-
Kulyat Saaien PDF کلیات سائیں
پوٹھواری ادب، پوٹھواری بحرچار مصرعہ کے عظیم شاعر سائیں احمد علی ایرانی ایک عظیم شاعر تھے ۔پوتھواری ادب میں آپ کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہے ۔سائیں احمد علی کو منط عام پر لانے والے اکرم گجر، صدیق شعر خوان ،ماسٹر یسن، راجہ عابد اور دیگر پوٹھوار کے شعر خوان حضرات ہیں سائیں احمد علی ایرانی نے پوٹھواری علم و ادب کو وہ مرتبہ بخشا کہ آپ کے کلام کی گونج پوٹھوارسے نکل کر ہندکو ادب ،ڈھیٹ پنجابی پر بھی اسکے اثرات مرتب ہو ئے ۔ سائیں احمد علی ایرانی پر ہندکو ادب والوں نے خامہ فرسائی کی ہے اور سائیں کا عوامی تعارف اور خواص سے نکال کر عوامی شاعر بنانے والے پوٹھوار کے شعر خواں حضرات ہیں حقیقت یہ ہے کہ پوٹھوار کے شعر خواں حضرات نے جن شعراء کا کلام زیادہ پیش کیا ان میں ایک سائیں احمد علی ایرانی ہیں۔ سائیں احمد علی ایرانی کو سر آنکھوں پر بٹھانے والے اور سائیں کا پرچار کرنے والے اہل پوٹھوار ہی ہیں۔
-
la’alan de Kan/لعلاں دی کان
Mehrab Khawar (محراب خاور) is a distinguished poet whose poetry (شاعری) holds a prominent place in literature (ادب). I have been acquainted with his remarkable personality for the past ten years. It is said that a verse (شعر) is a reflection of a poet’s true self.
The philosophy (فلسفہ) and mysticism (تصوف) in Mehrab Khawar’s (محراب خاور) poetry contain unique symbols and deep meanings that set him apart from all other poets (except for great poets like Allama Iqbal (علامہ اقبال)). For instance, when Mehrab Khawar (محراب خاور) wrote about “Adam” (آدم), he depicted dust/clay (خاک) in such a way that every reader could vividly experience their own greatness (عظمت), rise and fall (بلندی و پستی), and the mysteries of creation (تخلیق), as if these were living images before them.Mehrab Khawar (محراب خاور) presents Adam from every era in the form of the eternal Adam (ازلی آدم). His spiritual poetry (روحانی شاعری) is reminiscent of how Allama Iqbal (علامہ اقبال) infused the essence of Rumi (رومی) into his work. His book “Lalaan Di Kaan” (لعلاں دی کان) is a literary masterpiece (ادبی شاہکار) that, when read with an open heart and mind, reveals that the poet has transcended his own existence into another spiritual (روحانی) form.He crafts pearls of wisdom (حکمت) from dark soil and presents them to the seekers of spiritual wisdom (عرفان). My prayer is that Allah Almighty (اللہ تعالیٰ), for the sake of Prophet Muhammad PBUH (سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم), elevates his thought-provoking verses (فکر انگیز کلام) and makes them a source of Sufism and Gnosis (تصوف و معرفت) for true seekers. Ameen (آمین).
