پیش لفظ: جلد دوم تذکرہ قاریانِ ہند
تذکرہ قاریانِ ہند کی جلد اول بھی زیرِ طبع ہی تھی کہ جلد دوم کی طباعت کا انتظام بھی ہو گیا۔ چونکہ اس جلد میں قاریوں کے انفرادی حالات درج ہیں، اس لیے اس کا حجم جلد اول سے زیادہ ہو گیا۔ تاریخِ وفات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں نے قراء کی ترتیب دی ہے۔ ابتداء میں ایک تفصیلی فہرست کا اضافہ کیا گیا ہے۔
میں اپنے ان احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت تک ہر ہر قدم پر میری مدد کی ہے۔ خصوصاً قابلِ ذکر احباب یہ ہیں:
(1) جناب قاری عبد الرحمن سعید صاحب بی اے، جو ایک اچھے ادیب اور اہلِ قلم ہیں۔ ان کے قیمتی مشورے بہت سودمند ثابت ہوئے۔
(2) خواجہ محمد احمد صاحب ایم اے، ایل ایل بی، وظیفہ یاب ناظم آثارِ قدیمہ، جو بعض سفروں میں ساتھ رہے اور اپنے وسیع معلومات اور قدیم کتابوں کے حوالے فراہم کرتے رہے۔
(3) خواجہ حمید احمد صاحب بی اے، ڈپٹی سیکرٹری (وظیفہ یاب)، جن کے مشورے اور ملی مسائل کارآمد ثابت ہوئے۔
میں ان سب احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کی صحت و ترقی کا متمنی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جلد سوم، جس میں قرائے حال کا تذکرہ ہے، زیرِ طبع ہے۔ ان شاء اللہ جلد منظرِ عام پر آئے گی۔
ان تینوں جلدوں میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر موجودہ دور تک کے قراء کا ذکر آ گیا ہے۔ میں نے ان سے ملاقات کر کے ان کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ جن قراء تک میری رسائی نہ ہو سکی، ان سے معذرت خواہ ہوں۔ اگر ایسے قراء یا ان کے دوست میری معاونت فرما کر ان کے حالات سے مطلع کریں تو ان شاء اللہ آئندہ ان کو بھی شامل کر لیا جائے گا۔
تذکرہ قراء کے ساتھ تاریخِ قراءت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے قراء سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مساعی و حالات سے واقف ہونا ہر قاری کے لیے ضروری ہے۔ جلد اول میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔
ان حالات و واقعات کو پڑھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہندوستان میں قراء نے خاطر خواہ خدمتِ قرآن نہیں کی۔ میرا مقصد بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین
خادمِ قراء
مرزا بسم اللہ بیگ