Showing all 13 results

  • Ahad-e-Nabvi Ka Taleemi Nizam | عہد نبوی کا تعلیمی نظام

    Ahad-e-Nabvi Ka Taleemi Nizam | عہد نبوی کا تعلیمی نظام محمد یاسین شیخ کی ایک اہم اسلامی و تحقیقی کتاب ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کے دور کے تعلیمی نظام، تدریسی اصول، تربیتی طریقوں اور اسلامی معاشرے کی علمی بنیادوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

    یہ کتاب اسلامی تعلیم، سیرت النبی ﷺ، دینی تربیت، مدارس کے نظام اور اسلامی معاشرتی اصلاح کے موضوعات پر گہری معلومات فراہم کرتی ہے۔ مصنف نے عہد نبوی ﷺ کے تعلیمی ماحول، صحابہ کرامؓ کی علمی تربیت، مسجد نبوی کے کردار اور قرآن و سنت کی روشنی میں تعلیم کے اصولوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

    یہ کتاب اسلامیات، سیرت، دینی تعلیم اور اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے نہایت مفید ہے۔

  • Aik Ankh Wala Dajjal | ایک آنکھ والا دجال

    “Aik Ankh Wala Dajjal” is an insightful and research-based book authored by Dr. Gohar Mushtaq. The book analyzes contemporary global phenomena, mass media, modern ideologies, and geopolitical events in the light of Islamic eschatology (End Times) and prophecies regarding Dajjal (the Antichrist). The author meticulously connects current world affairs with religious texts to awaken readers spiritually and intellectually. It is a must-read for those interested in Islamic studies, comparative religion, and end-times analysis

    جدید دجالی نظام کی جڑوں کی آبیاری مغرب کے ایسے مفکرین اور سائنسدانوں نے کی جو خدا کی ذات سے بیزار اور مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے۔ ڈارون (Darwin) کی فکر جو کہ مغربی عمرانی علوم کی بنیاد بنی کے مطابق انسان کا ارتقاء بندر سے ہوا اور انسانوں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں۔ کارل مارکس (Karl Marx) اور ایڈم سمتھ (Adam Smith) نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ انسان کے تمام اعضائے رئیسہ میں سے ان کا مطمح نظر صرف اور صرف اس کا معدہ ہونا چاہیے۔ فرائڈ (Sigmund Freud) نے انسانیت کو جنس پرستی کا پیغام دیا۔ لیکن دجالی نظام کی جڑوں کو مضبوط کرنے والے اکثر مفکرین کا انجام بہت برا ہوا۔ کارل مارکس انتہائی مایوسی اور کسمپرسی کی حالت میں مرا۔ فرائڈ کی ہر چیز کی جنسی تعبیر سے تنگ آکر اس کے سب سے قابل شاگرد اور مستقبل میں متوقع جانشین کارل ینگ (Carl Jung) نے اپنے استاد کے نظریات سے توبہ کی اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    فرائڈ خود تمام عمر کوکین (cocaine) کا نشہ کرتا رہا اور مرنے سے کچھ پہلے اپنے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے اسے مارفین کے ٹیکے لگا کر ختم کر دیا جائے۔ یوں فرائڈ نے خودکشی کرلی۔ مشہور فرانسیسی فلسفی، اگسٹ کامتے (August Comte) جو کہ جدید سوشیالوجی کا بانی کہلاتا ہے، زندگی کے آخری سالوں میں ذہنی توازن کھو بیٹھا تھا۔ جرمن فلسفی شوپن ہار (Schopenhauer) بھی زندگی کے بیشتر حصے پاگل رہا۔ عظیم جرمن فلسفی نیٹشے (Nietzsche) جس نے اپنی کتاب (This Spoke Zarathustra) میں بانگِ دہل لکھ دیا تھا کہ (معاذ اللہ) “God is Dead” (خدا مرگیا ہے) اور پوری دنیا کے دجالی نظام میں یہ بات بہت سراہی گئی تھی۔ (امریکہ کے مشہور
    تصویر میں موجود متن درج ذیل ہے:
    رسالے (Newsweek) نے ۸ اپریل ۱۹۶۶ء کے شمارے میں یہ خبر اپنے فرنٹ کور پر شائع کی) وہی نیٹشے اپنی زندگی کے آخری دس سال پاگل رہ کر ۱۹۰۰ء میں خود مر گیا۔ دراصل ان “عظیم” ذہنوں نے اپنے خدا کو بھلا دیا تھا اس لیے خدا نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا کیونکہ خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
    (سورة الحشر: آیت ۱۹)
    (اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔)
    مسلمان کا گھر سب سے بڑا قلعہ ہے۔ مسلم کنبہ سب سے بڑی ڈھال ہے۔ ایک آنکھ والے دجال کے ایجنٹوں کا سب سے بڑا نشانہ مسلمانوں کا خاندانی نظام ہے۔ یہ ایجنٹ گھر گھر میں ٹی وی، انٹرنیٹ، کیبل، ڈش، آئی فون وغیرہ کے روپ میں گھس کر اس کے افراد میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ دوسری طرف سوسائٹی میں مخلوط تعلیم، ویلنٹائن ڈے جیسی رسومات، موسیقی کا فروغ وغیرہ کے ذریعے اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔
    اس کتاب کے مضامین میں انہی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے تمام مضامین میں ایک مقصدی ربط پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا موضوع ایک ہی ہے یعنی دجال اور اس کے ایجنٹوں کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ باطل کے کُلے کو پست کرے اور حق کے کُلے کو سر بلند فرمادے۔ (آمین)۔
    حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
    آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
    ڈاکٹر گوہر مشتاق
    کیلیفورنیا – 2012ء
  • Allah Ki Madad Kyun Nahi Rahi? | اللہ کی مدد کیوں نہیں آ رہی؟

