-
-
Aik Ankh Wala Dajjal | ایک آنکھ والا دجال
“Aik Ankh Wala Dajjal” is an insightful and research-based book authored by Dr. Gohar Mushtaq. The book analyzes contemporary global phenomena, mass media, modern ideologies, and geopolitical events in the light of Islamic eschatology (End Times) and prophecies regarding Dajjal (the Antichrist). The author meticulously connects current world affairs with religious texts to awaken readers spiritually and intellectually. It is a must-read for those interested in Islamic studies, comparative religion, and end-times analysis
جدید دجالی نظام کی جڑوں کی آبیاری مغرب کے ایسے مفکرین اور سائنسدانوں نے کی جو خدا کی ذات سے بیزار اور مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے۔ ڈارون (Darwin) کی فکر جو کہ مغربی عمرانی علوم کی بنیاد بنی کے مطابق انسان کا ارتقاء بندر سے ہوا اور انسانوں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں۔ کارل مارکس (Karl Marx) اور ایڈم سمتھ (Adam Smith) نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ انسان کے تمام اعضائے رئیسہ میں سے ان کا مطمح نظر صرف اور صرف اس کا معدہ ہونا چاہیے۔ فرائڈ (Sigmund Freud) نے انسانیت کو جنس پرستی کا پیغام دیا۔ لیکن دجالی نظام کی جڑوں کو مضبوط کرنے والے اکثر مفکرین کا انجام بہت برا ہوا۔ کارل مارکس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا۔ فرائڈ کی ہر چیز کی جنسی تعبیر سے تنگ آکر اس کے سب سے قابل شاگرد اور مستقبل میں متوقع جانشین کارل ینگ (Carl Jung) نے اپنے استاد کے نظریات سے توبہ کی اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔فرائڈ خود تمام عمر کوکین (cocaine) کا نشہ کرتا رہا اور مرنے سے کچھ پہلے اپنے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے اسے مارفین کے ٹیکے لگا کر ختم کر دیا جائے۔ یوں فرائڈ نے خودکشی کرلی۔ مشہور فرانسیسی فلسفی، اگسٹ کامتے (August Comte) جو کہ جدید سوشیالوجی کا بانی کہلاتا ہے، زندگی کے آخری سالوں میں ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔ جرمن فلسفی شوپن ہار (Schopenhauer) بھی زندگی کے بیشتر حصے پاگل رہا۔ عظیم جرمن فلسفی نیٹشے (Nietzsche) جس نے اپنی کتاب (This Spoke Zarathustra) میں بانگِ دہل لکھ دیا تھا کہ (معاذ اللہ) “God is Dead” (خدا مرگیا ہے) اور پوری دنیا کے دجالی نظام میں یہ بات بہت سراہی گئی تھی۔ (امریکہ کے مشہورتصویر میں موجود متن درج ذیل ہے:رسالے (Newsweek) نے ۸ اپریل ۱۹۶۶ء کے شمارے میں یہ خبر اپنے فرنٹ کور پر شائع کی) وہی نیٹشے اپنی زندگی کے آخری دس سال پاگل رہ کر ۱۹۰۰ء میں خود مر گیا۔ دراصل ان “عظیم” ذہنوں نے اپنے خدا کو بھلا دیا تھا اس لیے خدا نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا کیونکہ خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(سورة الحشر: آیت ۱۹)(اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔)مسلمان کا گھر سب سے بڑا قلعہ ہے۔ مسلم کنبہ سب سے بڑی ڈھال ہے۔ ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں کا سب سے بڑا نشانہ مسلمانوں کا خاندانی نظام ہے۔ یہ ایجنٹ گھر گھر میں ٹی وی، انٹرنیٹ، کیبل، ڈش، آئی فون وغیرہ کے روپ میں گھس کر اس کے افراد میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ دوسری طرف سوسائٹی میں مخلوط تعلیم، ویلنٹائن ڈے جیسی رسومات، موسیقی کا فروغ وغیرہ کے ذریعے اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔اس کتاب کے مضامین میں انہی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے تمام مضامین میں ایک مقصدی ربط پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا موضوع ایک ہی ہے یعنی دجال اور اس کے ایجنٹوں کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ باطل کے کُلے کو پست کرے اور حق کے کُلے کو سر بلند فرمادے۔ (آمین)۔حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرحآج اظہار کریں اور خلش مٹ جائےڈاکٹر گوہر مشتاقکیلیفورنیا – 2012ء -
Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم
Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم اردو زبان، الفاظ کی تاریخ، ان کے معنوی ارتقاء اور لسانی پس منظر پر ایک منفرد اور اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد حسن قادری ہیں، جبکہ اسے معروف ماہرِ لسانیات اور لغت نگار ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب و مدون کیا۔ کتاب 2022 میں شائع ہوئی اور اردو زبان و ادب کے حلقوں میں خاص توجہ حاصل کی۔
اس کتاب میں اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں سے اردو میں آنے والے الفاظ کی اصل، ان کے استعمال، تاریخی سفر اور معنوی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے الفاظ کی دنیا کو نہایت دلچسپ، تحقیقی اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری زبان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر رؤف پاریکھ، جو اردو کے ممتاز لغت نگار اور ماہرِ لسانیات ہیں، نے اس مسودے کو مرتب کرکے شائع کروایا۔ ان کے مطابق کتاب کا مسودہ محفوظ تھا جسے بعد ازاں الفاظ کا طلسم کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کیا گیا۔
یہ کتاب اردو زبان، لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی، ادبیات اور زبان کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔
-
Armaghan-e-Pak | ارمغانِ پاک
ارمغانِ پاک معروف محقق، مؤرخ اور ادیب شیخ محمد اکرم کی ایک منفرد ادبی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں برصغیر پاک و ہند کے ممتاز شعراء کے منتخب کلام کو تاریخی ترتیب اور تنقیدی پس منظر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا مقصد اردو شاعری کے ارتقائی سفر، مختلف ادبی ادوار اور شعراء کے فکری و فنی رجحانات کو ایک منظم انداز میں متعارف کرانا ہے۔
مصنف نے مختلف ادوار کے شعراء کے منتخب اشعار کے ساتھ ان کے ادبی مقام، تاریخی پس منظر اور شعری خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس طرح یہ کتاب صرف شعری انتخاب نہیں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ، اس کے فکری ارتقاء اور ادبی روایت کا ایک جامع خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔
ارمغانِ پاک اردو شاعری، تاریخِ ادب، تذکرۂ شعراء اور ادبی تنقید سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ تصنیف برصغیر کے شعری ورثے کو سمجھنے اور مختلف شعری ادوار کے نمایاں نمائندوں سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
-
Baba-e-Urdu: Ahwal-o-Afkar | بابائے اردو: احوال و افکار
“بابائے اردو: احوال و افکار” مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کی حیات، خدمات، علمی و ادبی کارناموں اور فکری جہات پر ایک گہرا تحقیقی مطالعہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں بابائے اردو کی زندگی کے مختلف گوشوں، انجمن ترقی اردو کے لیے ان کی گراں قدر خدمات، اور اردو زبان کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں ان کی جدوجہد کو بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے طلبہ، محققین اور بابائے اردو کی سوانح سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی دستاویز ہے۔
مکمل کتاب حاصل کرنے کے لئے اس نمبر پر رابطہ فرمائیں
03065217406 -
Cold War In The Islamic World: Saudi Arabia, Iran And The Struggle For Supremacy
Cold War in the Islamic World: Saudi Arabia, Iran and the Struggle for Supremacy is a significant scholarly work by renowned historian and political analyst Dilip Hiro. The book offers a comprehensive examination of the geopolitical, ideological, and strategic rivalry between Saudi Arabia and Iran, two of the most influential powers in the Middle East and the wider Islamic world.
Drawing upon historical evidence and political analysis, Hiro traces the origins and evolution of this rivalry from the early twentieth century to the contemporary era. He explores key developments such as the discovery of oil, the Iranian Revolution of 1979, the Iran–Iraq War, the Gulf conflicts, and the competing roles of Saudi Arabia and Iran in regional crises across Afghanistan, Pakistan, Iraq, Syria, and Yemen. The book also highlights the involvement of global powers, particularly the United States and Russia, in shaping the balance of power in the region.
