Showing all 4 results

  • Deewan-e-Meer | دیوانِ میر

    Deewan-e-Meer | دیوانِ میر اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر میر تقی میرؔ کے منتخب کلام کا ایک اہم اور معیاری انتخاب ہے، جسے معروف شاعر، ادیب اور محقق افضال احمد سید نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلوں، اشعار اور منتخب تخلیقات کو جدید قاری کی ضرورت اور ادبی ذوق کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔

    میر تقی میرؔ کو اردو غزل کا خداۓ سخن کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، انسانی جذبات، زندگی کی ناپائیداری، تصوف اور داخلی کیفیات کی نہایت مؤثر ترجمانی ملتی ہے۔ افضال احمد سید نے اس انتخاب میں میرؔ کے ان اشعار کو شامل کیا ہے جو اردو شاعری کی فنی، فکری اور جمالیاتی روایت کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔

    یہ کتاب اردو شاعری، کلاسیکی ادب، غزل گوئی، تنقیدی مطالعے اور میر شناسی میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔

  • Gulzar-e-Naseem | گلزارِ نسیم

    گلزارِ نسیم اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں ایک نمایاں اور شاہکار تصنیف ہے، جس کے خالق پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ہیں۔ نسیمؔ کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی یہ مثنوی اردو زبان کی بہترین عشقیہ داستانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت، محاورے کی شستگی، منظر نگاری کی دلکشی اور شعری حسن نے گلزارِ نسیم کو اردو ادب میں دائمی مقام عطا کیا ہے۔

    اس مثنوی کی داستان فارسی ماخذ سے اخذ کی گئی، لیکن نسیمؔ نے اسے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت اور فنی مہارت کے ذریعے ایک منفرد ادبی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ اردو کے معروف شاعر برج نارائن چکبست نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ “مثنوی نہیں کہی گئی بلکہ موتی پروئے گئے ہیں”۔ یہ تبصرہ اس کتاب کی ادبی عظمت کا بہترین اعتراف ہے۔

    زیرِ نظر ایڈیشن کو اردو کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات رشید حسن خان نے مرتب کیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی اور تحقیقی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گلزارِ نسیم اردو مثنوی، کلاسیکی شاعری، دبستانِ لکھنؤ اور ادبی تاریخ کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔

  • Kutub Khana | کتب خانہ

    Library History, Book Culture & Literary Research | تاریخِ کتب خانہ، کتابی ثقافت اور ادبی تحقیق

    کتب خانہ معروف صحافی، براڈکاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی کی ایک منفرد اور یادگار تصنیف ہے، جو دراصل بی بی سی اردو کے مشہور ریڈیو پروگرام “کتب خانہ” پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں موجود نایاب کتب خانوں، ذاتی ذخائرِ کتب اور علمی مراکز کا دلچسپ اور معلوماتی تعارف پیش کیا گیا ہے۔

    مصنف نے کتابوں سے محبت کرنے والوں، محققین، کتب فروشوں اور علمی شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا کو قارئین کے سامنے رکھا ہے جو نادر مخطوطات، قدیم کتابوں اور علمی ورثے سے مالا مال ہے۔ کتاب کے چوبیس ابواب میں مختلف مقامات پر موجود نایاب کتابی ذخائر اور ان کی تاریخ کو دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    کتب خانہ صرف کتب خانوں کا تعارف نہیں بلکہ برصغیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا ایک زندہ دستاویز بھی ہے۔ کتابوں، لائبریریوں، مخطوطات، اردو ادب اور ثقافتی ورثے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک نہایت قیمتی اور دلچسپ مطالعہ ہے۔