    دو: “اللہ کی مدد کیوں نہیں آ رہی؟” ڈاکٹر گوہر مشتاق کی لکھی ہوئی ایک انتہائی فکری اور اصلاحی کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس اہم اور دردناک سوال کا جائزہ لیا گیا ہے کہ عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کو کیوں آزمائشوں، مشکلات اور غیبی نصرت سے محرومی کا سامنا ہے۔ مصنف نے قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور تاریخی تناظر کی روشنی میں ہماری اجتماعی کوتاہیوں، دینی و اخلاقی کمزوریوں اور اسلامی تعلیمات سے دوری کا محاسبہ کیا ہے، اور اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دوبارہ عروج حاصل کرنے کے لیے عملی لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ فکری بیداری اور اصلاحِ احوال کے خواہاں قارئین کے لیے یہ ایک انتہائی مفید کتاب ہے۔

  • Exodus: Tales of Prophet Moses (Musa) & Prophet Haron (Aaron)

    Exodus: Tales of Prophet Moses (Musa) & Prophet Haron (Aaron) presents an in-depth exploration of the lives, missions, and trials of two of Islam’s most revered prophets. Based on accounts from the Holy Qur’an, Hadith literature, and classical Islamic historical texts (such as Ibn Kathir’s Qisas al-Anbiya), this narrative chronicles the liberation of Bani Israel (the Children of Israel) from the tyrannical reign of the Pharaoh (Fir’aun).

    Key Story Arc & Detailed Narrative Chapters

    1. The Oppression & The Infancy of Musa (AS)

      • Pharaoh’s Decree: Fearing a prophecy that a male child from Bani Israel would cause his downfall, Pharaoh orders the slaughter of all newborn male infants.

      • The River Nile: Inspired by Allah, Musa’s mother places the newborn in a cast-iron/wooden chest and sets it afloat on the Nile.

