-
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر میر تقی میرؔ کے منتخب کلام کا ایک اہم اور معیاری انتخاب ہے، جسے معروف شاعر، ادیب اور محقق افضال احمد سید نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلوں، اشعار اور منتخب تخلیقات کو جدید قاری کی ضرورت اور ادبی ذوق کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔
میر تقی میرؔ کو اردو غزل کا خداۓ سخن کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، انسانی جذبات، زندگی کی ناپائیداری، تصوف اور داخلی کیفیات کی نہایت مؤثر ترجمانی ملتی ہے۔ افضال احمد سید نے اس انتخاب میں میرؔ کے ان اشعار کو شامل کیا ہے جو اردو شاعری کی فنی، فکری اور جمالیاتی روایت کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ کتاب اردو شاعری، کلاسیکی ادب، غزل گوئی، تنقیدی مطالعے اور میر شناسی میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔
-
Dil Darya Diyan Mojan | دل دریا دیاں موجاں
دل دریا دیاں موجاں معروف پنجابی شاعر، ادیب اور دانشور دائم اقبال دائم کی ایک اہم ادبی تصنیف ہے، جس میں پنجابی تہذیب، ثقافت، محبت، انسان دوستی، روحانیت اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دلنشین اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا عنوان پنجابی صوفی روایت کی اس فکر کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان کے باطن کو ایک گہرے دریا سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
-
Diyar-e-Habib Mein Chand Roz | دیارِ حبیب میں چند روز
دیارِ حبیب میں چند روز حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ کی ایک روح پرور سفری و روحانی تصنیف ہے، جس میں حرمین شریفین، حج و عمرہ کے مشاہدات، عشقِ رسول ﷺ، روحانی کیفیات اور اسلامی مقدسات سے وابستہ احساسات کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات، عبادات کے اثرات اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کی روحانی فضا کا تذکرہ کیا ہے، جو قاری کے دل میں عقیدت و محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔
یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، عشقِ نبوی ﷺ اور اصلاحِ باطن کا پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ سلسلۂ نقشبندیہ اویسیہ کے معروف شیخ، مفسر اور روحانی راہنما تھے، جن کی تصانیف اور دروس نے ہزاروں افراد کی فکری و روحانی تربیت میں کردار ادا کیا۔
حج، عمرہ، اسلامی سفرناموں، روحانی ادب اور سیرتِ نبوی ﷺ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب نہایت مفید اور ایمان افروز مطالعہ ہے۔
-
Farhang-e-Amsal | فرہنگِ امثال
فرہنگِ امثال اردو کے ممتاز محقق، ادیب اور ماہرِ زبان سید مسعود حسن رضوی کی ایک اہم لغوی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں اردو زبان میں رائج کہاوتوں، ضرب الامثال، محاورات اور عوامی تعبیرات کو جمع کرکے ان کی تشریح، مفہوم اور پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے محققین، طلبہ اور عام قارئین کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مصنف نے مختلف ادبی، تاریخی اور عوامی ذرائع سے امثال کو یکجا کرکے ان کے لسانی، تہذیبی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں شامل ضرب الامثال نہ صرف زبان کی خوبصورتی اور اظہار کی قوت کو نمایاں کرتی ہیں بلکہ برصغیر کی ثقافت، طرزِ زندگی اور اجتماعی دانش کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
فرہنگِ امثال اردو لغت، محاورات، ضرب الامثال، لسانیات اور تہذیبی مطالعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اور مستند تحقیقی کتاب ہے۔
-
Farhang-e-Istilahat-e-Tasawwuf | فرہنگِ اصطلاحاتِ تصوف
فرہنگِ اصطلاحاتِ تصوف معروف عالم، محقق اور مصنف قاضی عبد الکبیر منصور پوری کی ایک اہم علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں تصوف، سلوک، طریقت اور اسلامی روحانیت سے متعلق اصطلاحات کو ترتیب وار جمع کرکے ان کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب تصوف کی کلاسیکی اور جدید کتب میں استعمال ہونے والی فنی اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے ایک مفید اور مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مصنف نے صوفیائے کرام کے افکار، ملفوظات اور روحانی روایات میں رائج اصطلاحات جیسے احوال، مقامات، فنا، بقا، کشف، معرفت، ولایت، ذکر، مراقبہ اور دیگر تصوفی تصورات کی تشریح نہایت سادہ اور تحقیقی انداز میں کی ہے۔ اس کے ذریعے قاری تصوف کے پیچیدہ مباحث کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔
یہ کتاب طلبہ، محققین، علماء، صوفی ادب کے قارئین اور اسلامی روحانیت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی کتاب ہے، جو تصوف کے علمی اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
-
Gohar-e-Akhlaq | گوہرِ اخلاق
Gohar-e-Akhlaq | گوہرِ اخلاق الحاج محمد اخلاق ارشد نقشبندی کا ایک منفرد پوٹھوہاری شعری مجموعہ ہے جس میں چار مصرعی شاعری (چومصرع) کی صنف کو اختیار کرتے ہوئے حمد، نعت، منقبت، روحانی کلام اور پوٹھوہاری غزلیں شامل کی گئی ہیں۔
کتاب میں پوٹھوہاری زبان کی مٹھاس، مقامی ثقافت کی جھلک، عشقِ رسول ﷺ، اولیائے کرام سے عقیدت، اخلاقی تعلیمات اور انسانی جذبات کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے چومصرع کی روایتی صنف کے ذریعے مذہبی، روحانی اور ادبی موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
یہ کتاب پوٹھوہاری ادب، لوک شاعری، نعتیہ ادب، منقبتی شاعری اور علاقائی زبانوں کے محققین و شائقین کے لیے ایک اہم ادبی سرمایہ ہے
-
Goyaṛ | گویڑ
Goyaṛ | گویڑ ڈاکٹر شہباز ملک کی ایک اہم پنجابی ادبی و تحقیقی کتاب ہے جس میں پنجابی زبان، لوک دانش، ثقافتی پہلوؤں اور فکری موضوعات کو گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پنجابی ادب، زبان اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی علمی و ادبی ماخذ ہے۔
یہ کتاب Tooba Book Foundation | طوبٰی بک فاؤنڈیشن کی ڈیجیٹل لائبریری میں اپلوڈ کی گئی ہے، جہاں سے آپ یہ اور دیگر Free PDF Books | مفت پی ڈی ایف کتابیں آسانی سے ڈاؤن لوڈ اور مطالعہ کر سکتے ہیں۔ -
Gulistan-e-Alfaz-o-Ma’ani | گلستانِ الفاظ و معانی
گلستانِ الفاظ و معانی معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم کی ایک منفرد علمی و لسانی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں الفاظ کی اصل، ان کے سفر، مختلف زبانوں میں ان کی منتقلی، معنوی تبدیلیوں اور تہذیبی اثرات کو نہایت دلچسپ اور تحقیقی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مصنف نے واضح کیا ہے کہ جس طرح انسان مختلف علاقوں اور تہذیبوں سے متاثر ہوتے ہیں، اسی طرح الفاظ بھی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہو کر نئے رنگ اور معانی اختیار کرتے ہیں۔ کتاب زبان، ثقافت اور تاریخ کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اردو، عربی اور فارسی الفاظ کے ارتقاء پر مفید معلومات پیش کرتی ہے۔
ڈاکٹر ف۔ عبدالرحیم عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم ہیں اور عربی زبان کی تدریس کے حوالے سے ان کی خدمات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی اور زبان کے ارتقاء میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔
-
Gulzar-e-Naseem | گلزارِ نسیم
گلزارِ نسیم اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں ایک نمایاں اور شاہکار تصنیف ہے، جس کے خالق پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ہیں۔ نسیمؔ کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی یہ مثنوی اردو زبان کی بہترین عشقیہ داستانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت، محاورے کی شستگی، منظر نگاری کی دلکشی اور شعری حسن نے گلزارِ نسیم کو اردو ادب میں دائمی مقام عطا کیا ہے۔
اس مثنوی کی داستان فارسی ماخذ سے اخذ کی گئی، لیکن نسیمؔ نے اسے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت اور فنی مہارت کے ذریعے ایک منفرد ادبی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ اردو کے معروف شاعر برج نارائن چکبست نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ “مثنوی نہیں کہی گئی بلکہ موتی پروئے گئے ہیں”۔ یہ تبصرہ اس کتاب کی ادبی عظمت کا بہترین اعتراف ہے۔
زیرِ نظر ایڈیشن کو اردو کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات رشید حسن خان نے مرتب کیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی اور تحقیقی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گلزارِ نسیم اردو مثنوی، کلاسیکی شاعری، دبستانِ لکھنؤ اور ادبی تاریخ کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
-
Hypnotism
Hypnotism by Foveau de Courmelles is a classic work exploring the fascinating science and psychology of hypnosis, mesmerism, suggestion, and the hidden powers of the human mind. Translated into English by Laura Ensor, this influential book presents historical theories, medical observations, psychological experiments, and practical discussions related to hypnotic states and mental influence.
