Showing all 8 results

  • Cold War In The Islamic World: Saudi Arabia, Iran And The Struggle For Supremacy

    Cold War in the Islamic World: Saudi Arabia, Iran and the Struggle for Supremacy is a significant scholarly work by renowned historian and political analyst Dilip Hiro. The book offers a comprehensive examination of the geopolitical, ideological, and strategic rivalry between Saudi Arabia and Iran, two of the most influential powers in the Middle East and the wider Islamic world.

    Drawing upon historical evidence and political analysis, Hiro traces the origins and evolution of this rivalry from the early twentieth century to the contemporary era. He explores key developments such as the discovery of oil, the Iranian Revolution of 1979, the Iran–Iraq War, the Gulf conflicts, and the competing roles of Saudi Arabia and Iran in regional crises across Afghanistan, Pakistan, Iraq, Syria, and Yemen. The book also highlights the involvement of global powers, particularly the United States and Russia, in shaping the balance of power in the region.

    Rather than presenting a mere chronological account of events, the author critically analyzes the political, religious, economic, and strategic factors that have fueled the competition between Riyadh and Tehran. By doing so, he demonstrates how this rivalry has influenced regional stability, sectarian dynamics, and international relations throughout the Muslim world.

    Published by Oxford University Press in 2018, this work serves as a valuable resource for students, researchers, and scholars of Middle Eastern studies, international relations, political science, and contemporary Islamic history. It provides important insights into one of the most consequential geopolitical rivalries of the modern era and its far-reaching implications for regional and global politics.

  • Farhang-e-Istilahat-e-Tasawwuf | فرہنگِ اصطلاحاتِ تصوف

    فرہنگِ اصطلاحاتِ تصوف معروف عالم، محقق اور مصنف قاضی عبد الکبیر منصور پوری کی ایک اہم علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں تصوف، سلوک، طریقت اور اسلامی روحانیت سے متعلق اصطلاحات کو ترتیب وار جمع کرکے ان کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب تصوف کی کلاسیکی اور جدید کتب میں استعمال ہونے والی فنی اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے ایک مفید اور مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    مصنف نے صوفیائے کرام کے افکار، ملفوظات اور روحانی روایات میں رائج اصطلاحات جیسے احوال، مقامات، فنا، بقا، کشف، معرفت، ولایت، ذکر، مراقبہ اور دیگر تصوفی تصورات کی تشریح نہایت سادہ اور تحقیقی انداز میں کی ہے۔ اس کے ذریعے قاری تصوف کے پیچیدہ مباحث کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔

    یہ کتاب طلبہ، محققین، علماء، صوفی ادب کے قارئین اور اسلامی روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی کتاب ہے، جو تصوف کے علمی اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

  • Gulzar-e-Naseem | گلزارِ نسیم

    گلزارِ نسیم اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں ایک نمایاں اور شاہکار تصنیف ہے، جس کے خالق پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ہیں۔ نسیمؔ کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی یہ مثنوی اردو زبان کی بہترین عشقیہ داستانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت، محاورے کی شستگی، منظر نگاری کی دلکشی اور شعری حسن نے گلزارِ نسیم کو اردو ادب میں دائمی مقام عطا کیا ہے۔

    اس مثنوی کی داستان فارسی ماخذ سے اخذ کی گئی، لیکن نسیمؔ نے اسے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت اور فنی مہارت کے ذریعے ایک منفرد ادبی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ اردو کے معروف شاعر برج نارائن چکبست نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ “مثنوی نہیں کہی گئی بلکہ موتی پروئے گئے ہیں”۔ یہ تبصرہ اس کتاب کی ادبی عظمت کا بہترین اعتراف ہے۔

    زیرِ نظر ایڈیشن کو اردو کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات رشید حسن خان نے مرتب کیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی اور تحقیقی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گلزارِ نسیم اردو مثنوی، کلاسیکی شاعری، دبستانِ لکھنؤ اور ادبی تاریخ کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔

  • Mustalahat-e-Thaggi | مُصطلحاتِ ٹھگی

    مُصطلحاتِ ٹھگی اردو کے نامور محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات اور مدوّن رشید حسن خان کی ایک منفرد تحقیقی و لغوی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے تاریخی گروہ “ٹھگ” (Thuggee) سے متعلق الفاظ، اصطلاحات، محاورات اور مخصوص زبان کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے نایاب تاریخی ماخذ، سرکاری ریکارڈ اور لسانی مواد کی مدد سے ان اصطلاحات کو مرتب اور تشریح کے ساتھ پیش کیا ہے۔
    یہ کتاب صرف ایک لغت نہیں بلکہ برصغیر کی سماجی، ثقافتی اور لسانی تاریخ کا ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ اس میں ٹھگوں کی خفیہ زبان، طرزِ گفتگو، پیشہ ورانہ اصطلاحات اور ان کے معاشرتی پس منظر کو واضح کیا گیا ہے، جس سے قاری کو ہندوستانی سماج کے ایک کم معروف تاریخی پہلو کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
    مُصطلحاتِ ٹھگی لسانیات، لغت نویسی، سماجی تاریخ، ثقافتی مطالعات اور برصغیر کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور قارئین کے لیے ایک اہم حوالہ جاتی کتاب ہے۔
    زیر نظر کتاب مصطلحات ٹھگی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ٹھگی قتل و لوٹ مار کا ایک ایسا منظم طریقہ تھا جو تقریبا دوسو سال تک ہندوستان میں رائج رہا۔ ٹھگی محض ایک لوٹ مار اور قتل و غارت نہیں تھی بلکہ اس نے ایک خاص مذہبی فرقے کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اس کی پابندی باقاعدہ اصول و ضوابط تھے۔اس مسلک کے پیروکاروں کے ایسے عقائد تھے جن کی پابندی ہر ٹھگ کے لیے لازمی تھی۔ رشید حسن خاں کتاب کے مقدمے میں بہت ہی عالمانہ انداز میں ٹھگوں کے عقائد، ان کے طریقہ کار اور ان کے حالات  وغیرہ ایسی معلومات فراہم کی ہیں جن سے عام لوگ ناواقف تھے

  • Tasawwuf: Tareef, Tareekh, Istilahat | تصوف: تعریف، تاریخ، اصطلاحات

    تصوف: تعریف، تاریخ، اصطلاحات معروف محققہ اور ماہرِ تصوف ڈاکٹر روبینہ ترین کی ایک اہم علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں تصوف کے بنیادی تصورات، تاریخی ارتقاء، معروف صوفی سلاسل اور تصوف سے متعلق اصطلاحات کی جامع وضاحت پیش کی گئی ہے۔ کتاب تصوف کے نظری اور عملی پہلوؤں کو آسان، منظم اور تحقیقی انداز میں بیان کرتی ہے۔
    مصنفہ نے تصوف کی ابتدا، اسلامی روحانیت کی تشکیل، صوفیاء کرام کی خدمات، تصوف کے مختلف ادوار اور اس کے فکری اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ساتھ ہی تصوف میں مستعمل اہم اصطلاحات، مفاہیم اور نظریات کی تشریح بھی شامل کی گئی ہے، جو طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
    یہ کتاب تصوف، اسلامیات، روحانیت، اسلامی فکر اور صوفی ادب کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • The Hidden Life in Freemasonry

    IT is once more my privilege to usher into the world, for the helping of the thoughtful, another volume of the series on the hidden side of things written by Bishop Charles W. Leadbeater. True Mason that he is, he is ever trying to spread the Light which he has received, so that it may chase away the darkness of Chaos. To look for the Light, to see the Light, to follow the Light, were duties familiar to all Egyptian Masons, though the darkness in that Ancient Land never approached the
    density which shrouds the West today.
    This book will be welcomed by all Freemasons who feel the beauty of their ancient Rite, and desire to add knowledge to their zeal. The inner History of Masonry is left aside for the present, and the apprentice is led by a trustworthy guide through the labyrinth which protects the central Shrine from careless and idle inquirers. Places that were obscure become illuminated; dark allusions are changed to crystal clarity; walls which seem solid melt away; confidence replaces doubt; glimpses of the goal
    are caught through rifts in the clouds; and the earth-born mists vanish before the rays
    of the rising sun. Instead of fragments of half-understood traditions, confused and uninterpreted, we find in our hands a splendid science and a reservoir of power which we can use for the uplifting of the world. We no longer ask: “What is the Great Work? We see “that it is nothing less than a concerted effort to carry out the duty that is laid upon us, as those who possess the Light, to spread that Light abroad through the World, and actually to become fellow-labourers with T.G.A.O.T.U. in
    His great Plan for the evolution of our Brn”.
    The detailed explanations of the ceremonies are profoundly interesting and illuminative, and I commend them very heartily to all true Freemasons. Our V .·.·. I ·.·. Brother has added a heavy debt of gratitude by this book to the many we already owe him. Let us be honest debtors.
    Adyar
    ANNIE BESANT
    December 25, 1925

  • Title: Azmat-e-Rafta | عظمتِ رفتہ

    Azmat-e-Rafta | عظمتِ رفتہ برصغیر کے معروف مورخ ضیاء الدین احمد برنی کی تاریخی فکر اور مشاہدات پر مبنی ایک اہم تصنیف ہے، جس میں ماضی کی عظیم تہذیبوں، حکمرانوں، علمی روایات اور اسلامی معاشرت کے درخشاں ادوار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد تاریخ کے روشن ابواب کو اجاگر کرنا اور ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے اقوام کے عروج و زوال میں کردار ادا کیا۔

    مصنف نے تاریخی واقعات، سیاسی تبدیلیوں، علمی ترقیات اور معاشرتی اقدار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ قوموں کی عظمت محض مادی قوت سے نہیں بلکہ علم، عدل، اخلاق اور مضبوط اجتماعی کردار سے وابستہ ہوتی ہے۔ کتاب میں اسلامی تہذیب کے سنہری ادوار اور ان کی نمایاں خصوصیات کو بھی مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    عظمتِ رفتہ تاریخ، اسلامی تہذیب، سیاسیات، تمدنی مطالعات اور فکری ادب میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔ یہ تصنیف ماضی کے تجربات کی روشنی میں حال اور مستقبل کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ فراہم کرتی ہے۔