      • Raised in the Enemy’s Palace: The chest is retrieved by the royal court. Asiya (Pharaoh’s righteous wife) protects the infant, and through Divine decree, Musa’s biological mother is brought into the palace as his wet nurse.

    2. Exile to Madyan & Prophethood

      • The Incident in Egypt: As a young man, Musa accidentally kills an Egyptian guard while defending an oppressed Israelite. Seeking repentance and fleeing execution, he travels to Madyan.

      • Life in Madyan: Musa helps the daughters of the righteous elder (traditionally identified as Prophet Shu’ayb), marries his daughter, and serves him for ten years.

      • The Blessed Tree at Mount Toor: On his return journey to Egypt, Musa sees a fire at Mount Sinai (Toor). Allah speaks directly to him, conferring Prophethood and granting him two major signs: his staff (* عصا ) turning into a serpent and his hand shining with radiant white light ( یدِ بیضاء *)

  • Hayat-ul-Haywan (Jild Awwal) | حیاتُ الحیوان جلد اوّل

    حیاتُ الحیوان جلد اوّل حیوانات سے متعلق ایک اہم کلاسیکی علمی و معلوماتی تصنیف ہے، جس میں مختلف جانوروں کے نام، اوصاف، عادات، خصوصیات اور ان سے متعلق دینی، تاریخی، ادبی اور لغوی روایات کو بیان کیا گیا ہے۔

    اس کتاب میں حیوانات کے تذکروں کو صرف ظاہری خصوصیات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان کے بارے میں قرآن و حدیث، عربی لغت، تاریخی روایات اور اہلِ علم کے اقوال سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حیاتُ الحیوان قدیم اسلامی علمی روایت میں حیوانات، لغت، ادب اور دینی معلومات کے امتزاج کی ایک نمایاں مثال ہے۔

    حیاتُ الحیوان جلد اوّل اسلامی علمی ورثے، کلاسیکی ادب، عربی و اسلامی لغت، حیوانات سے متعلق قدیم معلومات اور مذہبی روایات کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے ایک مفید حوالہ جاتی کتاب ہے۔

  • Ikhtilaf-e-Ummat Aur Sirat-e-Mustaqeem | اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم

    Ikhtilaf-e-Ummat Aur Sirat-e-Mustaqeem | اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی ایک معروف علمی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں امتِ مسلمہ کے مختلف فقہی، مسلکی اور فروعی اختلافات کا جائزہ لے کر اعتدال، رواداری اور صراطِ مستقیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد اختلافی مسائل میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اہلِ علم کے منہج اور امت کے اکابرین کے طرزِ فکر کو واضح کرنا ہے۔

    مصنف نے مختلف فقہی مکاتبِ فکر، اجتہادی اختلافات اور دینی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن و سنت، ائمۂ مجتہدین اور سلفِ صالحین کے اقوال کی روشنی میں اعتدال پسند نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ کتاب میں اتحادِ امت، باہمی احترام، علمی اختلاف کے اصول اور دینی ہم آہنگی کے موضوعات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

    یہ کتاب اسلامیات، فقہ، اختلافی مسائل، مکاتبِ فکر، دینی مناظرات اور اسلامی فکر کے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، علماء اور محققین کے لیے نہایت اہم ماخذ ہے۔

  • Maqamat-e-Awliya-ullah | مقاماتِ اولیاء اللہ

    مقاماتِ اولیاء اللہ دراصل امام جلال الدین السیوطی کی تصنیف “الخبر الدال علی وجود القطب والاوتاء والنجباء والابدال” کا سلِس اردو ترجمہ ہے، جس میں قطب، اوتاد، نجباء اور ابدال کا ثبوت احادیث، آثار اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
    یہ کتاب اولیاء اللہ کے درجات، تصوف کے کلاسیکی تصورات اور صوفیائے کرام کے مقامات کو مستند دینی دلائل اور روایات کے ساتھ واضح کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ صوفی ازم، تصوف کے اصولوں اور اولیاء اللہ کے مناصب سے متعلق مستند علمی و تحقیقی معلومات فراہم کرتی ہے۔
    مقاماتِ اولیاء اللہ طلبہ، محققین، صوفی ازم کے شائقین اور اسلامی تصوف و روحانیت سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی کتاب ہے۔

