-
Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم
Alfaz Ka Tilism | الفاظ کا طلسم اردو زبان، الفاظ کی تاریخ، ان کے معنوی ارتقاء اور لسانی پس منظر پر ایک منفرد اور اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد حسن قادری ہیں، جبکہ اسے معروف ماہرِ لسانیات اور لغت نگار ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مرتب و مدون کیا۔ کتاب 2022 میں شائع ہوئی اور اردو زبان و ادب کے حلقوں میں خاص توجہ حاصل کی۔
اس کتاب میں اردو، عربی، فارسی اور دیگر زبانوں سے اردو میں آنے والے الفاظ کی اصل، ان کے استعمال، تاریخی سفر اور معنوی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے الفاظ کی دنیا کو نہایت دلچسپ، تحقیقی اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری زبان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر رؤف پاریکھ، جو اردو کے ممتاز لغت نگار اور ماہرِ لسانیات ہیں، نے اس مسودے کو مرتب کرکے شائع کروایا۔ ان کے مطابق کتاب کا مسودہ محفوظ تھا جسے بعد ازاں الفاظ کا طلسم کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کیا گیا۔
یہ کتاب اردو زبان، لسانیات، علمِ اشتقاق، لغت نویسی، ادبیات اور زبان کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔
-
Baba-e-Urdu: Ahwal-o-Afkar | بابائے اردو: احوال و افکار
“بابائے اردو: احوال و افکار” مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کی حیات، خدمات، علمی و ادبی کارناموں اور فکری جہات پر ایک گہرا تحقیقی مطالعہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں بابائے اردو کی زندگی کے مختلف گوشوں، انجمن ترقی اردو کے لیے ان کی گراں قدر خدمات، اور اردو زبان کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں ان کی جدوجہد کو بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے طلبہ، محققین اور بابائے اردو کی سوانح سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی دستاویز ہے۔
مکمل کتاب حاصل کرنے کے لئے اس نمبر پر رابطہ فرمائیں
03065217406 -
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر
Deewan-e-Meer | دیوانِ میر اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر میر تقی میرؔ کے منتخب کلام کا ایک اہم اور معیاری انتخاب ہے، جسے معروف شاعر، ادیب اور محقق افضال احمد سید نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعے میں میرؔ کی غزلوں، اشعار اور منتخب تخلیقات کو جدید قاری کی ضرورت اور ادبی ذوق کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔
میر تقی میرؔ کو اردو غزل کا خداۓ سخن کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق، ہجر، انسانی جذبات، زندگی کی ناپائیداری، تصوف اور داخلی کیفیات کی نہایت مؤثر ترجمانی ملتی ہے۔ افضال احمد سید نے اس انتخاب میں میرؔ کے ان اشعار کو شامل کیا ہے جو اردو شاعری کی فنی، فکری اور جمالیاتی روایت کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ کتاب اردو شاعری، کلاسیکی ادب، غزل گوئی، تنقیدی مطالعے اور میر شناسی میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔
-
Farhang-e-Amsal | فرہنگِ امثال
فرہنگِ امثال اردو کے ممتاز محقق، ادیب اور ماہرِ زبان سید مسعود حسن رضوی کی ایک اہم لغوی و تحقیقی تصنیف ہے، جس میں اردو زبان میں رائج کہاوتوں، ضرب الامثال، محاورات اور عوامی تعبیرات کو جمع کرکے ان کی تشریح، مفہوم اور پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے محققین، طلبہ اور عام قارئین کے لیے ایک قیمتی حوالہ جاتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مصنف نے مختلف ادبی، تاریخی اور عوامی ذرائع سے امثال کو یکجا کرکے ان کے لسانی، تہذیبی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب میں شامل ضرب الامثال نہ صرف زبان کی خوبصورتی اور اظہار کی قوت کو نمایاں کرتی ہیں بلکہ برصغیر کی ثقافت، طرزِ زندگی اور اجتماعی دانش کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
فرہنگِ امثال اردو لغت، محاورات، ضرب الامثال، لسانیات اور تہذیبی مطالعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم اور مستند تحقیقی کتاب ہے۔
-
Gulzar-e-Naseem | گلزارِ نسیم
