-
Hikmat al-Ishraq
حکمۃ الاشراق
از: شیخ الاشراق ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی
اردو ترجمہ مع خلاصئہ شرح:مرزا محمد ہادی
Hikmat al-Ishraq
Az: Sheikh al-Ishraq Abu al-Futuh Shahab al-Din Suhrawardi
Urdu Tarjuma ma Khulasa e Sharah: Mirza Muhammad Hadi
Hikmat al-Ishraq” (The Wisdom of Illumination) is a philosophical work attributed to Sheikh Shahab al-Din Suhrawardi, a Persian philosopher born in the 12th century. In this influential book, Suhrawardi presents his own philosophical system, which he termed “Ishraq” (illumination).
The central theme of “Hikmat al-Ishraq” revolves around the concept of light (ishraq), which symbolizes the divine source of knowledge and existence. Suhrawardi proposes a metaphysical framework where light represents the ultimate reality, and all existence emanates from this divine light.
The book encompasses various philosophical topics, including ontology, epistemology, cosmology, and ethics, all within the framework of Suhrawardi’s illuminationist philosophy. It integrates elements of Persian mysticism, Neoplatonism, and Islamic philosophy, offering a unique perspective on the nature of reality and human knowledge.
ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی
شہاب الدین یحیی ابن حبش بن امیرک ابوالفتوح سہروردی، المعروف نور الانوار، شہابالدین، شیخ اشراق، شیخ مقتول و شیخ شہید کی ولادت سہرورد میں 549ھ بمطابق 1154ءمیں ہوئی۔ آپ مشہور ایرانی فلسفی اور مکتب اشراق کے بانی تھے۔ آپ ایران کے صوبہ زنجان کے علاقے قیدار کے رہائشی تھے۔ آپ کی بعض فلسفیانہ اور صوفیانہ آرا کی وجہ سے علما وقت نے آپ کے قتل کا فتویٰ دیا۔ سلطان الظاہر غازی نے آپ کو قلعہ حلب میں مقید کر دیا اور وہیں آپ کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا- آپ کی تصانیف میں ’’حکمۃ الاشراق‘‘ بہت مشہور ہے، اس کے علاوہ ’’ التلویحات‘‘، ’’ھیاکل النور‘‘ اور ’’ المشارع والمطارحات‘‘ بھی آپ کی تصانیف ہیں۔ شیخ شہاب الدين عمر ابو حفص سہروردی بغدادی سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے آپ کے نام کے ساتھ ’’ صاحب حکمۃ الاشراق‘‘ لگایا جاتا ہے یا شیخ شہاب الدین یحییٰ سہر وردی لکھا جاتا ہے۔ آپ کی وفات 587ھ بمطابق 1191ء حلب، شام میں ہوئی۔
نوٹ : مترجم کو بھی مصنف کے نام میں مغالطہ ہوا ہے اسے”صاحبِ عوارف المعارف ” سے منسوب کر دیا ہے ۔ جبکہ حکمۃ الاشراق کے مصنف ابو الفتوح شہاب الدین سہروردی ہیں
-
Hints on Self-Help; A Book for Young Women PDF
Download Hints on Self-Help: A Book for Young Women – a classic guide focused on personal development, character building, and practical life advice for young women.
-
Historic Struggle for Pakistan (1857–1947
“Historic Struggle for Pakistan (1857–1947)” is a concise yet comprehensive booklet that highlights the salient features and major milestones of the Pakistan Movement. Originally authored in Urdu by Prof. Dr. Muniruddin Chughtai and later translated into English by Prof. R.A. Khan, the book presents a clear narrative of the Muslim freedom struggle in British India.
It vividly explains the Two-Nation Theory, the political struggle under the dynamic leadership of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, and the historical background that led to the creation of Pakistan.
This book is particularly valuable for students of Pakistan Studies and Indo-Pak History, as well as for general readers who wish to acquaint themselves with the details of the liberation movement carried out by the Muslims of South Asia.
