-
Chouhtay Laaray | چھوہٹے لارے
Chouhtay Laaray | چھوہٹے لارے فیصل عرفان کی ایک منفرد اور خوبصورت پوٹھوہاری لوک ادبی کتاب ہے جس میں پوٹھوہاری زبان کی لوریاں، بچوں کے گیت، دیہی تہذیب کی جھلکیاں اور ماں کی محبت سے جڑی روایتی شاعری شامل ہے۔ کتاب کے سرورق پر واضح طور پر “پوٹھوہاری لوریاں، لوک سلوکیاں” درج ہے جبکہ ابتدائی صفحات میں مصنف نے پوٹھوہاری زبان، ثقافت اور لوریوں کی روایت کو محفوظ کرنے کی کوشش کو بیان کیا ہے۔
کتاب میں شامل لوریاں دیہی معاشرت، ماں کی ممتا، بچوں کی پرورش، خاندانی محبت اور پوٹھوہار کی ثقافتی روایات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔ فہرستِ مضامین میں درجنوں پوٹھوہاری لوریاں شامل ہیں جن کے عنوانات “اللہ ہو زاری”، “کاکے نیاں بویاں”، “ماہ صدقے ماہ واری” اور دیگر روایتی لوک گیتوں پر مشتمل ہیں۔
مصنف فیصل عرفان نے حرفِ آغاز میں لکھا ہے کہ یہ کتاب پوٹھوہاری زبان اور لوک ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ مقامی زبان، لوریاں اور ثقافتی روایات محفوظ رہ سکیں۔
یہ کتاب پوٹھوہاری ادب، لوک شاعری، علاقائی ثقافت، پنجابی ادب اور دیہی روایات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔
-
Gohar-e-Akhlaq | گوہرِ اخلاق
Gohar-e-Akhlaq | گوہرِ اخلاق الحاج محمد اخلاق ارشد نقشبندی کا ایک منفرد پوٹھوہاری شعری مجموعہ ہے جس میں چار مصرعی شاعری (چومصرع) کی صنف کو اختیار کرتے ہوئے حمد، نعت، منقبت، روحانی کلام اور پوٹھوہاری غزلیں شامل کی گئی ہیں۔
کتاب میں پوٹھوہاری زبان کی مٹھاس، مقامی ثقافت کی جھلک، عشقِ رسول ﷺ، اولیائے کرام سے عقیدت، اخلاقی تعلیمات اور انسانی جذبات کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے چومصرع کی روایتی صنف کے ذریعے مذہبی، روحانی اور ادبی موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
یہ کتاب پوٹھوہاری ادب، لوک شاعری، نعتیہ ادب، منقبتی شاعری اور علاقائی زبانوں کے محققین و شائقین کے لیے ایک اہم ادبی سرمایہ ہے
-
Kher Shah da Kalam | خیر شاہ دا کلام
Kher Shah da Kalam | خیر شاہ دا کلام خیر شاہ کی ایک اہم سرائیکی لوک شاعری کی کتاب ہے جس میں مقامی ثقافت، لوک گیت، روایتی کلام اور اخلاقی و سماجی پیغامات کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تحقیق و تہذیب طایر تونسوی نے اس کتاب کو مرتب اور تحقیقی انداز میں اردو و سرائیکی قارئین کے لیے پیش کیا ہے۔
کتاب میں شامل اشعار سرائیکی زبان، علاقائی لوک ادب، معاشرتی اقدار اور مقامی روایات کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں اور یہ کتاب لوک ادب، سرائیکی شاعری اور ثقافتی ورثے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔







