہے۔ ان شاء اللہ جلد منظرِ عام پر آئے گی۔
ان تینوں جلدوں میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر موجودہ دور تک کے قراء کا ذکر آ گیا ہے۔ میں نے ان سے ملاقات کر کے ان کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ جن قراء تک میری رسائی نہ ہو سکی، ان سے معذرت خواہ ہوں۔ اگر ایسے قراء یا ان کے دوست میری معاونت فرما کر ان کے حالات سے مطلع کریں تو ان شاء اللہ آئندہ ان کو بھی شامل کر لیا جائے گا۔
تذکرہ قراء کے ساتھ تاریخِ قراءت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے قراء سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مساعی و حالات سے واقف ہونا ہر قاری کے لیے ضروری ہے۔ جلد اول میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔
ان حالات و واقعات کو پڑھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہندوستان میں قراء نے خاطر خواہ خدمتِ قرآن نہیں کی۔ میرا مقصد بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین
خادمِ قراء
مرزا بسم اللہ بیگ -









Be the first to review “Tazkirah Ulama-e-Bihar (Jild Doem) | تذکرہ علمائے بہار (جلد دوم)”