-
History Of Science And Technology In Islam By: Fuat Sezgin
History Of Science And Technology In Islam By: Fuat Sezgin
-
Hoodie over men
₨35.00Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s.
-
Hoodie with slogan
₨99.00Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry’s standard dummy text ever since the 1500s.
-
Hosay PDF By Faisal Irfan ہوشے شاعر فیصل عرفان
۔…………….. سِٹھنیاں
فیصل عرفان کی تیسری کتاب “ہوشے” میں ان گیتوں کو جمع کیا گیا ہے جو ہمارے خطہ میں شادی بیاہ کی رسومات پر دلھا اور دلھن کے گھروں میں گائے جاتے تھے اور گائے جاتے ہیں۔ یہ گیت ادب کے اعلیٰ نمونے نہیں بلکہ سادگی، ہم دلی، خوشی، زندہ دلی اور کہیں کہیں دل لگی(چھیڑ چھاڑ) پر مشتمل ہیں۔ یہ لوک گیت حسبِ ضرورت و “حسبِ ذائقہ” ایجاد اور ترمیم کر لیے جاتے، ان کی شعری ہیئیت نہیں بلکہ سرشاری کی کیفیت اہم ہے۔
فیصل سے ملاقات زیادہ نہیں رہی ہے ان کی ادا میں انسان دوستی، ملن ساری اور ہم دلی ملتی ہے۔ فن کار برا انسان بھی ہو سکتا ہے، لیکن تب بھی اس کا فن دیکھا چاہیے۔ اس حالت میں ہم کہتے ہیں فن کار، قلم کار یا کاری گر تو عظیم ہے لیکن انسان اچھا نہیں ہے۔ اچھا انسان ممکن ہے اچھا فن کار نہ ہو لیکن برا انسان اور برا فن کار تو طبع کو نا گوار لگتا ہی ہے، اس کتاب کے بیان میں ایسا کچھ ارادتا یا ضرورتا نہیں ضمنا لکھا گیا ہے۔ فیصل چونکہ اچھے انسان بھی ہیں سو ایسوں کی تعظیم و توقیر کرنے میں بخل نہیں کیا۔
فیصل کی ایک کتاب ‘پرجہھات مہھاڑی انھی” پر تبصرہ نہیں کِیا.( فیصل کو میرے تبصرے کی حاجت بھی نہیں ہے) پہیلیوں کی اس کتاب میں بعض پہیلیاں ایسی تھیں جن میں بول و براز کا بھی ذکر تھا۔ ایک “نفیس” دوست نے اس پر بات بھی مجھ سے کی ۔ ادب میں ایسی کراہت آمیز باتیں بہت سوں کے لیے بہت سی وجوہ پر مبنی ہوتی ہیں، میں اپنا تہذیبی/ ثقافتی اثاثہ مرتب کرتا تو کیا میں ان “گونہہ موتر” پہیلیوں کو چھوڑ کر اچھی اچھی پہیلیاں جمع کرتا؟ کیا میں بچوں کے لیے ایسی قطع و برید حق پر سمجھتا کہ بچوں تک ہمارے عہد کی ہر اچھی شے پہنچے اور (میرے لیے) کریہہ اشیاء کو نکال باہر کیا جائے؟ میں نے اس پر بہت سوچا ہے اس پر ذہن الجھا ہے۔پھر یہ سمجھا ہے کہ مقبول عام جو کچھ بھی ہو اس پر ہم اپنی فکر و نظر کے مطابق تو تنقید کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کے “ادب” کو معاشرہ قبول کر لے تو ہمیں اس پر حکم عائد نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں پسند نہیں، ہم نہ کریں۔