Rather than presenting a mere chronological account of events, the author critically analyzes the political, religious, economic, and strategic factors that have fueled the competition between Riyadh and Tehran. By doing so, he demonstrates how this rivalry has influenced regional stability, sectarian dynamics, and international relations throughout the Muslim world.
Published by Oxford University Press in 2018, this work serves as a valuable resource for students, researchers, and scholars of Middle Eastern studies, international relations, political science, and contemporary Islamic history. It provides important insights into one of the most consequential geopolitical rivalries of the modern era and its far-reaching implications for regional and global politics.
-
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر میر تقی میرؔ کے منتخب کلام کا ایک اہم اور معیاری انتخاب ہے، جسے معروف شاعر، ادیب اور محقق افضال احمد سید نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلوں، اشعار اور منتخب تخلیقات کو جدید قاری کی ضرورت اور ادبی ذوق کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔
میر تقی میرؔ کو اردو غزل کا خداۓ سخن کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، انسانی جذبات، زندگی کی ناپائیداری، تصوف اور داخلی کیفیات کی نہایت مؤثر ترجمانی ملتی ہے۔ افضال احمد سید نے اس انتخاب میں میرؔ کے ان اشعار کو شامل کیا ہے جو اردو شاعری کی فنی، فکری اور جمالیاتی روایت کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ کتاب اردو شاعری، کلاسیکی ادب، غزل گوئی، تنقیدی مطالعے اور میر شناسی میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔
-
Dil Darya Diyan Mojan | دل دریا دیاں موجاں
دل دریا دیاں موجاں معروف پنجابی شاعر، ادیب اور دانشور دائم اقبال دائم کی ایک اہم ادبی تصنیف ہے، جس میں پنجابی تہذیب، ثقافت، محبت، انسان دوستی، روحانیت اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دلنشین اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا عنوان پنجابی صوفی روایت کی اس فکر کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان کے باطن کو ایک گہرے دریا سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
-
Diyar-e-Habib Mein Chand Roz | دیارِ حبیب میں چند روز
دیارِ حبیب میں چند روز حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ کی ایک روح پرور سفری و روحانی تصنیف ہے، جس میں حرمین شریفین، حج و عمرہ کے مشاہدات، عشقِ رسول ﷺ، روحانی کیفیات اور اسلامی مقدسات سے وابستہ احساسات کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات، عبادات کے اثرات اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کی روحانی فضا کا تذکرہ کیا ہے، جو قاری کے دل میں عقیدت و محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔
یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، عشقِ نبوی ﷺ اور اصلاحِ باطن کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ سلسلۂ نقشبندیہ اویسیہ کے معروف شیخ، مفسر اور روحانی راہنما تھے، جن کی تصانیف اور دروس نے ہزاروں افراد کی فکری و روحانی تربیت میں کردار ادا کیا۔
حج، عمرہ، اسلامی سفرناموں، روحانی ادب اور سیرتِ نبوی ﷺ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب نہایت مفید اور ایمان افروز مطالعہ ہے۔
-
Farhang-e-Amsal | فرہنگِ امثال
فرہنگِ امثال اردو کے ممتاز محقق، ادیب اور ماہرِ زبان سید مسعود حسن رضوی کی ایک اہم لغوی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں اردو زبان میں رائج کہاوتوں، ضرب الامثال، محاورات اور عوامی تعبیرات کو جمع کرکے ان کی تشریح، مفہوم اور پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے محققین، طلبہ اور عام قارئین کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مصنف نے مختلف ادبی، تاریخی اور عوامی ذرائع سے امثال کو یکجا کرکے ان کے لسانی، تہذیبی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں شامل ضرب الامثال نہ صرف زبان کی خوبصورتی اور اظہار کی قوت کو نمایاں کرتی ہیں بلکہ برصغیر کی ثقافت، طرزِ زندگی اور اجتماعی دانش کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
فرہنگِ امثال اردو لغت، محاورات، ضرب الامثال، لسانیات اور تہذیبی مطالعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اور مستند تحقیقی کتاب ہے۔
























