-
Dard-e-Dard/درد دل
اس کتاب میں درج ذیل شعراء کا کلام موجود ہے
- چوہدری فاضل شائق موہری برسال گوجرخان
- ملک گلداد تبسم دھنواں پکھری آزاد کشمیر
- مختار حسین انجم دیرہ بخشیاں گوجرخان
- بشیر احمد بشیر بدہال ،مسہ کسوال گوجرخان
- نذیر احمد بشیر ،بدہال ،مسہ کسوال
واضح رہے کہ یہ کتاب 1990 سے 1995 کے دوران شائع ہوئی ہے اس وقت جناب فاضل شائق صاحب مختلف شعراء کا کلام شائع کرواتے رہے جو کتابچوں کی شکل میں شائع ہوتے تھے راقم الحروف کو بھی شاعری کا ذوق و شق ان کتابچوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے یہ نایاب کتاب جناب ظفر اقبال وارثی صاحب نے عنایت فرمائی اس کے علاوہ اور بھی بیت سی کتب ظفر اقبال وارثی صاحب کی وجہ سے منظر عام پر آئی ہیں فاضل شائق صاحب کی کچھ کتابیں راجہ علی حمزہ صاحب گوجرخان نے بھی بندہ کے ساتھ خصوصی تعاون کرتے ہوے عنایت فرمائی یوں آج سے پچیس تیس سال پہلے کی کتب منظر عام پر آئی اسکے علاہ حبیب امرت صاحب انگلینڈ سے،سائیں نجیب صاحب اور کشمیر کے دوستوں نے بہت تعاون کیا راقم الحروف نے خود بھی پوٹھوہار میں اس مقصد کے لئے کافی اسفار کئے اب لحمد للہ کثیر تعداد میں کتب طوبی بک فاونڈیشن آن لائن لائبریری کا حصہ بن چکی ہیں
-
kalam Shaiq/کلامِ شائق شاعر فاضل شائق
آرزوئے محبت وچ روہڑ دتے جو ہر عمر دے سارے خیرات کر کے
صلہ چاہت دا ملیا نہ مول مینوں ایسے رہیا مقدراں مات کر کے
پیشمان نہ ہو یا میں عمر ساری نے بھانویں ابتر کتنے حالات کر کے
اکو گل آخیر ہے شائق کھا گئی سجن رولیا مینوں دن رات کر کےآرزوئے محبت رہی کو ل میرے باقی ککھ نہ رہیا حیات اندر
عروچ اڈیکاں گزار چھوڑی لمحے فرقت دے رہے برات اندر
حاص ککھ نہ ہو یا آخیر اُتے خبرے رازسی کہڑا اس بات اندر
کنڈے ہر سو شائق کھیلار دتے آپو اپنی اس کائنات اندر -
Kulyat Bashir/کلیات بشیر
Kulyat Bashir / کلیات بشیر
“Kulyat Bashir” is a collection of the Punjabi and Pothohari poetry of Raja Bashir Ahmed, published by the Pothohar Adabi Academy (“پوٹھوہار ادبی اکیڈمی”). The book was published under the patronage of the Chairman of the Pothohar Adabi Academy (“پوٹھوہار ادبی اکیڈمی”) Ustaad Shua’ra Fazi’l Shaik (“استاد الشعراء فاضل شائق”) in June 1993. The cover design of the book was prepared by Yunus Kamal Noshi (“یونس کمال نوشاہی”) from Kallar Syedan, while the calligraphy was done by Chaudhry Tayyab Hussain Barsalvi (“چوہدری طیب حسین برسالوی”). The book was published at the request of Raja Asghar Zaman Kiani (“راجہ اصغر زمان کیانی”).Raja Nazir Ahmed Bashir was born in 1933 in the village of Dhoke Badhal (“گاؤں ڈھوک بدہال”). He began writing poetry in Punjabi and Pothohari at the age of 25, focusing on subjects like “Ahmad and Naat” (“احمد و نعت”), the “waqea Miraj al-Nabi ﷺ” (“واقعہ معراج النبی ﷺ”), the “شہدائے کربلا” (“Shaheedaye Karbala”), “Showni Mainwal” (“شوہنی مینوال”), and “true love” (“عشق حقیقی”). He passed away at the age of 38 due to a road accident after being under medical care for a month. During his life, he had planned to publish a book titled “Barg o Sammar” (“برگ وثمر”) (Leaves and Fruits). In his memory, his brother, Raja Nazir Ahmed Bashir, compiled his works and had them published by the academy.
FREE DELIVERY
When ordering from $500.