The author examines the development of hypnotism from early mesmerism to scientific psychological study, discussing subjects such as trance states, subconscious suggestion, therapeutic hypnosis, mental concentration, and the relationship between mind and behavior. The work reflects the growing interest in psychology, neurology, and human consciousness during the late nineteenth and early twentieth centuries.
This book is an important resource for readers interested in psychology, hypnosis, mental science, consciousness studies, psychotherapy, occult history, and the history of medical science. Its historical and intellectual significance makes it valuable for researchers, students, and readers exploring the evolution of hypnotic theory and psychological practice.
This digital edition is available in the Tooba Book Foundation Digital Library, where readers can explore a large collection of free PDF books, psychology classics, rare scientific works, and historical literature online.
-
Ikhtilaf-e-Ummat Aur Sirat-e-Mustaqeem | اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم
Ikhtilaf-e-Ummat Aur Sirat-e-Mustaqeem | اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی ایک معروف علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں امتِ مسلمہ کے مختلف فقہی، مسلکی اور فروعی اختلافات کا جائزہ لے کر اعتدال، رواداری اور صراطِ مستقیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد اختلافی مسائل میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اہلِ علم کے منہج اور امت کے اکابرین کے طرزِ فکر کو واضح کرنا ہے۔
مصنف نے مختلف فقہی مکاتبِ فکر، اجتہادی اختلافات اور دینی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن و سنت، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین کے اقوال کی روشنی میں اعتدال پسند نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ کتاب میں اتحادِ امت، باہمی احترام، علمی اختلاف کے اصول اور دینی ہم آہنگی کے موضوعات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
یہ کتاب اسلامیات، فقہ، اختلافی مسائل، مکاتبِ فکر، دینی مناظرات اور اسلامی فکر کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، علماء اور محققین کے لیے نہایت اہم ماخذ ہے۔
-
Irfan-e-Khudi, Irfan-e-Khuda | عرفانِ خودی، عرفانِ خدا
عرفانِ خودی، عرفانِ خدا صوفی مصنف سید ظہیر حسین شاہ چشتی صابری کی ایک اہم روحانی و فکری تصنیف ہے، جس میں انسان کی خود شناسی کو خدا شناسی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے تصوف، تزکیۂ نفس، سلوک، معرفت اور روحانی تربیت کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب میں اسلامی تعلیمات اور صوفیانہ روایات کی روشنی میں باطن کی اصلاح، اخلاقِ حسنہ اور قربِ الٰہی کے راستے پر گفتگو کی گئی ہے۔
مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حقیقی عرفان کا آغاز انسان کی اپنی ذات کے ادراک سے ہوتا ہے، اور جب انسان اپنے نفس کی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو وہ معرفتِ الٰہی کی منزل کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ کتاب میں خود احتسابی، ذکر، فکر، اخلاص، محبتِ الٰہی اور روحانی ارتقاء جیسے موضوعات کو آسان اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