اس موجودہ کتاب میں سٹھنیوں کی ایک صنف چار صفحات کو گھیرے ہوئے ہے.اس صنف میں عموماً لڑکے کی ماں دادی پھوپھی تائی چاچی بھائی خالہ وغیرہ یعنی خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس میں ان کے مردوں پر بھی ہنسی اڑائی جاتی پے۔ مجھے ان پہِیلیوں کی طرح ان سٹھنیوں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن یہ فیصل کو داد دینا پڑتی ہے کہ انھوں نے ہماری ثقافت کے ہر جزء کو پوری ایمان داری سے مجموعے کی صورت میں پیش کر دیا۔ فیصل کو مہینوں برسوں اس کاوش میں لگے ہیں، شاید__ شاید ہی کوئی جزء ان کی متلاشی، متمنی اور متجسس نگاہوں سے بچ سکا ہو۔ ایک مولف و مورخ کا یہی کام ہے کہ بلا کم و کاست معاشرتی رسومات، ادب و اخلاق کا حال بیان کر دے، مورخ اخلاق کا مبلغ نہیں ہوتا کہ اپنی فہم کے ترازو پر اچھی بری کا فرق کر کے معاشرے کو “سب اچھا” کی رپورٹ پیش کرے۔
تاریخ اور ہماری اختلافِ رائے بتاتی ہے کہ معاشرے میں سب اچھا نہیں ہوتا۔ تہذیب کا مطلب ہی بہتر کی تلاش اور بد تر کی تراش ہے۔ اس کو دوسرے رخ سے بھی دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اچھائی برائی ہر عہد، ہر علاقے اور ہر سماجی (اور انفرادی)ضمیر کے مطابق ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بھی اچھا برا ہماری علمی سطح کے مطابق ہوتا ہے۔ سٹھنیوں میں ۔۔۔۔۔ لیکن پہلے ہم سٹھنیوں کی ایک آدھ مثال دیکھیں تو پھر اس پر اظہار رائے بہتر سمجھ میں آئے گا۔ ایک سٹھنی ملاحظہ ہو :
دو ام پکے، دو نار__کالیاں باغاں نیں
“فلانی” کڑی نے یار
دو تھندار_دو ولدار
دو سپاہی_ دو مہھاڑے پہائی
سارا محلہ کیتا ای برباد___تیرہ تالنڑیئیں۔“فلانی” ایک نام کی جگہ میں نے ارادتاً لکھا ہے۔ ضرورتاً یہ نام ایک دوسرے سے “دل لگی” کی بنا پر بدل لیا جاتا ہے۔
ہماری روایتی شادی ارینجڈ میرج ہوتی تھی،اب بھی ہوتی ہے۔ اس میں تمام خاندان خوش اور راضی ہوتا تو ہی یہ شادی ممکن ہو پاتی، ہاں دلھا اور خصوصاً دلھن کی اپنی رضا والدین خصوصاً والد کی رضا ہوتی تھی(ہے)/ شادی دو انسانوں کے ملاپ کا نہیں دو خاندانوں اور بستیوں کے ملاپ کا معاملہ تھا۔اس میں پورا گاوں سسرال میں شمار ہوتا حتیٰ کہ شادی کی دوستیاں (دولھے کے دوست اور دولھن کی سہیلیاں) خاندان کا حصہ شمار کی جاتی تھیں۔ شادی کی تمام رسومات میں شریک ہر چھوٹا بڑا خوش ہوتا، اس خوشی کا اظہار رات کے پہلے حصے میں پرات۔ترامی، گھڑا، ڈھولکی کے بجنے اور عورتوں بچیوں کے گیتوں سے ہوتا تھا۔ عموماً شادی شدہ اور بڑی بوڑھیاں ان گیتوں کو خصوصاً سٹھنیوں کو گاتِیں، کہیں کہیں، بہت کم پیشہ ور گانے والا بابا بھی ڈھولکی بجاتا ان عورتوں کے ساتھ گاتا تھا۔
یہ سٹھنیاں باہم رضا مندی سے دی اور لی جاتی تھیں۔ یہ بے تکلف دوستوں جیسی چھیڑ چھاڑ تھی، کسی کو خصم کرا دینا یا کسی کا خصم رِچھ بنا دینا سنجیدہ معاملہ نہیں تھا۔ یعنی اجازت ہو تو کہوں کہ یہ توہین بلا ارادہ اور ہتک بالرضا تھی۔ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض کے لیے بالرضا والا معاملہ بھی گناہ میں شمار ہوتا ہے۔
ذاتی طور پر تمام ثقافت سے عقیدت ہے نہ نفرت۔ اپنی شادی پر ایسی کوئی رسم گھڑولی، مہندی وغیرہ نہیں ہوئی لیکن جب ارد گرد لوگ ان رسومات میں خوش ہوتے ہیں جو بے ضرر ہوں تو ان کی خوشی میں خوشی ہوتی ہے اور جب یہ رسومات ہم دلی اور دوستی میں اضافہ اور برکت لائیں تو خوشی دگنی تگنی ہو جاتی ہے، کہیں کوئی ہوشے کہے تو کورس میں شامل ہونا اچھا لگتا ہے، تاہم سٹھنیوں والا ادب میں بچوں کو سکھا نہیں سکتا، لیکن میں نے دونوں رخوں سے اس کو دیکھنے کی بھرپور کوشش ضرور کی ہے جیسا کہ درج بالا پیرے گواہ ہیں۔
