Showing all 2 results

  • Bar-e-Sagheer-e-Hind Ka Almiya | برِصغیرِ ہند کا المیہ

    برِصغیرِ ہند کا المیہ ممتاز محقق ڈاکٹر رضی احمد کی ایک اہم تاریخی و تجزیاتی تصنیف ہے، جس میں برصغیر کی سیاسی، سماجی اور تاریخی صورتِ حال، تقسیمِ ہند کے اسباب و نتائج، ہندو مسلم تعلقات اور آزادی کی تحریک کے مختلف پہلوؤں کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے تاریخی واقعات، مستند حوالوں اور مختلف نقطۂ ہائے نظر کی روشنی میں برصغیر کے المیے کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے دور رس اثرات کو واضح کیا ہے۔

    کتاب میں برطانوی استعمار، تحریکِ آزادی، قیامِ پاکستان، تقسیمِ ہند کے انسانی المیے، سیاسی فیصلوں اور ان کے معاشرتی اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف کا متوازن اور تحقیقی انداز اس کتاب کو تاریخِ برصغیر، تحریکِ پاکستان اور جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کے مطالعے کے لیے ایک مفید ماخذ بناتا ہے۔

    برِصغیرِ ہند کا المیہ تاریخ، سیاسیات، مطالعاتِ پاکستان، مطالعاتِ ہند اور جنوبی ایشیا کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک قابلِ قدر تحقیقی کتاب ہے۔

  • Mustalahat-e-Thaggi | مُصطلحاتِ ٹھگی

    مُصطلحاتِ ٹھگی اردو کے نامور محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات اور مدوّن رشید حسن خان کی ایک منفرد تحقیقی و لغوی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تاریخی گروہ “ٹھگ” (Thuggee) سے متعلق الفاظ، اصطلاحات، محاورات اور مخصوص زبان کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے نایاب تاریخی ماخذ، سرکاری ریکارڈ اور لسانی مواد کی مدد سے ان اصطلاحات کو مرتب اور تشریح کے ساتھ پیش کیا ہے۔
    یہ کتاب صرف ایک لغت نہیں بلکہ برصغیر کی سماجی، ثقافتی اور لسانی تاریخ کا ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ اس میں ٹھگوں کی خفیہ زبان، طرزِ گفتگو، پیشہ ورانہ اصطلاحات اور ان کے معاشرتی پس منظر کو واضح کیا گیا ہے، جس سے قاری کو ہندوستانی سماج کے ایک کم معروف تاریخی پہلو کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
    مُصطلحاتِ ٹھگی لسانیات، لغت نویسی، سماجی تاریخ، ثقافتی مطالعات اور برصغیر کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور قارئین کے لیے ایک اہم حوالہ جاتی کتاب ہے۔
    زیر نظر کتاب مصطلحات ٹھگی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ٹھگی قتل و لوٹ مار کا ایک ایسا منظم طریقہ تھا جو تقریبا دوسو سال تک ہندوستان میں رائج رہا۔ ٹھگی محض ایک لوٹ مار اور قتل و غارت نہیں تھی بلکہ اس نے ایک خاص مذہبی فرقے کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اس کی پابندی باقاعدہ اصول و ضوابط تھے۔اس مسلک کے پیروکاروں کے ایسے عقائد تھے جن کی پابندی ہر ٹھگ کے لیے لازمی تھی۔ رشید حسن خاں کتاب کے مقدمے میں بہت ہی عالمانہ انداز میں ٹھگوں کے عقائد، ان کے طریقہ کار اور ان کے حالات  وغیرہ ایسی معلومات فراہم کی ہیں جن سے عام لوگ ناواقف تھے