-
ZULFIQAR ALI BHUTTO KA MUQADMA QATAL BY MURTZA ANJUM ذولفقار علی بھٹو کا مرتضی کا مقدمہ قتل
ZULFIQAR ALI BHUTTO KA MUQADMA QATAL BY MURTZA ANJUM
مصنف مرتضی انجم ،ذولفقار علی بھٹو کا مرتضی کا مقدمہ قتل
-
پاکستان میں فوجی حکومتیں،مصنف مرتضی انجم
Pakistan Mein Fuji Hukumaten By Murtza Anjum
Pakistan Mein Fuji Hukumaten By Mutza Anjum
پاکستان میں فوجی حکومتیں :مرتضی انجم
پاکستان میں مارشل لاء کی تاریخ
You visit this website and buy books in PDF and Kindle at a very low price compared to Amazon and other bookshops. Let it be clear that this website is free for books. You buy books from this website and support our mission. Financial support. The purpose of this website is to unite libraries around the world and create a digital catalog of the books in them and make the rare manuscripts scanned and made available in PDF and Kindle format for the service of scholars.
Go ahead and support us in this mission.OTher Libarary Links
Knoozedil Blog
-
پھر مارشل لاء آ گیا:پروفیسر غفور احمد
Phir Martial Law aa gia by Prof. Ghafoor Ahmad
پھر مارشل لاء آ گیا:پروفیسر غفور احمد
Phir Martial Law aa gia by Prof. Ghafoor Ahmad
-
تاریخ اماکن لاہور, مصنف ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی,Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
Tārīḵẖ-i imākin Lāhaur, Ḍākṭar Muḥammad ʻAbdullāh Cag̲h̲tāʼī
-
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
نیسلن منڈیلا مصنف مرتضی انجم
11 مئی 1994ء کے سورج کے طلوع ہونے سے اس تاریک براعظم(افریقہ) کا آخری تار یک گوشہ بھی روشن ہو گیا اور رنگ ونسل کی وہ دیوار برلن جو جبر و استحصال کی مضبوط چٹانوں سے تعمیر کی گئی تھی بالآخر مسمار ہو گئی ۔ کل کے باغی حریت پسند اور ضمیر کے قیدی نیلسن منڈیلہ نے جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم آلود ہو گئیں ۔ حلف برداری کی تقریب کا یہ تاریخ ساز منظر دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت پر بیٹوریا کی یونین بلڈنگ میں موجود تھے۔ اس تاریخ ساز واقعے کے بعد جنوبی افریقہ میں 300 سال بعد غیر نسلی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں افریقن نیشنل کانگرس کی کامیابی نے اس ملک سے اس سفید فام تسلط کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جس سے نجات حاصل کرنے کے لئے سیاہ فام اکثریت کو طویل جد و جہد کرنا پڑی۔ بے پناہ مظالم اور آمریت کا سامنا کرنا پڑا۔75 سالہ نیلسن منڈیلہ جب جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے تھے اس وقت گلیوں اور بازاروں میں لوگ جشن منا رہے تھے ، ناچ رہے تھے اور گا رہے تھے ۔ آج وہ آزاد تھے اور وہ خوش کیوں نہ ہوں کہ آزادی کے یہ ترانے انہیں نیلسن منڈیلہ ہی نے سکھائے تھے۔ نیلسن منڈیلہ کا صدر کے عہدے پر فائز ہونا دنیا کی سیاسی تاریخکا ایک بڑا واقعہ تھا۔ نیلسن منڈیلہ 18 جولائی 1918 ء کو متاتا کے قریب ہمبو قبیلے کے سردار خاندان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے طالب علمی ہی کے زمانے میں سیاست میں قدم رکھا۔اس کتاب میں آپ کی کامیابی کی مختصر روداد بیان کی گئی ہے۔


























