-
Gulistan-e-Alfaz-o-Ma’ani | گلستانِ الفاظ و معانی
گلستانِ الفاظ و معانی معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم کی ایک منفرد علمی و لسانی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں الفاظ کی اصل، ان کے سفر، مختلف زبانوں میں ان کی منتقلی، معنوی تبدیلیوں اور تہذیبی اثرات کو نہایت دلچسپ اور تحقیقی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مصنف نے واضح کیا ہے کہ جس طرح انسان مختلف علاقوں اور تہذیبوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی طرح الفاظ بھی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہو کر نئے رنگ اور معانی اختیار کرتے ہیں۔ کتاب زبان، ثقافت اور تاریخ کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اردو، عربی اور فارسی الفاظ کے ارتقاء پر مفید معلومات پیش کرتی ہے۔
ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم ہیں اور عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے ان کی خدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی اور زبان کے ارتقاء میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔
-
Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ
مولوی احمد دین پنجاب کے بہت اچھے انشاء پردازوں میں سے تھے۔ان کی مشہور کتاب سر گزشت الفاظ پر پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی نے ان کو انعام دیا تھا،اور علامہ نے اس پر ایک تقریب نامہ بھی لکھا تھا۔ احمد دین کولفظی تحقیقات سے خاص دلچسپی تھی۔ انھوں نے اس کتاب کی داغ بیل 1901ء میں ڈالی تھی جب کہ مطالعۂ الفاظ کے عنوان سے ان کا ایک مقالہ دو قسطوں میں مخزن میں شائع ہوا تھا، یہ مقالہ بعد میں قدرے ترمیم کے ساتھ سرگذشتِ الفاظ میں شامل کیا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ 1901ء میں جو کام انھوں نے شروع کیا تھا، وہ بائیس برس کے بعد سر گذشتِ الفاظ کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ احمد دین نے دیباچے میں بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب میں پادری ٹرنچ کی کتاب مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کیا ہے۔ دراصل احمد دین کی کتاب کا پورا ڈھانچا وہی ہے جو ٹرنچ کی کتاب کا ہے۔ سرگذشتِ الفاظ کے تمام مطالب، ٹرنچ ہی کی صدائے بازگشت ہیں۔مطالعۂ الفاظ سے استفادہ کہیں لفظی ترجمے کی صورت میں کیا گیا ہے، اور کہیں ٹرنچ کے خیالات کو قدرے مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دونو ں کتابوں کے ابواب کی تقسیم اور مطالب کی ترتیب یکساں ہے۔ یہاں تک کہ ابواب کے عنوانات بھی یکساں ہیں۔ ٹرنچ کی کتاب کے تمام نظریاتی مباحث سرگذشتِ الفاظ میں موجود ہیں۔ یہ ایک فائدے مند کتاب ہے جہاں لفظوں کے روٹس سے بہتر واقفیت ہوجاتی ہے۔
Sarguzasht-e-Alfaz | سرگزشتِ الفاظ اردو زبان، لسانیات اور علمِ الفاظ پر ایک دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے، جسے احمد دین بی اے نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں مختلف اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے الفاظ کی اصل، ارتقاء، معنوی تبدیلیوں اور تاریخی پس منظر کو آسان اور دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مصنف نے الفاظ کی تاریخ، ان کے سفر، مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے باہمی اثرات، اور زبان کی تشکیل میں الفاظ کے کردار کو تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ کس طرح مختلف ادوار سے گزر کر اپنی موجودہ شکل اور معنی تک پہنچے۔
سرگزشتِ الفاظ زبان و ادب کے طلبہ، محققین، اساتذہ اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، اردو لغت اور زبان کی تاریخ کے مطالعے میں اہم معاون ثابت ہوتی ہے۔