  • Mazhab Aur Batini Taleem | مذہب اور باطنی تعلیم

    Mazhab Aur Batini Taleem | مذہب اور باطنی تعلیم اردو زبان کی ایک اہم علمی، فکری اور فلسفی تصنیف ہے، جسے ممتاز دانشور، ماہرِ تعلیم اور محقق مرزا محمد سعید دہلوی نے تحریر کیا۔ یہ کتاب مذہب، روحانیت، باطنی تربیت، اخلاقی ارتقاء اور انسانی شعور کے مختلف پہلوؤں پر گہرا اور تحقیقی مطالعہ پیش کرتی ہے۔

    مصنف نے مذہب کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے انسانی شخصیت کی تعمیر، روحانی بالیدگی، اخلاقی اقدار اور باطنی تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب میں مذہبی افکار، روحانی تجربات، تصوف، فلسفۂ اخلاق اور انسانی تربیت کے موضوعات کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ اردو فکری ادب کی نمایاں کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

    اس کتاب کو برصغیر کے علمی حلقوں میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی اور اسے اپنے دور کی اہم فکری تصانیف میں شمار کیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ کتاب مختلف جامعات میں نصابی حوالہ کے طور پر بھی زیرِ مطالعہ رہی۔

    یہ کتاب مذہب، فلسفہ، تصوف، اخلاقیات، نفسیات اور فکری مطالعات میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت اہم ماخذ ہے۔

  • Muslim Nojawano Ko Darpesh Sab Se Bara Masla | مسلم نوجوانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ

    “مسلم نوجوانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ” ڈاکٹر گوہر مشتاق کی لکھی ہوئی ایک اصلاحی اور فکری کتاب ہے۔ اس کتاب میں عصرِ حاضر کے نوجوانوں کو درپیش اخلاقی، معاشرتی اور نفسیاتی چیلنجز کا احاطہ کیا گیا ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے حل پیش کیے گئے ہیں۔ مصنف نے موجودہ دور کے فتنوں اور جذبات کی رو میں بہنے والے نوجوان طبقے کو صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے اور مضبوط اخلاقی کردار تشکیل دینے کے لیے انتہائی مفید اور عملی مشورے دیے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور نوجوان نسل کے لیے یہ ایک انتہائی ضروری اور رہنما کتاب ہے۔

  • Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume III

    Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume III is the third volume of the monumental Islamic classic authored by the renowned theologian, jurist, and spiritual reformer Al-Ghazali. In this volume, Imam Al-Ghazali delves deeper into the inner dimensions of faith, focusing on spiritual purification, self-discipline, sincerity, repentance, patience, gratitude, and the diseases of the heart.

    Recognized as one of the most important works in Islamic intellectual and spiritual history, Ihya Ulum al-Din masterfully combines Qur’anic teachings, Prophetic traditions, ethics, and practical spirituality. Volume III particularly emphasizes the refinement of character and the spiritual journey toward closeness to Allah, making it a foundational text in Tasawwuf (Sufism), Islamic ethics, and self-purification.

    This English translation by Mohammad Mahdi al-Sharif provides modern readers with access to the timeless wisdom of Imam Al-Ghazali, benefiting students of Islamic studies, researchers, scholars, and readers seeking authentic spiritual guidance.

    This digital edition is available in the Tooba Book Foundation Digital Library, offering readers free access to a vast collection of Islamic PDF books, classical Islamic literature, and scholarly resources online.

    Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume I
    Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume II
    Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume III
    Revival of Religious Sciences (Ihya Ulum al-Din) – Volume IV