ثقافت کو زندہ رکھنے والے بہت لوگ موجود ہیں، میں گرچہ ثقافت کو خوب، بد اور فضول کی تقسیم میں رکھ کر دیکھتا ہوں، اس لیے ثقافتی بقا و احیاء میں اپنا کوئی حصہ نہیں ہے۔ لیکن عوام و خواص کا حق ہے کہ وہ ثقافت کو زندہ رکھیں، اس میں کمی بیشی کریں۔ ثقافتی اقدار اور رسومات کو جمع کرنے والوں کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ان تمام رسومات و آداب کو زندہ رکھا جائے اور اپنی نئی نسل کو ان پر عمل کے لیے تیار کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کو محفوظ رکھا جائے تا کہ بعد میں آنے والے ان نشانات کو دیکھ کر سمجھ سکیں کہ انسان کا ذہنی, نفسیاتی، اخلاقی اور تہذیبی ارتقاء کس قدر ہوا یا نہیں ہوا ہے۔ میں دوسرے مقصد کی نظر سے اسے تکتا ہوں۔
اس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں. احمد کھیل رہا ہے اور اس کی آواز دور تلک جا رہی ہے۔ “کوئی ساوا چِیلا داجے ناں۔۔۔۔۔۔۔ ہوشے”۔ دو ہفتے ہوئے اس کے ذہن سے ہوشے نہیں نکلا۔یہ دیکھ کر یہ کہنا بجا ہے کہ ان سادہ گیتوں میں بہر حال یہ کشش ہے کہ سادگی ان کی طرف کھچی چلی آتی ہے۔ فیصل کی کتاب کے دوسرے پہلووں پر آئندہ کبھی بات ہو گی۔ ثقافت اور تہذیب, ہر دو کے طرف دار احباب کے لیے ان کی بھرپور کاوشیں مفید ہیں۔ان کی آمدہ کتاب (لوریوں پر مشتمل کتاب) اور بہت سی دوسری کتابوں کے لیے بہت نیک تمنائیں اور دعائیں ہیں۔
(🖋___ارشد انجم)
-
-
How To Draw Comics The Marvel Way
How to Draw Comics the Marvel Way teaches the basics of comic art, featuring tips on drawing dynamic characters, action, and storytelling from Marvel legends.
-
How to Live a Successful Christian Life PDF
How to Live a Holy Life by Charles E. Orr is a profound devotional guide that teaches believers how to live a successful, holy, and Christ-like life. The author emphasizes that humans are given only one life, and how we live it determines our eternal destiny.
This book highlights the importance of devotional reading, disciplined living, proper use of time, and following Jesus Christ as the perfect model of life. With deep spiritual insight, poetic reflections, and practical Christian guidance, this work inspires readers to live purposefully, influence others positively, and prepare for eternity.
Originally published in 1913 by Gospel Trumpet Company, this book remains relevant for Christians seeking spiritual growth, holiness, and a life fully pleasing to God.
-
FREE DELIVERY
When ordering from $500.



