گلزارِ نسیم اردو ادب کی کلاسیکی مثنویات میں ایک نمایاں اور شاہکار تصنیف ہے، جس کے خالق پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ہیں۔ نسیمؔ کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے اور ان کی یہ مثنوی اردو زبان کی بہترین عشقیہ داستانوں میں شامل کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کی لطافت، محاورے کی شستگی، منظر نگاری کی دلکشی اور شعری حسن نے گلزارِ نسیم کو اردو ادب میں دائمی مقام عطا کیا ہے۔
اس مثنوی کی داستان فارسی ماخذ سے اخذ کی گئی، لیکن نسیمؔ نے اسے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت اور فنی مہارت کے ذریعے ایک منفرد ادبی شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ اردو کے معروف شاعر برج نارائن چکبست نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ “مثنوی نہیں کہی گئی بلکہ موتی پروئے گئے ہیں”۔ یہ تبصرہ اس کتاب کی ادبی عظمت کا بہترین اعتراف ہے۔
زیرِ نظر ایڈیشن کو اردو کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات رشید حسن خان نے مرتب کیا ہے، جس سے اس کتاب کی علمی اور تحقیقی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ گلزارِ نسیم اردو مثنوی، کلاسیکی شاعری، دبستانِ لکھنؤ اور ادبی تاریخ کے طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
-
Khirki Ke Us Paar: Corona Ke Shab-o-Roz | کھڑکی کے اُس پار: کرونا کے شب و روز
“کھڑکی کے اُس پار: کرونا کے شب و روز” معروف مصنفہ نعیم فاطمہ علوی کی ایک وقیع اور پُرتاثیر نثری تخلیق ہے جسے نیشنل بُک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب عالمی وبا (کووِڈ-19) کے دوران انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں، قرنطینہ کے شب و روز، تنہائی کے احساس اور اس غیر معمولی عہد میں رونما ہونے والے سماجی و نفسیاتی حالات کا احاطہ کرتی ہے۔ مصنفہ نے وبا کے ایام میں اپنے مشاہدات، ذاتی تاثرات اور گرد و پیش کی کیفیات کو ادبی چاشنی اور حساس دل کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ کتاب انسان کی بقا کی جدوجہد، خوف کے سایوں، باہمی رشتوں کی اہمیت اور بدلتی ہوئی دنیا کی سچی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب ہم عصر اردو ادب میں وبا اور قرنطینہ کی یادداشتوں، خودنوشت و مشاہداتی نثر کا مطالعہ کرنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے ایک بہترین اور منفرد دستاویز ہے۔
-
Khud Se Khuda Tak PDF | خود سے خدا تک
Khud Se Khuda Tak | خود سے خدا تک ناصر افتخار کی ایک روحانی اور فکری کتاب ہے جس میں انسان کی داخلی اصلاح، خود شناسی، روحانی بیداری اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ کتاب قاری کو نفس کی اصلاح، مثبت سوچ، اخلاقی تربیت اور روحانی سکون کی طرف راغب کرتی ہے۔ سادہ اور مؤثر اندازِ تحریر کی وجہ سے یہ کتاب اسلامی روحانیت، خودی کی پہچان اور ذاتی بہتری میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔
-
Kutub Khana | کتب خانہ
Library History, Book Culture & Literary Research | تاریخِ کتب خانہ، کتابی ثقافت اور ادبی تحقیق
کتب خانہ معروف صحافی، براڈکاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی کی ایک منفرد اور یادگار تصنیف ہے، جو دراصل بی بی سی اردو کے مشہور ریڈیو پروگرام “کتب خانہ” پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں برصغیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں موجود نایاب کتب خانوں، ذاتی ذخائرِ کتب اور علمی مراکز کا دلچسپ اور معلوماتی تعارف پیش کیا گیا ہے۔
مصنف نے کتابوں سے محبت کرنے والوں، محققین، کتب فروشوں اور علمی شخصیات سے ملاقاتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا کو قارئین کے سامنے رکھا ہے جو نادر مخطوطات، قدیم کتابوں اور علمی ورثے سے مالا مال ہے۔ کتاب کے چوبیس ابواب میں مختلف مقامات پر موجود نایاب کتابی ذخائر اور ان کی تاریخ کو دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
کتب خانہ صرف کتب خانوں کا تعارف نہیں بلکہ برصغیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا ایک زندہ دستاویز بھی ہے۔ کتابوں، لائبریریوں، مخطوطات، اردو ادب اور ثقافتی ورثے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ ایک نہایت قیمتی اور دلچسپ مطالعہ ہے۔
-
