عرفانِ خودی، عرفانِ خدا تصوف، اسلامی روحانیت، تزکیۂ نفس اور عرفانِ الٰہی کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے ایک مفید اور رہنما کتاب ہے۔
-
Jawahir al-Tasawwuf | جواہر التصوف
Jawahir al-Tasawwuf | جواہر التصوف دراصل یحییٰ بن معاذ الرازیؒ کے حکیمانہ اقوال، مناجات اور صوفیانہ حکمتوں کا ایک بیش قیمت مجموعہ ہے، جسے مرتب نے نہایت خوبصورت انداز میں موضوعاتی ترتیب دے کر پیش کیا ہے۔
مرتب کے مطابق، یحییٰ بن معاذ الرازیؒ کی حکمتیں اپنی معنوی گہرائی اور تنوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں، اور اگرچہ اسلوب و بیان کے لحاظ سے انہیں حکم ابن عطاء اللہ اسکندریؒ سے کم قرار دیا گیا ہے، مگر مقدار، تنوع اور قدامت کے لحاظ سے یہ ایک بنیادی اور سابقہ ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ کتاب دراصل ان اقوال کو:
موضوعات کے مطابق مرتب کرتی ہے
ہر حکمت کی شرح اور توضیح پیش کرتی ہے
بعض مقامات پر قرآن و حدیث اور آثارِ سلف سے ربط بھی واضح کرتی ہےمرتب نے جہاں ضروری سمجھا وہاں شرح و تبصرہ کیا، جبکہ بعض جامع اور واضح اقوال کو بغیر شرح کے بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکمتوں کو نمبرنگ دے کر اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ قاری بآسانی ان کی طرف رجوع کر سکے۔
کتاب کا نام “جواہر التصوف” بھی اسی حکمت اور روحانی گہرائی کی مناسبت سے رکھا گیا، جو یحییٰ بن معاذ الرازیؒ کے اقوال میں جھلکتی ہے۔
یہ کتاب تصوف، تزکیہ نفس، اخلاق، اور روحانی مجاہدہ کے طالبین کے لیے نہایت قیمتی خزانہ ہے۔
یہ کتاب Tooba Book Foundation | طوبٰی بک فاؤنڈیشن کی ڈیجیٹل لائبریری میں اپلوڈ کی گئی ہے، جہاں سے آپ یہ اور دیگر Free PDF Books | مفت پی ڈی ایف کتابیں آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔
-
Khazinat-ul-Amsal | خزینۃ الامثال
خزینۃ الامثال از شاہ حسین حقیقت اردو اور فارسی ضرب الامثال کا ایک نادر اور مستند مجموعہ ہے جو اردو زبان، ادب اور تہذیبی روایت کے مطالعے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
خزینۃ الامثال اردو زبان کی ضرب الامثال، کہاوتوں اور عوامی دانش کے ذخیرے پر مشتمل ایک اہم لغوی و ادبی تصنیف ہے، جس کے مصنف شاہ حسین حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں اردو زبان میں رائج امثال، کہاوتوں اور حکمت آموز اقوال کو جمع کرکے ان کے معانی، مفاہیم اور استعمال کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ تصنیف زبان کی تہذیبی روایت، عوامی شعور اور ادبی ورثے کو محفوظ کرنے کی ایک قابلِ قدر کاوش ہے۔
ضرب الامثال کسی بھی زبان کے اجتماعی تجربات، تہذیبی اقدار اور فکری روایت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ خزینۃ الامثال میں شامل امثال نہ صرف زبان کے حسن اور اثر انگیزی کو بڑھاتی ہیں بلکہ معاشرتی رویوں، اخلاقی تصورات اور عوامی حکمت کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب اردو زبان و ادب کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کے لیے ایک مفید حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
زیرِ نظر اشاعت مقتدرہ قومی زبان نے شائع کی ہے اور اس پر ڈاکٹر گوہر نوشاہی کا تعارفی نوٹ شامل ہے، جو کتاب کی علمی اور ادبی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
