Qazi Zia-ul-Haq Qazi (قاضی ضیاء الحق قاضی)
(Changa Mera (چنگا میرا), Gujar Khan (گوجر خان))
-
Lahore Say Yarqand By Mustansar Hussain Tarar
لاہور سے یارفند مصنف مستنصر حسین تارڑ
Lahore Say Yarqand By Mustansar Hussain Tarar
لاہور سے یارفند مصنف مستنصر حسین تارڑ
-
-
Maarif Hazrat Baha Uddin Zakariyyah Multani
ضرت شیخ الاسلام بہاء الدین زکریا ملتانی نے آج سے ساڑھے سات سو سال قبل شریعت و طریقت اور وعظ و نصیحت کا جو اسلوب اختیارکیا، تعلیم و تربیت اور تبلیغ دین کے لیے جو لائحہ عمل مرتب کیا، مبلغین اور مصلحین کے لیے جس ضابطہ اخلاق کو لازم ٹھریا، آج کی جدید دنیا اور ہمارے معتبر اور مؤثر دینی حلقے ، جملہ وسائل رکھنے کے باوجود اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں دینی پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری روایتی دینی تدریس اور قدیم خانقاہی نظام، عامتہ المسلمین کے لیے ان برکات کا باعث نہ ہے، جیسا کہ دو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ نے بھی انتہا پسندی، مسلکی محدد پرستی اور فقہی جنگ نظری ایسے عوامل کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ حضرت شیخ الاسلام فوت بہاء الدین زکریا ایسے صوفیاء کے نظام دعوت و تبلیغ کو اپنایا جائے کہ اس سے انسانی بستیوں کو سکون اور امن و آشتی کی دولت میسر آئے گی۔ زیر نظر کتاب ”معارف حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ” انہی جذبوں اور ولولوں کی آبیاری اور علمبرداری کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اپنی اس خصوصی کاوش کو شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا کے افکار ، حیات و تعلیمات اور اسلوب دعوت و ارشاد سے مزین کرنے کا شرف حاصل کیا جارہا ہے۔ اس علمی مجموعہ کے لیے نامور اہل علم وصاحبان فکر وفن نے اپنے گراں قدر مقالات عطا کیے، جن میں وطن عزیز کی معروف دانشگاہوں کے نامور متد نشین بھی شامل ہیں، جس پر محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب ان کا شکر گزار ہے۔ انکے گراں قدر مقالات سے بھی جو چیز بطور خاص مترشح ہوتی ہے ، وہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی کا اسلوب تعلیم و تربیت اور منہاج تبلیغ ہے، جس کے فیضان نے بر صغیر کے علاوہ جاوا، سماٹرا،انڈنیشیاء، فلپائن ،خراسان اور چین تک کے علاقوں کو منور کیا۔ آپ کی خانقاہ سے ملحق “مدرسہ بھائیہ “اپنے علمی تدریسی تحقیقی معیار اور روحانی میلان کے سبب دنیا میں ممتاز اور معتبر مقام کا حامل تھا۔ آج ہمارے معاشرتی اور دینی احوال ۔۔۔ خانقاہ کے اس حقیقی تصور کے متلاشی ہیں، جہاں صوفیاء کے آستانے تدریسی تربیتی اور روحانی فیضان کو عام کیے ہوئے ہوں۔
-
Malang Di Mala/ملنگ دی مالا
Sain Sardar Ali Sardar – Punjabi Sufi Poet
Sain Sardar Ali Sardar was a renowned Punjabi poet, belonging to the Bajwa family. He was born in 1922 in the village of Kakka Kolo, Wazirabad Tehsil, Gujranwala. His poetry is deeply rooted in Sufi thoughts, Malangi spirit, and spiritual themes. He holds a unique place in Punjabi literature and folk poetry.Sain Sardar Ali Sardar published four collections of poetry, reflecting his deep spiritual insight and devotion to the divine:- Zikr-e-Khair (ذکر خیر) – Punjabi Poetry
- Dhakhuda Dhuwan (دھخدا دھواں) – Poetry
- Malang Di Mala (ملنگ دی مالا) – Verses
- Malang Di Godri (ملنگ دی گودڑی) – Punjabi Kalam
His poetry remains immensely popular, especially among those who appreciate Sufi philosophy and Malangi themes. His words in Punjabi poetry continue to enlighten the hearts of seekers of divine love and truth. He is also known as the Kakka Kolo Poet and holds a significant place as a Wazirabad Punjabi Poet.
-
-
Mard-E-Darvesh:Sawan E Hayat Syed Sanaullah Shah Hazrat Maulana
Mard-E-Darvesh:Sawan E Hayat Syed Sanaullah Shah Hazrat Maulana
-
Mashhoor Siyasi Muqadmaat By Murtza Anjum
مشہور سیاسی مقدماتMashhoor Siyasi Muqadmaat By Murtza Anjum
-
Maulana Husain Ahmad Madani ka Mashoor Maqadma Karachi مولانا حسین احمد مدنیؒ کا مشہور مقدمہ کراچی
Maulana Husain Ahmad Madani ka Mashoor Maqadma Karachi
مولانا حسین احمد مدنیؒ کا مشہور مقدمہ کراچیمولانا حسین احمد مدنی ؒ برصغیر مشہور سیاسی رہنماؤں میں سے ہیں آپ محدث ومفسر صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے انگریز حکومت کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں آپ کے خلاف مشہور مقدمہ جسے عموما مقدمہ کراچی کہتے ہیں قائم ہوا جس میں مولانا محمد علی جوہر ؒ بھی آپ کے ساتھ تھے یہ کتاب اسی مقدمہ کی روداد پر مشتمل ہے۔
مولانا حسین احمد کون تھے؟Download




























