Showing all 3 results

  • Tazkirah Qariyan-e-Hind (Jild Awwal) | تذکرہ قاریانِ ہند (جلد اول)

    قاریانِ ہند کے حالات، جن کو میں نے سولہ سال کی عمر سے ہوش سنبھالنے کے بعد جمع کیا تھا، وہ اب طبع ہو رہے ہیں۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔حصۂ اول میں تجوید کی اہمیت، قراءتِ عشرہ کے اختلافات، اور تجوید و قراءت پر عالمِ اسلام میں شائع ہونے والی کتابوں کا مختصر ذکر ہے، تاکہ تسلسل و تواتر کی اہمیت واضح ہو جائے اور ہند میں جب سے مسلمان آئے ہیں، ان کی مساعیِ جمیلہ ادوار کی شکل میں مختصراً منظرِ عام پر آ جائیں۔
    دوسرے حصے میں قراء کے انفرادی حالات کا ذکر ہے، جو مسلمانوں کی آمد سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک ہند کے مختلف حصوں میں کام کرتے رہے۔
    تیسرے حصے میں موجودہ قراء کے حالات ہیں، جن سے میں خود مل چکا ہوں، نیز ان کی کارگزاریوں کو بچشمِ خود دیکھ چکا ہوں۔ یہ تینوں حصے یکے بعد دیگرے شائع ہوں گے، مگر رقم اور طباعت کی مشکلات کے باعث تینوں ایک ساتھ شائع نہ ہو سکے۔
    میں صدر انجمنِ اسلامیہ حیدرآباد کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پہلے حصے کی طباعت کی ذمہ داری لے کر میری معاونت فرمائی ہے۔ میں ان کے لیے دست بدعا ہوں کہ جس خلوص سے انہوں نے دستگیری کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور قارئینِ کرام بھی، جو اس سے مستفیض ہوں، صدر انجمنِ اسلامیہ کے جملہ اراکین کے لیے دعا فرمائیں۔
    میں خصوصیت کے ساتھ جناب حبیب حسین باالفقیر صاحب، الحاج نیاز حسین صاحب کلکٹر وظیفہ یاب، اور جناب پروفیسر سید محمد صاحب کا ممنون ہوں کہ ان کی حوصلہ افزائی و معاونت سے یہ کام سرانجام پا سکا۔ دیگر احباب نے بھی اس میں سرگرم حصہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
    ما را کہ نہ آرائشِ برگے نہ نوائی است
    سرمایہ اگر ہست، ہمیں دستِ دعائی است
    (بیدل)
    مرزا بسم اللہ بیگ
  • Tazkirah Qariyan-e-Hind (Jild Doem) | تذکرہ قاریانِ ہند (جلد دوم)

    پیش لفظ: جلد دوم تذکرہ قاریانِ ہند

    تذکرہ قاریانِ ہند کی جلد اول بھی زیرِ طبع ہی تھی کہ جلد دوم کی طباعت کا انتظام بھی ہو گیا۔ چونکہ اس جلد میں قاریوں کے انفرادی حالات درج ہیں، اس لیے اس کا حجم جلد اول سے زیادہ ہو گیا۔ تاریخِ وفات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں نے قراء کی ترتیب دی ہے۔ ابتداء میں ایک تفصیلی فہرست کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    میں اپنے ان احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت تک ہر ہر قدم پر میری مدد کی ہے۔ خصوصاً قابلِ ذکر احباب یہ ہیں:

    (1) جناب قاری عبد الرحمن سعید صاحب بی اے، جو ایک اچھے ادیب اور اہلِ قلم ہیں۔ ان کے قیمتی مشورے بہت سودمند ثابت ہوئے۔
    (2) خواجہ محمد احمد صاحب ایم اے، ایل ایل بی، وظیفہ یاب ناظم آثارِ قدیمہ، جو بعض سفروں میں ساتھ رہے اور اپنے وسیع معلومات اور قدیم کتابوں کے حوالے فراہم کرتے رہے۔
    (3) خواجہ حمید احمد صاحب بی اے، ڈپٹی سیکرٹری (وظیفہ یاب)، جن کے مشورے اور ملی مسائل کارآمد ثابت ہوئے۔

    میں ان سب احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کی صحت و ترقی کا متمنی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

    جلد سوم، جس میں قرائے حال کا تذکرہ ہے، زیرِ طبع ہے۔ ان شاء اللہ جلد منظرِ عام پر آئے گی۔

    ان تینوں جلدوں میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر موجودہ دور تک کے قراء کا ذکر آ گیا ہے۔ میں نے ان سے ملاقات کر کے ان کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ جن قراء تک میری رسائی نہ ہو سکی، ان سے معذرت خواہ ہوں۔ اگر ایسے قراء یا ان کے دوست میری معاونت فرما کر ان کے حالات سے مطلع کریں تو ان شاء اللہ آئندہ ان کو بھی شامل کر لیا جائے گا۔

    تذکرہ قراء کے ساتھ تاریخِ قراءت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے قراء سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مساعی و حالات سے واقف ہونا ہر قاری کے لیے ضروری ہے۔ جلد اول میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔

    ان حالات و واقعات کو پڑھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہندوستان میں قراء نے خاطر خواہ خدمتِ قرآن نہیں کی۔ میرا مقصد بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔

    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین
    خادمِ قراء
    مرزا بسم اللہ بیگ