-
جامع المسانيد والسن الهادي لاقوم سنن
Jjamie almasanid walsunn alhadii li’aqum sunan PDFThis book is available in three formats (Kindle),(DOCX/DOC),PDF
PDF prize FreeDownload
DOCX/DOC Prize Not Available
Kindle Prize Not Available
Note: This prize is not definitive; it can be decreased or increased.
This book is not available for free, you can buy this book from Amazon and other bookshops for a low price.
To purchase the book, you can Contact US this or WhatsApp & FaceBook.CONTACT TO BUY
-
معارف القرآن کاندھلوی معہ تفسیر عثمانی جلد ہفتم
Maarif ul quraan kandhalvi ma tafseer e usmani PDF VOL-7کاوش: اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کا احسان عظیم ہے کہ ہم تشنگان علوم نبویہ کی خدمت میں تغیر قرآن کی تعظیم کتاب معارف القرآن و تفسیر عثمانی پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔ شب و روز کی محنت شاقہ اس کے ظہور پذیر ہونے میں کار فرما رہی اس عظیم کام کو بحسن و خوبی سر انجام دینے میں ہوئی۔حبیبۃ العلماء کے معزز اراکین نے حتی المقدور سعی کی۔ اس نسخے کی تیاری زیر کثیر خرچ کر کے کروائی گئی ہے اور بار بار پروف ریڈنگ کروائی گئی تا کہ اغلاط کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہو، بہر کیف انسان خطا کا پتلا ہے اس کے ہاتھوں غلطی کا صدور ہر لحہ مکن ہے، ہمیں امید ہے کہ آپ ہمیں حسب سابق اصلاح کی طرف گامزن کرتے رہیں گے۔
استدعا: اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہم نے اپنی طاقت اور بساط کے مطابق کتاب کی صحیح میں حتی الامکان محنت و کوشش کی ہے اس کے باوجود اگر طالبان حدیث رسول و قرآن کو کسی مقام پر کوئی قابل تصحیح عبارت نظر آئے تو وہ ہمیں ضرور اطلاع فرمائیں، ہم ان کے شکر گزار ہوں گے اور اس غلطی کی درستگی کریں گے۔ آپ کے اس علمی تعاون کی بدولت ہی ہم اشاعت دین کے ساتھ ساتھ حفاظت دین کا فریضہ سر انجام دینے کے قابل ہوں گے۔
( مكتبة حبيبية رشيدية )
-
Afham-o-Tafheem | افہام و تفہیم
فہرست کتب (پروفیسر حافظ عبدالرزاق)
1. Anwaar ul-Tanzeel | انوار التنزیل
2. Anwar al-Tanzeel yani Talkhees Ahkam al-Quran | انوار التنزیل یعنی تلخیص احکام القرآن
3. Azmat-e-Sahaba | عظمتِ صحابہ
4. Family Doctor | فیملی ڈاکٹر
5. Hai Jamhoorat | ہائے جمہورت
6. Islam aur Mamlookiat | اسلام اور مملوکیت
7. Islami Hukoomat | اسلامی حکومت
8. Islami Tehwar | اسلامی تہوار
9. Kis Liye Aaye Thay Kya Kar Chalay | کس لئے آئے تھے کیا کر چلے
10. Mughalatay | مغالطے
11. Quran Hakeem aur Dawat-e-Tableegh | قرآن حکیم اور دعوتِ تبلیغ
12. Tasawwuf aur Tameer-e-Seerat | تصوف اور تعمیرِ سیرت
13. Tasawwuf and Character Building
14. The Essence of Worship
15. Afham-o-Tafheem | افہام و تفہیم
16. Itminan-e-Qalb | اطمئنانِ قلب
17. Khudaya Aeen Karam Bar Dagar Kun | خدایا ایں کرم بار دگر کن
-
Aik Ankh Wala Dajjal | ایک آنکھ والا دجال
“Aik Ankh Wala Dajjal” is an insightful and research-based book authored by Dr. Gohar Mushtaq. The book analyzes contemporary global phenomena, mass media, modern ideologies, and geopolitical events in the light of Islamic eschatology (End Times) and prophecies regarding Dajjal (the Antichrist). The author meticulously connects current world affairs with religious texts to awaken readers spiritually and intellectually. It is a must-read for those interested in Islamic studies, comparative religion, and end-times analysis
جدید دجالی نظام کی جڑوں کی آبیاری مغرب کے ایسے مفکرین اور سائنسدانوں نے کی جو خدا کی ذات سے بیزار اور مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے۔ ڈارون (Darwin) کی فکر جو کہ مغربی عمرانی علوم کی بنیاد بنی کے مطابق انسان کا ارتقاء بندر سے ہوا اور انسانوں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں۔ کارل مارکس (Karl Marx) اور ایڈم سمتھ (Adam Smith) نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ انسان کے تمام اعضائے رئیسہ میں سے ان کا مطمح نظر صرف اور صرف اس کا معدہ ہونا چاہیے۔ فرائڈ (Sigmund Freud) نے انسانیت کو جنس پرستی کا پیغام دیا۔ لیکن دجالی نظام کی جڑوں کو مضبوط کرنے والے اکثر مفکرین کا انجام بہت برا ہوا۔ کارل مارکس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا۔ فرائڈ کی ہر چیز کی جنسی تعبیر سے تنگ آکر اس کے سب سے قابل شاگرد اور مستقبل میں متوقع جانشین کارل ینگ (Carl Jung) نے اپنے استاد کے نظریات سے توبہ کی اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔فرائڈ خود تمام عمر کوکین (cocaine) کا نشہ کرتا رہا اور مرنے سے کچھ پہلے اپنے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے اسے مارفین کے ٹیکے لگا کر ختم کر دیا جائے۔ یوں فرائڈ نے خودکشی کرلی۔ مشہور فرانسیسی فلسفی، اگسٹ کامتے (August Comte) جو کہ جدید سوشیالوجی کا بانی کہلاتا ہے، زندگی کے آخری سالوں میں ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔ جرمن فلسفی شوپن ہار (Schopenhauer) بھی زندگی کے بیشتر حصے پاگل رہا۔ عظیم جرمن فلسفی نیٹشے (Nietzsche) جس نے اپنی کتاب (This Spoke Zarathustra) میں بانگِ دہل لکھ دیا تھا کہ (معاذ اللہ) “God is Dead” (خدا مرگیا ہے) اور پوری دنیا کے دجالی نظام میں یہ بات بہت سراہی گئی تھی۔ (امریکہ کے مشہورتصویر میں موجود متن درج ذیل ہے:رسالے (Newsweek) نے ۸ اپریل ۱۹۶۶ء کے شمارے میں یہ خبر اپنے فرنٹ کور پر شائع کی) وہی نیٹشے اپنی زندگی کے آخری دس سال پاگل رہ کر ۱۹۰۰ء میں خود مر گیا۔ دراصل ان “عظیم” ذہنوں نے اپنے خدا کو بھلا دیا تھا اس لیے خدا نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا کیونکہ خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(سورة الحشر: آیت ۱۹)(اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔)مسلمان کا گھر سب سے بڑا قلعہ ہے۔ مسلم کنبہ سب سے بڑی ڈھال ہے۔ ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں کا سب سے بڑا نشانہ مسلمانوں کا خاندانی نظام ہے۔ یہ ایجنٹ گھر گھر میں ٹی وی، انٹرنیٹ، کیبل، ڈش، آئی فون وغیرہ کے روپ میں گھس کر اس کے افراد میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ دوسری طرف سوسائٹی میں مخلوط تعلیم، ویلنٹائن ڈے جیسی رسومات، موسیقی کا فروغ وغیرہ کے ذریعے اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔اس کتاب کے مضامین میں انہی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے تمام مضامین میں ایک مقصدی ربط پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا موضوع ایک ہی ہے یعنی دجال اور اس کے ایجنٹوں کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ باطل کے کُلے کو پست کرے اور حق کے کُلے کو سر بلند فرمادے۔ (آمین)۔حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرحآج اظہار کریں اور خلش مٹ جائےڈاکٹر گوہر مشتاقکیلیفورنیا – 2012ء -
-
Allah Ki Madad Kyun Nahi Rahi? | اللہ کی مدد کیوں نہیں آ رہی؟
دو: “اللہ کی مدد کیوں نہیں آ رہی؟” ڈاکٹر گوہر مشتاق کی لکھی ہوئی ایک انتہائی فکری اور اصلاحی کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس اہم اور دردناک سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کو کیوں آزمائشوں، مشکلات اور غیبی نصرت سے محرومی کا سامنا ہے۔ مصنف نے قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور تاریخی تناظر کی روشنی میں ہماری اجتماعی کوتاہیوں، دینی و اخلاقی کمزوریوں اور اسلامی تعلیمات سے دوری کا محاسبہ کیا ہے، اور اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دوبارہ عروج حاصل کرنے کے لیے عملی لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ فکری بیداری اور اصلاحِ احوال کے خواہاں قارئین کے لیے یہ ایک انتہائی مفید کتاب ہے۔
-
CONCISE ENCYCLOPAEDIA OF ISLAM BY PROFESSOR HUSTON SMITH
CONCISE ENCYCLOPAEDIA OF ISLAM BY PROFESSOR HUSTON SMITH
This book is presented for introduction if you want to buy this book or get its pdf then you can contact us through whatsapp number or comments in review, also through facebook page. -
-
Eaanat o Isti’aanat ki Sharai Hesiyat | اعانت و استعانت کی شرعی حیثیت
