-
Gulzar-e-Naseem | گلزارِ نسیم
گلزارِ نسیم اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں ایک نمایاں اور شاہکار تصنیف ہے، جس کے خالق پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ہیں۔ نسیمؔ کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی یہ مثنوی اردو زبان کی بہترین عشقیہ داستانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت، محاورے کی شستگی، منظر نگاری کی دلکشی اور شعری حسن نے گلزارِ نسیم کو اردو ادب میں دائمی مقام عطا کیا ہے۔
اس مثنوی کی داستان فارسی ماخذ سے اخذ کی گئی، لیکن نسیمؔ نے اسے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت اور فنی مہارت کے ذریعے ایک منفرد ادبی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ اردو کے معروف شاعر برج نارائن چکبست نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ “مثنوی نہیں کہی گئی بلکہ موتی پروئے گئے ہیں”۔ یہ تبصرہ اس کتاب کی ادبی عظمت کا بہترین اعتراف ہے۔
زیرِ نظر ایڈیشن کو اردو کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات رشید حسن خان نے مرتب کیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی اور تحقیقی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گلزارِ نسیم اردو مثنوی، کلاسیکی شاعری، دبستانِ لکھنؤ اور ادبی تاریخ کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
-
Mustalahat-e-Thaggi | مُصطلحاتِ ٹھگی
مُصطلحاتِ ٹھگی اردو کے نامور محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات اور مدوّن رشید حسن خان کی ایک منفرد تحقیقی و لغوی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تاریخی گروہ “ٹھگ” (Thuggee) سے متعلق الفاظ، اصطلاحات، محاورات اور مخصوص زبان کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے نایاب تاریخی ماخذ، سرکاری ریکارڈ اور لسانی مواد کی مدد سے ان اصطلاحات کو مرتب اور تشریح کے ساتھ پیش کیا ہے۔
یہ کتاب صرف ایک لغت نہیں بلکہ برصغیر کی سماجی، ثقافتی اور لسانی تاریخ کا ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ اس میں ٹھگوں کی خفیہ زبان، طرزِ گفتگو، پیشہ ورانہ اصطلاحات اور ان کے معاشرتی پس منظر کو واضح کیا گیا ہے، جس سے قاری کو ہندوستانی سماج کے ایک کم معروف تاریخی پہلو کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
مُصطلحاتِ ٹھگی لسانیات، لغت نویسی، سماجی تاریخ، ثقافتی مطالعات اور برصغیر کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور قارئین کے لیے ایک اہم حوالہ جاتی کتاب ہے۔
زیر نظر کتاب مصطلحات ٹھگی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ٹھگی قتل و لوٹ مار کا ایک ایسا منظم طریقہ تھا جو تقریبا دوسو سال تک ہندوستان میں رائج رہا۔ ٹھگی محض ایک لوٹ مار اور قتل و غارت نہیں تھی بلکہ اس نے ایک خاص مذہبی فرقے کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اس کی پابندی باقاعدہ اصول و ضوابط تھے۔اس مسلک کے پیروکاروں کے ایسے عقائد تھے جن کی پابندی ہر ٹھگ کے لیے لازمی تھی۔ رشید حسن خاں کتاب کے مقدمے میں بہت ہی عالمانہ انداز میں ٹھگوں کے عقائد، ان کے طریقہ کار اور ان کے حالات وغیرہ ایسی معلومات فراہم کی ہیں جن سے عام لوگ ناواقف تھے