اعانت و استعانت کی شرعی حیثیت
لیجئے سنیے اب افسانۂ فرقت مجھ سےؔ۔
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا۔
میرے اُردو مجموعۂ رباعیات رنگِ نظام کی بعض رباعیات پر اعتراض کیا گیا۔ معترض کے دلائل اگر قوی ہوں تو ایسے اعتراضات پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ معترض کی نیت صالح ہو اور وہ جویائے حق بھی ہو۔ مجھ سے بھی بڑے لوگوں پر اعتراضات کئے گئے اور یہ سلسلہ تا قیامت چلتا رہے گا، کیونکہ تحقیق کے لئے اعتراض کرنا ہر انسان کا فطری حق ہے۔
مخالفین کے اعتراضات سننا حضور علیہ السلام کی سنت ہے۔ علاوہ ازیں مشرکین نے تو اللہ تعالیٰ پر بھی اعتراضات کئے جن کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اگر آج کوئی شخص بزرگوں کی کسی عبارت یا نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے کوئی سوال کر بیٹھے تو اُسے بے ادب اور گستاخ کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے ماحول اور رسم و رواج کے پیدا کردہ مفروضات ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔کیونکہ ایک مسلمان کے لئے صرف اللہ اور اُس کے رسول علیہ السّلام کا کلام تنقید و اعتراض سے پاک اور بالاتر ہونا چاہیے۔ اس کے بعد کا فیصلہ سیدنا علی المرتضیؓ نے یوں فرمایا:
لا تنظر إلى من قال، انظر إلى ما قال
ترجمہ: نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔یعنی بات کو اُس کے اپنے وزن کے حوالے سے دیکھنا چاہیے نہ کہ بات کرنے والے کی شخصیت کے وزن کے حوالے سے۔ لہٰذا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے علاوہ کسی بھی شخصیت کا کلام تنقید و اعتراض سے بالا نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور یہ عقیدہ رکھنا ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام پر تنقید و اعتراض موجبِ کفر ہے، جس سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
ان کے علاوہ ہر انسان کے کلام پر بحث کی جا سکتی ہے اور دلائل کی روشنی میں اُس کلام کو غلط یا صحیح کہا جا سکتا ہے، جسے کوئی معقول انسان گستاخی و بے ادبی قرار نہیں دے سکتا۔ گنجائشِ تفصیل نہیں، ورنہ بہ طورِ مثال ہم یہاں اُن تاریخی اختلافات کو مع دلائل فریقین نقل کرتے۔ ضرورت پڑی تو اس موضوع پر الگ ایک مقالہ لکھیں گے جس میں مشاہیرِ اسلام اور اکابرِ اُمت کے باہمی اختلافات کا تفصیلی ذکر کریں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ متاخرین نے متقدمین کے پیش کردہ دلائل کو کس شانِ علمی سے رد کرتے ہوئے اپنے موقف کو ثابت کیا، اور اُن کو کسی نے نہ تو بے ادب و گستاخ کہا اور نہ ہی کوئی اُن کو ایسا کہنے کے حق میں ہے۔
اس تفصیل میں جانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آج کا مسلمان دھڑے بندیوں اور فرقہ پرستیوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے اور اپنے اپنے اکابر کے کلام پر کسی قسم کے سوال اور اعتراض کو موجبِ کفر سمجھتا ہے۔ شخصیت پرستی اسے ہی کہتے ہیں اور یہ شرعاً جائز نہیں۔ ہاں، اگر کسی شخصیت کا کلام قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہو تو اُسے اس نیت سے قبول کر لینا چاہیے کہ وہ مطابقِ قرآن و سنت ہے، نہ اس لئے کہ اس کے تسلیم کرنے کا سبب کوئی شخصیت ہو۔
اُمت اگر اس فارمولے پر عمل پیرا ہوتی تو آج پارٹی بازیوں اور فرقہ واریت کے ہاتھوں پیش آمدہ نتائج سے دوچار نہ ہوتی۔ علامہ اقبالؔ کو اسی احساس نے یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا کہ:
حقیقت خرافات میں کھو گئی
اُمت روایات میں گم ہو گئی -
Ecology Of The Soul And Positive Mysticism/روح کی ماحولیات اور مثبت تصوف
یہ کتاب معلومات کے لئے شئیر کی گئی ہے ہمارے ہاں ناقدین تصوف یہ دعوی کرتے ہیں کہ تصوف کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ دیگر مذاہب کیساتھ ہے اور ثبوت کے لئے اس طرح کی کتابیں پیش کرتے ہیں ظفیل ہاشمی صاحب نے ایک مرتبہ فیس بک پر پوسٹ لگا ئی اور انہوں نے بھی کچھ ایسا ہی دعوی کیا میری گزارش ہے کہ آپ اسطرح کی کتابیں بھی پڑھیں اور حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ کی ” کنوز دل” کا مطالعہ بھی کریں اور مجھے بتائیں کہ اسلام تصوف کہاں ان سے میچ کرتا ہے۔
-

























